مضامین

نظام انصاف میں اصلاحات…محمد شریف شکیب

خبر آئی ہے کہ افریقی ملک سینیگال کی مرکزی جیل سے دس مرتبہ فرار ہونے والا ملزم ایک بار بھر جیل توڑنے میں کامیاب ہوگیا۔ 32سالہ بائے مودو فال کو فرار ہونے کا ماہرقرار دیا جاتا ہے۔فال دارالحکومت ڈاکار میں جیل کی کوٹھری کے گرل توڑتے ہوئے دیوار پھلانگ کر فرار ہوگیا۔جیل توڑنے کے بعد وہ ایک مقامی ٹی وی چینل کے دفتر پہنچ گیا۔ٹی وی چینل کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ انھیں مقدمہ شروع ہونے سے پہلے پولیس حراست میں لیتی ہے ملک کا قانونی عمل مکمل ہونے اور انصاف ملنے میں بہت زیادہ وقت لگ رہا ہے اور وہ اپنا قیمتی وقت جیل کی کوٹھری میں ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ اس لئے انہوں نے معاملات خود اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ دن ہو یا رات کسی بھی وقت قیدسے فرار ہو سکتا ہے۔انہوں نے انٹرویو میں یہ یقین دہانی کرائی کہ مقدمے کی سماعت کی تاریخ طے ہونے پروہ خود عدالت پہنچ جائیں گے۔فال کے فرار ہونے پر جیل کے سربراہ کا بھی تبادلہ کر دیا گیا۔ فال پر عائد الزامات سے متعلق ان کے وکیل نے بتایا کہ فال کو کئی بار مقدمات میں قید کیا گیا مگر تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔افریقی قیدی کے جیل توڑنے اور ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویوکا ذکر کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنی جیلوں میں برسوں سے سڑنے والے قیدیوں کو فرار ہونے پر اکسا رہے ہیں۔بائے مودو فال نے اپنے ملک کے نظام انصاف سے بغاوت کی ہے۔کیونکہ انصاف کرنے میں تاخیر کا مطلب انصاف کرنے سے انکار ہے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ کسی ملزم کو پکڑنے کے چوبیس گھنٹوں کے اندر اس پر الزامات پر مبنی چالان عدالت میں پیش کیا جائے عدالت ملزم کو اپنی صفائی پیش کرنے کا ایک موقع فراہم کرے اگر وہ عدالت کو مطمئن نہ کرسکے تو اسے سزا سنائی جائے۔ اس کام میں زیادہ سے زیادہ ہفتہ دس دن لگ سکتے ہیں۔ مگر پاکستان سمیت دنیا کے تقریباًتمام ترقی پذیر ملکوں میں پولیس تفتیش اور انصاف کی فراہمی کے نظام میں سقم موجود ہے۔ معمولی نوعیت کے مقدمات کا فیصلہ آنے میں برسوں لگ جاتے ہیں آج بھی ہمارے ملک کی جیلوں میں ایسے ہزاروں قیدی موجود ہیں جو سزا پوری کرنے کے باوجود ضمانتی نہ ملنے کی وجہ سے سلاخوں کے پیچھے زندگی کے دن گن رہے ہیں۔ دس پندرہ سال قید میں گذارنے والا جب عدالت سے باعزت بری ہوجائے تو اس کی زندگی کا ایک چوتھائی حصہ جیل میں ضائع ہوچکا ہوتا ہے۔ دیوانی مقدمات کے فیصلے آنے میں پچاس ساٹھ سال لگ جاتے ہیں۔دادا اپنی جائیداد پر قبضے کے خلاف عدالت جائے تو پوتے اور پڑپوتے کے دور میں ایک عدالت سے فیصلہ آجاتا ہے۔ اس کے خلاف دوسری عدالت میں اپیل اور پھر تیسری عدالت سے نظر ثانی کی درخواست کا فیصلہ آنے میں مزید دو عشرے لگ جاتے ہیں۔ اعلیٰ عدالتوں کے ججوں نے بھی تفتیشی نظام اور نظام انصاف پر بار ہا سوالات اٹھائے ہیں۔ قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہوتا ہے عدالتیں اس کی تشریح کرتی ہیں۔ موجودہ حکومت نے اپنے منشور کے مطابق مختلف اداروں میں اصلاحات کا عمل شروع کردیا ہے سب سے پہلی توجہ نظام انصاف اور پولیس و قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے تفتیشی نظام میں اصلاحات پر دینے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو بلاتاخیر، سستا اور فوری انصاف مل سکے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یہاں بھی کئی بائے مودو فال پیدا ہوں گے۔ جس سے معاشرے میں انتشار پیدا ہوگا۔ قانون شکنی کو لوگ اپنا حق سمجھنے لگیں گے جس سے سول نافرمانی کی سی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے۔ ادارے عوام کے لئے بنائے جاتے ہیں عوام کے ٹیکسوں سے پلنے والے ادارے جب عوام پر بوجھ بن جائیں تو جلد یا بہ دیر عوام اس کا حساب مانگیں گے۔ اس سے پہلے کہ عوام خود کرپٹ اداروں کا محاسبہ شروع کریں حکومت کو اپنے اداروں کا قبلہ درست کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔