تازہ ترین

صوبائی حکومت صوبے میں جرائم کی مکمل روک تھام اورعوام کو پرامن اورمحفوظ ماحول کی فراہمی کیلئے خطیر وسائل خرچ کررہی ہے

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبے میں جرائم کی مکمل روک تھام اور عوام کو پرامن اور محفوظ ماحول کی فراہمی کو اپنی حکومت کی اہم ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت اس مقصد کیلئے خطیر وسائل خرچ کر رہی ہے ۔ اُنہوں نے محکمہ پولیس کے تحت صوبے میں جاری منصوبوں کی ٹائم لائنز کے مطابق تکمیل یقینی بنانے کے لئے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے پرانے تھانوں اور دیگر پولیس انفراسٹرکچر کی تعمیر نو وبحالی کے سلسلے میں اگلے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کیلئے ایک امبریلا سکیم تیار کرنے کی بھی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ سکیم کے تحت منصوبوں پر مرحلہ وار عمل درآمد کیا جائے گاتاکہ صوبہ بھر میں پولیس انفراسٹرکچر کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے ۔ وہ وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں محکمہ پولیس کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔ سیکرٹری محکمہ خزانہ، محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے حکام ، ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ داخلہ ، ڈائریکٹر جنرل کوآرڈنیشن یونٹ محکمہ پولیس اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کو خیبرپختونخواپولیس کے جاری منصوبوں پر پیشرفت اور مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ صوبہ بھر میں محکمہ پولیس کے تحت 18 مختلف جاری سکیموں پر کام شروع ہے جن کا مجموعی طور پر تخمینہ لاگت ساڑھے سات ارب روپے سے زائد ہے ۔ ان سکیموں کے تحت مختلف ذیلی منصوبوںمیں 9 پولیس لائنز ، 4پولیس پوسٹس ، 31 پولیس سٹیشنز، 7 سی ٹی ڈی دفاتر ، 3 ٹریننگ سکولز ، 8 واچ ٹاورز ، 1 عدد ڈاگ سنٹر اور3 ہاسٹلز کا قیام شامل ہے ۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ضم شدہ اضلاع میں پولیس انفراسٹرکچر کے قیام کیلئے تیز رفتار عمل درآمد پروگرام کے تحت دو نئے منصوبوں پر کام جاری ہے ، جن کا تخمینہ لاگت8 ارب روپے سے زائد ہے ۔ منصوبوں کے تحت ضم اضلاع میں پولیس اسٹیشنز ، پولیس چیک پوسٹس وغیرہ کے قیام کیلئے 50 سے زائد ذیلی سکیموں پر پیشرفت جاری ہے ۔ ان اضلاع میں تھانوں کے قیام کیلئے درکار زمین کے حصول کیلئے 200 ملین روپے جاری کئے جا چکے ہیں۔ 1.267 ارب روپے ضم اضلاع میں پولیس کے تربیتی مقاصد کیلئے رکھے گئے ہیں۔ اب تک پولیس اہلکاروں کی تربیت پر 406 ملین روپے خر چ کئے جا چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کیلئے درکار اضافی فنڈز کی فراہمی سے اُصولی اتفاق کیا ہے اور کہا ہے کہ صوبائی حکومت محکمہ پولیس کے انفراسٹرکچر کی بہتری اور اس کی استعداد میں اضافہ پر خطیر وسائل خرچ کر رہی ہے جس کا اصل مقصد پولیسنگ کے مجموعی نظام کو عوام کی توقعات کے مطابق بہتر بنانا ہے ۔ اُنہوںنے ضم اضلاع میں پولیس انفراسٹرکچر کے قیام پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے اور تیار شدہ منصوبوں پر عملی کام کا اجراءیقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ صوبائی حکومت اس مقصد کیلئے درکار وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔