تازہ ترین

اکاہ،وزارت موسیماتی تبدیلی،ورلڈ ہابیٹاٹ ایوارڈز کاعالمی یوم ماحولیات کے موقع پر سیمینارکاانعقاد

کراچی(چترال ایکسپریس)آغاخان ایجنسی فارہابیٹا ٹ، وزارت موسمیاتی تبدیلی، حکومت پاکستان، ورلڈہابیٹا ٹ ایوارڈز اور اقوام متحدہ کے پر وگرام برائے ہابیٹا ٹ نے مشترکہ طور پر عالمی یوم ماحولیات
“World Environment Day” کے موقع پرایک بین اقوامی سیمینارکا انعقاد کیا۔سیمینارکا موضوع”Ecosystem Restoration for Quality of Life” ماحولیاتی نظام کی بحالی برائے بہتر معیار زندگی تھا۔ سیمینار میں وزارت برائے ماحولیاتی تبدیلی، اقوام متحدہ کے اداروں کے نمائندوں کے علاوہ سرکاری اور نجی سرکاری اداروں کے نمائند گان، ڈونرز،تعلیمی اداروں، میڈیا اور اے۔کے۔ڈی۔این (AKDN)کے نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ سیمینارعالمی یوم ماحولیات کے دیگر پروگرامز کاایک سلسلہ تھا جو 08 June 2021کو آن لائن منعقد ہوا۔

پاکستان کی حا لیہ کاوشوں کے اعتراف میں اقوام متحدہ کے اداروں نے اس دن کے انعقاد کی ذمہ داری پاکستان کو دی۔ اس سال اس دن کو منانے کا مقصد اس بات کو زیر بحث لاناتھا کہ زمین کی تباہ حال قدرتی ماحول کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے مختلف تجاویزکو زیر بحث لایا جائے۔ اس عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر اقوام متحدہ نے دس سالہ پروگرام برائے عالمی تحفظ ماحولیات برائے مفادعامہ کا آغازکیا۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی اور وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی، ملک امین اسلم نے اپنے پیغام میں کہا کہ”باوجود اس کے پاکستان کا گرین ہاوس گیس ایمیشنGreen House Gas Emission میں کردار ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سیپاکستان کا قدرتی ماحول اور لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ جسکی وجہ سے متواتر قدرتی آفات اور شدید موسمی حالات کا ہمیں سامناہے۔ حکومت پاکستان کی کوشش ہے کہ مضبوط لائحہ عمل جیسے کہ ”کلین گرین پاکستان“ پروگرام اور Ten Billion Tree Tsunami Programme، ایکوسسٹم کی بحالی اور بجلی پن گاڑیوں کے ذریعے منفی اثرات کو کم کرسکیں۔ حکومت پاکستان، ملک میں پہلے گرین بلڈنگ کوڈزBuilding codes تیار کر رہی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آغاخان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک اورUN-Habitat جیسی ایجنسیز بھی سر سبز اور خوشحال پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔“

سیمینار کے دوران، UN-Habitat، آغاخان یونیورسٹی، اے۔کے۔ار۔ایس۔پی (AKRSP)اور آغاخان ایجنسی فارہابیٹا ٹ(AKAH) کے نمائندوں نے، ایکوسسٹم کی بحالی اور پہاڑی علاقوں سے ساحلی علاقوں تک رہنے والی کمیونیٹیز کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اپنے تجربات اور کامیابیوں کا اظہار کیا۔

رافل ٹئٹ، ڈائریکٹر پروگرام ڈویژن، UN Habitat نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ ”ہم اپنی دنیا کے ماحولیاتی نظام کو تباہ کر رہے ہیں، اور کوویڈ۔19 وباء سے بھی ظاہر ہو اہے کہ ماحولیاتی نظام کی تباہی کے کس قدر سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ہمیں فوری طور پر اپنی طرز زندگی کو اور اپنے شہر کے ڈیزائن اور منصوبہ بندی کو تبدیل کرنا ہوگا۔ موسمی تبدیلی اور کوویڈ19کی وجہ سے بنیادی سہولیات تک رسائی مشکل اور محدود ہو چکی ہے۔ اس کے لیے ہمیں بہتر حکمت عملی کے ذریعے مقامی قدرتی وسائل تک لوگوں کی رسائی پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں مقامی سطح پر کیے گئے تجربات جس میں ماحول کی بحالی اور انسانی زندگیوں پر اس کے بہتر اثرات کو دنیا میں ایک بہترین تجربہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔“

اونورول، جنرل منیجر، آغاخان ایجنسی فارہابیٹا ٹ نے کہا کہ پہاڑی علاقوں میں رہنے والے لوگ سب سے زیادہ موسمی تبدیلی اور اس کے اثرات سے متاثر ہو رہے ہیں جیسا کہ گلیشیز کا پگھلنا اور غیر یقینی موسمی حالات اور سیلاب آنا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آغاخان ایجنسی فارہابیٹاٹ(AKAH) بہتر قدرتی ماحول اور اس کی بحالی کے لیے کمیونٹی کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ اس کا مقصد، لوگوں کو ماحول کی اہمیت سے آگاہی کے ساتھ ساتھ اسکی آفادیت سے آشنا کرنا ہے۔تاکہ لوگ نہ صرف ایک بہتر قدرتی ماحول میں رہیں بلکہ اس کے مثبت اثرات سے فائدہ اٹھا سکیں۔ ہم مستقل طور پر بہتر منصوبہ بندی کی ذریعے موجودہ خطرات کی نشاہدی کے ساتھ ساتھ ان اقدام پر بھی لوگوں سے مشاورت کرتے ہیں جن کے ذریعے وہ قدرتی آفات کے اثرات کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ مثبت پہلوؤں پر منصوبہ بندی کر کے مقامی سطح پر زندگیوں کو بہتر بنا سکیں “۔
ورلڈ ہابیٹاٹ ایوارڈز کے چیف ایگزٹیو ڈاریکٹر، ڈیوڈ آئر لیند نے کہا کہ آغاخان ایجنسی فارہابیٹاٹ(AKAH) کا کام اس لیے بہتر ہے کہ یہ موسمیاتی تبدیلی کے ردعمل پر کام کر تے ہیں۔بلکہ یہ وقت سے پہلے لوگوں پر اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ٹیکنالوجی اور علم کااستعمال کرتے ہو ئے اور لوگوں کو تیار کرتے ہیں۔ ان کے اس کام کی وجہ سے لوگ اس قابل ہو جاتے ہیں کہ وہ نہ صرف ان حالات میں رہتے ہیں بلکہ ان حالات کامقابلہ کرنا بھی جانتے ہیں۔یقینایہ سب سے بہترین طریقہ ہے۔جس میں خطرات میں گھرے ہوئے لوگوں کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ خطرات کامقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اثرات کو کم کرنے کے لئے مقامی سطح پراقدامات کر سکیں “۔

ماحولیاتی ایسٹیورڈشپ Environmental stewardshipآغاخان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک کی تمام ایجنسیز کے لیے ایک اسٹریٹیجکstrategic ترجیح ہے۔ آغاخان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک AKDN ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور بحالی کے لیے حکومتی اداروں، ترقیاتی تنظیموں اور مقامی کمیونٹیز کے ساتھ مل کر لوگوں کی معیار زندگی کو بہتر بنانے پر یقین رکھتی ہے۔

ٓآغاخان کونسل برائے پاکستان کے صدر، حافظ شیرعلی نے سیمینارسے خطاب کرتے ہوے کہا کہ”موسمیاتی تبدیلی کے اثرات خاص طور ان علاقوں میں بڑھ گئے ہیں جہاں آغاخان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اور ان تبدیلوں کی نتیجے میں قیمتی جانوں اور معیشت کا نقصان ہو ا ہے۔AKDN ماحولیاتی نظام اور خطرات کو کم کرنے اور لاکھوں لوگوں کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ ہم ماحول کے تحفظ اور آفات کی تیاریوں کے لیے الگ جامع نقطہ نظر اپناتے ہیں۔“

نواب علی خان، چیف ایگزٹیوآفسر، آغاخان ایجنسی فارہابیٹاٹ(AKAH)،نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ” آغاخان ایجنسی فارہابیٹاٹ، پاکستان کو اس بات پر بہت خوشی ہے کہ وہ آج حکومت پاکستان اور تمام مقا می، قومی اور بین الااقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر عالمی یوم ماحولیات منارہا ہے۔یہ ہمارے لیے اعزاز کا باعث ہے۔ کئی دہائیوں کے تجربے نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ صرف مل کر کام کرنے سے ہی ہم پاکستان اور عالمی سطح پر جو ماحولیاتی چیلنجز درپیش ہیں انکا مقابلہ کر سکتے ہیں اور قابو پاسکتے ہیں۔ انہوں نے مزیدکہا کہ ہمیں گلگت بلتستان میں 50ملین درخت لگانے، ان پودوں کے لیے پائیدار پانی کے نظام کی تعمیر اور ملک بھر میں Green Buildings کی تعمیر کے رہنما خطوط تیار کرنے کی پر جوش کوشش پرحکومت کے ساتھ شراکت کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔“

ٓآغاخان ایجنسی فارہابیٹاٹ، پاکستان دیگر اداروں کے ساتھ مل کر اس سیمینارکو منعقد کروانے کا مقصد نہ صرف اپنے مختلف تجربات اور کامیابیوں کوبیان کرنا تھا بلکہ لوگوں، علمی اداروں اور حکومت کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے اور ماحول کے تحفظ کو یقینی بنانے پر گفت و شنید کا موقع فراہم کرناتھا تاکہ دنیا کو ایک پائیدار ترقی کی طرف گامزن کرایا جاسکے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔