تازہ ترین

وزیر اعلیٰ محمود خان کے زیر صدارت محکمہ اعلیٰ تعلیم کااجلاس

پشاور(چترال ایکسپریس)خیبرپختونخوا میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو فروغ دینے کے لئے متعدد نئے کالجوں کے قیام پر کام جاری ہے۔ ان نئے کالجوں میں سے پندرہ کالجوں کے قیام پر کام مکمل کرلیا گیا ہے اور نئے تعلیمی سال کے شروع سے ان کالجوں میں کلاسوں کا باقاعدہ اجراءکیا جائے گا۔ علاوہ ازیں صوبے کے مختلف اضلاع میں 25 مزید کالجوں کے قیام کا عمل تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور اگلے مالی سال کے دوران ان 25 کالجوں کے قیام کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔ مجموعی طور پر اس وقت صوبہ بشمول ضم شدہ قبائلی اضلاع میں 63 کالجز زیر تعمیر ہیں جن میں 32 گرلز اور 31 بوائز کالجز شامل ہیں۔ علاوہ ازیں صوبے بھر میں 326 کالجوں میں ناپید سہولیات کی فراہمی پر بھی کام جاری ہے جن میں 145 فیمیل جبکہ 181 میل کالجز شامل ہیںs۔ یہ بات جمعہ کے روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منعقدہ محکمہ اعلیٰ تعلیم کے ایک اجلاس میں بتائی گئی۔ اجلاس کو محکمہ اعلیٰ تعلیم کے حکام کی طرف سے صوبہ بشمول ضم شدہ قبائلی اضلاع میں نئے کالجوں کے قیام پر اب تک کی پیشرفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اعلیٰ تعلیم کامران بنگش ، سیکرٹری اعلیٰ تعلیم محمد داو¿دکے علاوہ دیگر متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج جلوزئی ، گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج ترخہ، گورنمنٹ ڈگری کالج براو¿ل، گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج اوگی،گورنمنٹ ڈگری کالج کوہ دامان، گورنمنٹ گرلز ڈگر ی کالج ملا مبٹ، گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج پارہوتی، گورنمنٹ ڈگری کالج کوٹھا، گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج بانڈہ داو¿د شاہ، گورنمنٹ ڈگری کالج گندف، گورنمنٹ ڈگری کالج کوٹ، گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج بلی ٹنگ، گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج (ہوم اکنامکس) مردان، گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج ادنیزئی اور گورنمنٹ کالج آف مینجمنٹ سائنسز (ویمن) صوابی کے قیام کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر زیر تعمیر کالجوں پر کام زور و شور سے جاری ہے جن میں سے 25 کالجز پر کام تکمیل کے آخری مراحل میں ہے جو اگلے مالی سال کے دوران مکمل کئے جائیں گے۔
صوبے میں نئے کالجوں کے قیام کے سلسلے میں اب تک کی مجموعی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جن نئے کالجوں کے قیام کے لئے زمین کی خریداری کے عمل میں رکاوٹیں درپیش ہیں ان رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کرنے کے لئے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ بیٹھ کر ضروری اقدامات اٹھائے جائیں اور ایک ہفتے کے اندر اندر اس طرح کے تمام معاملات حل کئے جائیں۔
وزیراعلیٰ نے محکمہ اعلیٰ تعلیم کے حکام کو مزید ہدایت کی کہ پہلے سے منظورشدہ نئے کالجوں کے قیام پر مقررہ ٹائم لائنز کے مطابق پیشرفت کو یقینی بنایا جائے جبکہ اگلے پانچ سالوں کے لئے صوبے کی آبادی کو درکار نئے کالجوں کے حوالے سے ایک جامع اسٹڈی کرکے رپورٹ مرتب کی جائے تاکہ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے کالجوں کے قیام کے لئے حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کی جائے۔ وزیراعلیٰ نے حکام کو مزید ہدایت کی کہ سرکاری کالجوں کے طلبہ کو ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کے لئے اگلے مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں ایک ایک اسکیم شامل کی جائے۔ لوئر دیر میں قائم یونیورسٹی کیمپس کو ایک مکمل یونیورسٹی درجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے متعلقہ حکام کو نئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں اس سلسلے میں ایک اسکیم شامل کرنے کی بھی ہدایت کی۔
انہوں نے محکمہ اعلیٰ تعلیم کے حکام کو ہدایت کی کہ دور دراز کے علاقوں میں طلبہ کی سہولت کے لئے وہاں پر قائم کالجوں میں مخصوص شعبوں میں ایم ایس کلاسز کے اجراءپر ہوم ورک مکمل کرکے ٹھوس تجاویز پیش کئے جائیں تاکہ دور دراز علاقون کے طلبہ کو یہ سہولت ان کے آبائی علاقوں میں میسر ہو اور عوامی وسائل کا بھی بہتر اور مو¿ثر استعمال یقینی ہو۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت جہاں پر ضرورت ہوگی وہاں پر کالج بھی بنائے گی ، یونیورسٹی بھی اور دیگر ادارے بھی قائم کرے گی لیکن محض سیاسی مقاصد کے لئے عوامی وسائل خرچ نہیں کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے حکام کو مزید ہدایت کی کہ صوبے میں قائم ہوم اکنامکس کالجوں میں دور جدید کے تقاضوں کے مطابق انفارمیشن ٹیکنالوجی اور بزنس منیجمنٹ کی کلاسوں کا بھی اجراءکرنے پر کام کیا جائے۔اعلیٰ تعلیم کے شعبے کی ترقی کو اپنی حکومت کی اہم ترجیحات کا حصہ قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت اس مقصد کے لئے خطیر وسائل خرچ کر رہی ہے جس کے نتیجے میں اعلیٰ تعلیم کا شعبہ مضبوط بنیادوں پر استوار ہو جائے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔