تازہ ترین

نئے مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کو حتمی شکل دینے کے سلسلے میں وزیر اعلی کی زیر صدارت تمام صوبائی محکموں کے مشاورتی اجلاسوں کا سلسلہ مکمل ہوگیا۔

پشاور(چترال ایکسپریس)نئے مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کو حتمی شکل دینے کے سلسلے میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت تمام صوبائی محکموں کے مشاورتی اجلاسوں کا سلسلہ مکمل ہوگیا۔مسلسل تین دنوں تک جاری رہنے والے ان مشاورتی اجلاسوں میں تمام محکموں کے مجوزہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کا الگ الگ جائزہ لیا گیا۔ صوبائی محکموں کے وزراء، چیف سیکرٹری ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور صوبائی محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں کے علاوہ محکمہ ترقی و منصوبہ بندی اور خزانہ کے متعلقہ حکام نے ان اجلاسوں میں شرکت کی۔ ان مشاورتی اجلاسوں میں اگلے صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام بشمول ضم اضلاع کے لئے تیز رفتار عملدرآمد پروگرام میں شامل کرنے کے لئے تمام محکموں کے مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کی مجموعی لاگت اور دیگر امور کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ان مجوزہ منصوبوں کو سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے اور بعض ضروری ردوبدل کے ساتھ ان کے لئے نئے ترقیاتی بجٹ میں فنڈز کی تخصیص کو بھی حتمی شکل دے دی گئی۔ ان مشاورتی اجلاسوں میں اگلے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیے جانے والے مجوزہ نئے منصوبوں کے علاوہ جاری ترقیاتی منصوبوں کے لئے فنڈز کی تخصیص اور دیگر امور کا بھی بغور جائزہ لینے کے بعد اس سلسلے میں اہم فیصلے کئے گئے۔ صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور خصوصا تکمیل کے قریب منصوبوں کی تکمیل کو اپنی حکومت کی اہم ترجیح قرار دیتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ کا بیشتر حصہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لئے مختص کی جائے تاکہ آنے والے دو سالوں میں ان منصوبوں کی تکمیل یقینی ہو اور عوام بلا تاخیر ان ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات سے مستفید ہو۔ انہوں نے کہا کہ عوامی ضرورت کی بنیاد پر نئے ترقیاتی منصوبے بھی اگلے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگلے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں ایسے منصوبے شامل کئے جائیں گے جن کا عوام کی زندگیوں پر براہ راست اور فوری مثبت اثر پڑے گا، تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاہم کسی بھی شعبے کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ کورونا وبا کی وجہ سے درپیش مشکل مالی صورتحال کے باوجود ترقیاتی کاموں اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور نئے بجٹ میں عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کی جائے گی۔ وزیر اعلی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اگلا سالانہ ترقیاتی پروگرام حقیقت پسندانہ، صوبے کی معروضی حالات اور عوامی ضروریات سے ہر لحاظ سے ہم آہنگ ہونا چاہیئے۔اگلے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے صوبائی حکومت کے ترجیحی شعبوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ صحت، تعلیم، سیاحت، توانائی، آبی وسائل، زراعت، ہاوسنگ، آبنوشی، صنعت، شہری ترقی اور مواصلات صوبائی حکومت کے ترجیحی شعبے ہیں جن میں متعدد ترقیاتی منصوبوں کے لئے اربوں روپے مختص کئے جائیں گے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔