مضامین

پس وپیش ۔۔۔ یہ تو ہونا ہی تھا۔۔۔اے۔ایم۔خان

سال ۲۰۰۵ سے چند سال پہلے  اور اسکے بعد کا چترال  اب اکثر  لوگ یاد کرتے ہیں کیونکہ وہ جب شہر کی طرف سفر پہ نکلتے تھے تو  پیدل چلنے اور تکلیف اُٹھانے کا مرکز لواری ٹاپ کو سمجھتے تھے اب یہ حالت اپر چترال منتقل ہوئی ہے۔ اب اسکا مرکز ریشن شادیر ہے۔

 عالمی حدت کی وجہ سے برفانی تودے اور اُن کی پگھلاو میں ہوشروبا اضافہ نہ صرف دُنیا بلکہ ہندوکشن کے پہاڑی سلسلے میں جہاں بھی بڑے بڑے برفانی تودے موجود تھے ، اور جو لوگ نیچے آباد تھے،  وہ  بہت متاثر ہوئے ہیں جسمیں سنوغر، ریشن، گولین گول، شوغور گول،  وادی کیلاش اور لٹکوہ کے کئِ مقامات گلاف کے زد میں آچُکے  تھے اور ہیں جسمیں تباہی اب بھی مختلیف شکل میں موجود ہے۔  

سیلاب سے لوگوں کو   ذہنی کوفت اور  پریشانی کے علاوہ اُن کے مکانات، فصل، میوہ جات ، راستے، پائپ لائنز، نہر، اور جنگلات تباہ ہوگئے ہیں۔ بحالی کی مد میں  نہ صرف حکومت اور نجی اداروں سے لوگوں کو  امداد ملے  بلکہ لوگ ذاتی اور اجتماعی طور پر بحالی کے کام اب تک کرتے آرہے ہیں۔

گزشتہ چند سالوں سے دریائے چترال میں برف کی پگھلاو سے پانی کی مقدار میں زیادتی دیکھنے میں آئی ، اور طغیانی کی وجہ سے اس سے متصل مقامات جو بھی ہیں اُن میں بہت نقصانات ہوئے جسمیں خصوصاً جنالی کوچ، بمباغ، شوگرام،گرین لشٹ اور ریشن  وغیرہ شامل ہیں۔سیلاب کے بعد اب تک ریشن بجلی گھر سے بجلی بحال نہ ہوسکی۔

 گزشتہ رات کو ، رپورٹس کے مطابق ،  ریشن میں شادیر کے مقام پر قریب المنہدم راستہ دریا کی کٹائی سے ختم ہوگئ۔  گزشتہ ایک سال سے بالائی چترال اور گلگت کو ملانے والا  اہم راستہ منقظع ہونے کے حوالے سے سوشل اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے لوگ اپنے گزارشات اعلی حکام تک پہنچاتے رہے جسکی ناشنوائی ہوئی، اور انجام اب ریشن شادیر کے مقام پر روڈ دریا برد ہو نے کے علاوہ ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند ہو چُکی ہے۔ اور تو اور گاڑی کےاُس راستے کی اسطرح صفائی ہوئی ہے جس سے پیدل چلنے کی گنجائش بھی موجود نہیں۔

 اب، فرض کریں کہ جس روڈ کو دریا بُرد ہونے سے بچانے کیلئے ایک وقت میں  اگر ایک لاکھ روپے کی ضرورت تھی اب اس میں دس لاکھ کی لاگت آسکتی ہے۔

عوام اس بات پر حق بجانب ہے کہ وہ اپنی عرض داشت اپنے نمائندگان اور حکومت تک سوشیل اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے پہنچاتے رہے، اس یقین کے ساتھ کہ وہ حکام کو موجودہ اور پیدا ہونے والے حالات کے حوالے سے ذہن نشین کرلیں تاکہ تباہی سے بچا جا سکے جسمیں نہ صرف عوام ، اُس علاقے کے لوگوں اور حکومت کو نقصان ہو جاتی تھی۔ اگر حالات پر  حکومتی توجہ نہ ہوتو  حالات اُس نہج پر پہنچ جاتے ہیں جو اب ریشن میں ہو چُکی ہے۔  

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ریشن شادیر کے مقام پر چھ خاندان بے گھر ہوگئے ہیں اور کئی ایکڑ  اراضی دریا برد ہوگئی ہے اور اس میں مزید کٹائی کی گنجائش ہے۔ بالائی چترال اور گلگت کو ملانے والا راستہ ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند ہے، اور لوگ پیدل بھی اس مقام سے سفر نہیں کرسکتے کیونکہ اُوپر پہاڑ اور نیچے ایک گہری کھائی بن چُکی ہے۔

 یہ ہونا ہی تھا ہوگئ اب کیا ہوگا

 

  

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔