مضامین

وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب کے نام کھلا خط۔۔۔تحریر: ناصرعلی شاہ

نرسز کے بہتر مفاد میں ترامیم کے بجائے ٹاسک فورس پاکستان نرسنگ کونسل کو تجرباتی ادارہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے جو نرسنگ کے پیشے کو اندھیروں کی طرف لیجانے کے مترادف ہے۔

وزیراعظم صاحب ہمیں بھی ملنے کا موقع عنایت کرکے پیشے کے لئے کردار ادا کرنے کا موقع دیجئے.
وزیر اعظم کی جانب سے نرسنگ پیشے میں تبدیلی اور جدت لانے کی کوشش قابل قدر ہے۔ یہ خان صاحب کا وژن ہے۔ اس وژن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وزیراعظم نرسنگ پیشے کی ترقی کے لئے کتنے فکر مند ہیں۔ اسی غرض سے حکومت کی جانب سے نیشنل نرسنگ ٹاسک فورس بنائی گئی ہے جس کا تقریباً ایک سال سے زائد عرصہ ہوچکا ہے مگر ان کی قابلیت سے ابھی تک مذکورہ پیشے کو کوئی فائدہ نہیں ملا ہے۔ نرسنگ پروفیشن کے لئے کچھ کرنے کے بجائے اپنے مفاد کی خاطر تبدیلیاں لانے میں مصروف ہیں۔ جن شخصیات کی تعیناتی ہوئی ہے ان میں میڈم شاہین غنی پرنسپل کالج آف نرسنگ سرحد یونیورسٹی پشاور، میڈم رائیسہ گل ڈین نرسنگ کالج شفا انٹرنیشنل اسلام آباد، میڈم رفت جان ڈین نرسنگ کالج آغا خان یونیورسٹی کراچی اور مس ریحانہ الہی نرسنگ ڈیپارٹمنٹ شوکت خانم میموریل ہسپتال لاہور شامل ہیں۔ ان کی قابلیت پر نہیں بلکہ معذرت کیساتھ ان کی نیت پر شک ہے۔ بظاہر دیکھا دیکھا جائے تو یہ لوگ اعلی تعلیم یافتہ اور پڑھے لکھے لوگ ہیں مگر نرسز کے مفاد میں ابھی ایک فیصلہ بھی کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ ان کو پہلے اپنا مستقبل مظبوط کرنا ہے۔ اس لیے پہلے اجاداری قائم کرکے پھر کہی جاکر نرسز کے لئے فیصلہ کریں گے۔

پروفیشن کو مظبوط کیے بغیر نرسنگ کئیر کبھی بھی اچھا نہیں ہوسکتا۔ گھر بنانے کے لئے بنیادیں مظبوط ہونی چاہئے مگر یہاں بغیر بنیاد کے گھر بنانے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔

محترم وزیر اعظم صاحب!

آپ کی نیت پر ہمیں کوئی شک نہیں اور نہ آپ کے بنائے ہوئے فورس پر انگلی اٹھانا چاہتا ہوں مگر ان کی وجہ سے مستقبل میں اپ متنازعہ ہونگے اور کہا جائیگا کہ تبدیلی آپ نے کی ہے نرسنگ کئیر بہتر بنانے سے پہلے نرسز کے لئے بہترین نظام لانی ہوگی۔ 1973 ایکٹ ایک بہترین ایکٹ ہے اور اس کے زریعے نرسنگ پروفیشن کو اوپر لے جانے کے لئے بہت کچھ کیا جاسکتا تھا۔ ہم مانتے ہیں پاکستان نرسنگ کونسل میں کرپشن ہے نرسز کے مسائل حل نہیں ہو رہے۔ کوئی پالیسی لاگو کرانے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ وجہ صرف غیر پیشہ ورانہ لوگوں کو بٹھانا ہے۔ زمہ داری ایسے لوگوں کو دی جا چکی ہے جن کو پیشے کے بجائے دوسروں کی خوشنودی عزیز ہے۔ پالیسی مرتب کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی ہو رہی ہے۔ پاکستاں نرسنگ کونسل کی بربادی کے زمہ دار وہ تمام لوگ ہیں جو ابھی تک براجمان ہیں اور سال میں ایک مرتبہ پالیسی مرتب کرتے ہیں مگر وہ بھی لاگو کروا نہیں سکتے ہیں۔ احتساب کا نظام کو مظبوط بنانے کے لئے شق میں تبدیلی کرنی چائیے۔

محترم وزیر اعظم!

حال ہی میں آپ کی نیک نیتی اور پروفیشن کی ترقی میں کردار ادا کرنے کے لئے جو کمیٹی بنائی گئی ہے ان کی طرف سے بل بنایا گیا ہے جو پیشے کو آگے لیکر جانے کے بجائے کئی سال پیچھے لیکر جائیگا۔ اس میں پانچ نام ہیں جس میں دوبارہ غیر پروفیشنلز کو شامل کیا گیا ہے۔ واپس اسی طرف دھکیلنے کی کوشش ہے جہاں سے آپ نکالنا چاہتے ہیں۔

محترم وزیر اعظم صاحب!

حالیہ بل میں آپ کو پانچ ممبرز چننے کا اختیار دیا گیا ہے اور اس میں پرائیوٹ کالجز، اسکول سے ممبر لینے کی گزارش ہے مگر پرائیوٹ سکول و کالج والوں کی مہربانی سے نرسز کے لئے رولز ریگولیشن نہیں, سسٹم جام کرچکے ہیں اور اگر ان کو دوبارہ موقع مل گیا کو سرکاری ہسپتالوں میں نرسز کے لئے نطام بننے کے بجائے مزید تباہی ہوگی. سوشل ورکرز, بیزینس میں, فیلینتھراپیسٹ وعیرہ شامل کرنا نرسز پی ایچ ڈیز اور ماسٹرز کے منہ پر زوردار تمانچہ ہے اب اگر بیزینس میں کو لایا گیا تو وہ صرف کمائی کے پیچھے جائیگا اور نظام بننے سے پہلے ختم ہوگا اور متاثر مریض ہوگا اور افراتفری پھیل جائے گا. پاکستاں کے ہر صوبے سے پاکستان نرسز فیڈریشن کے تین ممبرز شامل کئے جاتے تھے اور یہ ممبرز الیکشن کے زریعے منتخب ہوتے تھے اور منتخب نمائندوں سے نرسز سوال جواب بھی کرتے ہیں جس کی بدولت بہتری ہے اب اس اختیار کو صوبے کی صوبدید میں دینے کا مطلب من پسند افراد کو نوازنے کے علاوہ کچھ نہیں۔

میرے محترم وزیراعظم!

نرسنگ پیشے کو مظبوط کرنے کے لئے ایکٹ میں ترمیم ضروری ہے مگر 1973 کے قانون کو ختم نہ کیا جائیں۔ نرسز کے اندر ماسٹرز اور پی ایچ ڈیز آچکے ہیں ان کو بھی فیصلوں میں شامل کیا جائے، ایکٹ کے مطابق ممبرز کے چناؤ کا اختیار چاروں صوبوں کے نرسز کو دیا جائیں تاکہ نرسز کے لئے بہترین پالیسی مرتب کی جاسکے اور نرسز مطمئن ہوسکے اور فائدہ مریضوں کو مل سکے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔