مضامین

وزیراعلیٰ خود سانحہ ریشن کا نوٹس لیں…محمد شریف شکیب

دریائے چترال کے کناروں میں کٹاؤ کے باعث ریشن کے مقام پر اپر چترال کا زمینی راستہ دریا برد ہوگیا اور پورا ضلع اپرچترال صوبے کے دیگر علاقوں سے کٹ گیا ہے۔ضلع بھر میں سڑک کی بندش کے باعث اشیائے خوردونوش اور ادویات کی قلت پڑنے کا اندیشہ ہے۔ دریا کے کٹاؤ سے ریشن میں دو درجن سے زیادہ رہائشی مکانات، باغات اور سینکڑوں ایکڑ زرخیز زمین بھی فصلوں سمیت دریابرد ہونے سے متاثرہ خاندان کھلے آسمان تلے کسمپرسی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اقلیتی امور وزیرزادہ نے متاثرین کے نام اپنے وڈیو پیغام میں باغات، فصلوں، زمینوں اور مکانات کی تیاہی پر متاثرین ریشن سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے صوبائی حکومت سے ریشن کو کٹاؤ سے بچانے کے لئے ڈھائی کروڑ روپے کے فنڈز کی منظوری لی تھی مگر ضلعی انتظامیہ کی سست روی اور لاپرواہی کے باعث حفاظتی پشتوں کی تعمیر کا کام بروقت شروع نہیں ہوسکا۔ جس کی وجہ سے ضلع اپر چترال کی رابطہ سڑک سمیت مزید نو مکانات اور زرعی اراضی تباہ ہوگئی۔ انہوں نے امدادی کاموں میں سرکاری مشینری کی سست روی پر متاثرین سے معافی بھی مانگ لی اور ضلع اپرچترال کی رابطہ سڑک کی بحالی اور متاثرین کی آباد کاری کے لئے ہنگامی اقدامات کی بھی یقین دہانی کرائی۔ ہمارے سرکاری دفاتر میں سارا کام ”تھرو پراپر چینل“ ہوتا ہے۔ صوبے کا انتظامی سربراہ وزیراعلیٰ بھی کسی معاملے کا نوٹس لے تو وہ چیف سیکرٹری کو ضروری کاروائی کے احکامات جاری کرتے ہیں۔ چیف سیکرٹری متعلقہ ڈویژن کے کمشنر تک وزیراعلیٰ کی ہدایات پہنچاتا ہے، کمشنر متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو ہدایات جاری کرتا ہے۔ ڈپٹی کمشنر اپنے ماتحت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کو نوٹس فارورڈ کرتا ہے۔ ایڈیشنل ڈی سی اسسٹنٹ کمشنر کو اور وہ اپنے ماتحت تحصیلدار کو ضروری کاروائی کی ہدایت کرتا ہے۔ تحصیل دار اپنی فرصت کے مطابق صورتحال کا جائزہ لیتا ہے۔ اور احکامات پر عمل درآمد کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور مشکلات کے بارے میں رپورٹ اے سی کو پیش کرتاہے۔ وہاں سے فائل مختلف دفاتر سے ہوتے ہوئے واپس وزیراعلیٰ آفس پہنچنے میں آٹھ دس مہینے لگ جاتے ہیں۔ ہنگامی صورتحال میں فوری امداد کی فراہمی کے لئے فوج، غیر سرکاری اداروں، فلاحی تنظیموں اور رضاکاروں پر انحصار کیا جاتا ہے۔ ریشن کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ سیلاب سے تباہی اور دریا کے کٹاؤ سے ایک چوتھائی ریشن کے دریا برد ہونے کا واقعہ ایک ہی رات میں پیش نہیں آیا۔ 2010میں ہولناک سیلاب سے 4.2میگاواٹ کا ریشن پاور ہاوس تباہ ہوگیا تھا۔ گیارہ سال گذرنے کے باوجود وہ بحال نہیں ہوسکا۔ 2014میں سیلاب نے پھر تباہی مچادی۔ اور سینکڑوں خاندان بے گھر ہوگئے جو آج بھی چھت کی سہولت سے محروم ہیں۔ دریا کے کٹاؤ کی وجہ سے ریشن کا زیریں علاقہ اڑیان دس پندرہ سال پہلے تباہ ہوا تھا۔ شادیر کے علاقے میں دریائی کٹاؤ سے رہائشی مکانات، باغات اور زرعی اراضی کی تباہی کا سلسلہ گذشتہ چھ سات سالوں سے جاری ہے۔ سیلاب اور دریائی کٹاؤ سے اب تک 80گھرانے مکمل طور پر بے گھر ہوچکے ہیں ان میں سے کچھ لوگوں نے نقل مکانی کرلی، کچھ اب بھی رشتہ داروں کے ساتھ قیام پذیر ہیں مگر کسی کو ان بے گھر افراد کی بحالی اور آباد کاری کا خیال نہیں آیا۔ اب جب پورے ضلع کا زمینی راستہ کٹ گیا تب صاحبان اقتدار و اختیار کے کانوں میں جوں رینگنے لگی ہے۔ وزیراعلیٰ محمود خان کا اپنا تعلق بھی ملاکنڈ ڈویژن سے ہے۔ وہ صوبائی وزیر اور ضلع ناظم کے عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں انہیں انتظامی مشینری کی کاہلی اور لاپرواہی کا بخوبی علم ہے۔ انہیں ریشن سانحے کا خود نوٹس لینا چاہئے۔ اور انہیں ضلع اپرچترال کے زمینی راستے کی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے ساتھ متاثرین ریشن کی متبادل مقام پر آبادکاری کے لئے اقدامات کرنے ہوں گے اور ریشن آپریشن کی خود وزیراعلیٰ ہاؤس سے مانیٹرنگ کرنی ہوگی۔ اگر تھرو پراپر چینل والی پالیسی اختیار کی گئی تو متاثرین کو ریلیف ملنے کا کوئی امکان نہیں۔ صوبائی حکومت کی طرف سے ریشن کو دریائی کٹاؤ سے بچانے کے لئے جاری فنڈ اب تک استعمال نہ ہونے کا بھی وزیراعلیٰ خود نوٹس لیں اور ذمہ دار سرکاری اہلکاروں کے خلاف کاروائی کے احکامات جاری کریں تاکہ قوم کی خدمت پر مامور قوم کے ٹیکسوں سے تنخواہیں اور مراعات لینے والوں اپنے فرائض منصبی کی دیانت داری، ایمانداری اور تندہی سے فوری ادائیگی پر قائل کیا جاسکے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔