تازہ ترین

کالاش ویلی بریر کے جنگل پشپوگول اور جنگل ژاژگا میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا،متاثرہ مقام پر آگ کے انگارے بدستور موجود ہیں

چترال (محکم الدین) کالاش ویلی بریر کے جنگل پشپوگول اور جنگل ژاژگا میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔ اور آگ کے شعلوں میں کمی آگئی ہے۔ تاہم متاثرہ مقام پر آگ کے انگارے بدستور موجود ہیں۔ اور کم مقدار میں آگ بھڑک رہی ہے۔ 34 ہیکٹر پر پھیلی اس آگ سے دیودار کے سینکڑوں دیو قامت درخت اور پودے جل کر خاکستر ہو گئے ہیں۔ اور اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس آگ کو بجھانے کیلئے کم پیمانے پر کوشش تین چار دنوں سے ہوتی رہی۔ لیکن جب آگ نے ایک وسیع ایریے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اور یہ قابو سے باہر ہو گیا۔ تو بریر، ایون و ملحقہ علاقوں تقریباً تین سو افراد، ریسکیو 1122 کی ٹیم، چترال پولیس، چترال لویز کے جوانوں اور محکمہ فارسٹ کے اہلکاروں نے ریسکیو میں حصہ لیا۔ اور آگ کو کنٹرول کرنے کیلئے متاثرہ مقام کے اردگرد خندق کھودی۔ تاکہ جل کر گرنے والے دیوقامت درختوں کے انگارے دور جانے نہ پائیں۔ اور دوسرے درختوں کو محفوظ بنایا جاسکے۔ جو کہ کامیاب رہی۔ اور آگ پھیلنے سے محفوظ رہا۔ تاہم مکمل طور پر آگ کو بجھانے کیلئے اب بھی کام اور وقت درکار ہے۔ آگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہ ہو سکی ہے۔ لیکن بیک وقت دو مختلف مقامات پر لگنے والی آگ نے سوالات کو جنم دیا ہے۔ کہ کیا ممکنہ طور پر تخریب کاری یا غفلت کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن اصل حقیقت تحقیقات کے بعد ہی واضح ہو جائے گی۔ محکمے کے ایک اہلکار نے بتایا۔ کہ اس حوالے سے ایک غیر معمولی اجلاس دروش میں منعقد ہوئی۔ جس میں انتظامیہ، محکمہ فارسٹ کے جملہ آفیسران نے شرکت کی۔ جس میں جنگل پشپو گول بریر کمپارٹ نمبر 16-15 اور جنگل ژاژگا میں لگنے والی آگ اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔ اور وجوہات کے بارے میں نتیجہ خیز تفتیش کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اور آگ کو مکمل طور پر بجھانے تک ریسکیو کاروائیاں جاری رکھنے اور آگ پر نگاہ رکھنے کے فیصلے کئے گئے۔ خدشہ ظاہر کیا گیا۔ کہ شام کے وقت تیز ہوائیں چلنے سے آگ دوبارہ بھی بھڑک سکتی ہے۔ حکومت نے جنگلات کی بے دریغ اور غیر قانونی کٹائی کو روکنے اور جنگلات کے تحفظ کیلئے کلوژر سسٹم متعارف کیا ہے۔ اس نظام کے تحت کمیونٹی کے ساتھ مشاورت سے نگہبان مقرر کئے گئے ہیں۔ جن کو محکمہ فارسٹ کی طرف سے فکسڈ تنخواہ دی جاتی ہے۔ اس نظام کے تحت جنگلات کی افزائش و فروغ میں بہت مدد ملی ہے۔ خصوصا نوزائیدہ قدرتی جنگلاتی پودوں کی افزائش حوصلہ افزا ہے۔ لیکن جنگلات سے استفادہ حاصل کرنے والے افراد جنگل کی اہمیت اور احتیاطی تدابیر سے لاعلم ہونے کی وجہ سے بعض اوقات ایسی غفلت و لاپرواہی کا ارتکاب کرتے ہیں۔کہ اس سے پوری قوم کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ کالاش ویلی بریر پشپو گول کے جنگل میں آگ لگنے سے صدیوں سے کھڑے دیو قامت دیودار کے درخت راکھ کا ڈھیر بن گئے ہیں۔ اور یہ انسانی غلطی کا ہی نتیجہ ہے. لوئر چترال کے 6796 مربع کلومیٹر رقبے پر صرف دو فیصد قدرتی جنگلات ہیں۔ اور اپر چترال قدرتی جنگلات سے محروم ہے۔ لیکن لوئر چترال کی 278434 اور اپر چترال کی 169434آبادی جن کی مجموعی تعداد 447800 بنتی ہے۔ مکانات و سرکاری تعمیرات پر ان ہی جنگلات پر انحصار کرتے ہیں۔ ایسے کم رقبے پر پھیلے جنگلات کے تحفظ میں غفلت برتنا سنگین غلطی کے مترادف ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔