تازہ ترین

بھیانک جرم…. تحریر:اقبال حیات اف برغذی

چترال کے ایک گاوں میں ایک فرزند ارجمند کا پھتر ماکر اپنی ماں کا سر لہولہان کرنے کا واقعہ قابل مذمت ہونے کے باوجود اپنی نوعیت کے لحاظ سے انوکھا معلوم نہ ہوا۔کیونکہ آج کی دنیا  میں پوری معاشرتی زندگی قساوت ،اخلاقیات سے عاری اور شرمناک کیفیات کا شکار ہے ۔آئے دن ایسے ایسے واقعات ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ جو درندے بھی ان کا ارتکاب کرتے ہوئے ہچکچائیں گے۔ وہ مذہب جو ایک دوسرے کے جان ومال اور عزت و آبرو کی حرمت کا خیال رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔آج اپنے پیروکاروں کے کردار اور اخلاق رزیلہ کی بناء پر اغیار کی طرف سے تضحیک اور تنقید سے دو چار ہے۔ بدکرداری کے ایسے مظاہرے دیکھنے کو ملتے ہیں جو شیطان بھی شرم کے مارے انکھوں پر ہاتھ رکھتا ہوگا۔ ایک دوسرے کی قدردانی ،ادب احترام،خیر خواہی اور غمخواری کا تصور قصئہ پارینہ کے رنگ میں ڈھل گئے ہیں۔ اور کہیں اتفاقاً ان اوصاف کو اپنانے کا واقعہ سننے کو ملتا ہے۔ تو حیرت کا اظہار کیا جاتا ہے ۔ وہ دنیا جو ایثار ،قربانی ،پیار ومحبت اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے کے اوصاف سے مزین ہوتی تھی۔پیٹ نان جوین کو ترسنے کے باوجود دل باغ و بہا رکی کفییت سے لبریز ہوتے تھے۔ مادہ پرستی سے نا آشنائی کی وجہ سے مہنگائی لفظ کبھی بھی سننے کو نہ ملتا تھا۔ او رہر حال پر قناعت او رصبر وشکر کی مہک سے معاشرتی زندگی ایسی معطر ہوتی تھی جو آج پھولوں کو سونگھنے سے بھی محسوس نہیں کیا جاتا ہے۔رشتوں ناطوں کا ڈور ٹوٹ چکا ہے۔ ہر کوئی اپنے لگن میں مگن ہے۔ سب سے اٹوٹ رشتہ والدین اور اولاد کا ہوتا ہے۔ والدین کے سامنے “اُف” تک نہ کہنے کے قرآنی حکم کی بجا آوری شاید کہیں ہوسکے۔ اور والدین کی طرف نظر کرم کا ثواب حج کے برابر قرار دینے کے پیغمبری ارشاد کو کمانے والا ڈھونڈنے سے بھی ملنا مشکل ہے۔مختصر یہ  کی وہ ماں جو کم وبیش 9مہینے بچے کو پیٹ میں لئے پھیرتی ہے وہ ماں جو دود ھ پلانے کے ایام میں اپنی رات کی نیندین اس پر قربان کرتی ہے۔ وہ ماں جو د ل کی کفییت معلوم کرنے کے لئے اپنی پیار بھری نظریں اپنی اولاد کے چہرے پر مرکوز کرتی رہتی ہے۔ وہ ماں جو بیماری کی صورت میں اپنی عمر اپنی اولاد پر قربان کرنے کی آرزو کرتی ہے۔ وہ ماں جو کسی کام کے سلسلے میں گھر سے باہر نکل کر نظروں سے غائب ہوتے ہی خیریت کا متقاضی ہوکر منہ آسمان کی طرف کرکے رب کے سامنے ہاتھ پھیلاتی ہے۔ وہ  ماں جس کے قدمون کے نیچے جنت ہونے کا اسلام تصور پیش کرتا ہے۔ ایسی ہستی کی طرف پتھر پھینکنے یا اس کی تحقیر وتذلیل کرنے والی اولاد پر بدبختی کابذات خود ماتم کرنا یقینی امر ہے۔

بحرحال یہی قرب قیامت کی وہ علامات ہیں جن کی نشان دہی آج سے چودہ سو سال قبل مخبر صادق نے کی ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔