تازہ ترین

گرم چشمہ روڈ کے لئے وفاقی بجٹ میں ایک ارب روپے منظور ہوچکے ہیں، ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن

گرم چشمہ (نمائندہ چترال ایکسپریس)آپ لوگو ں نے لٹکوہ کو ترقی دینے کے لئے جو فورم بنایا ہے اس سے بہتر علاقے کی ترقی کے لئے کوئی اور سوچ کوئی اور کام نہیں ہوسکتا۔ ایسا ہی ایک فورم چترال کی سطح پر موجود ہے جس میں چترال کی تمام سیاسی پارٹیوں کی نمائندگی موجود ہے اور ضلعی انتظامیہ اور دوسرے ذمہ دار اداروں کے افراد بھی اس فورم کا حصہ ہیں جو کہ چترال کے بڑے مسائل کو حل کرنے کے لئے کام کررہا ہے۔ ہم باہمی مشورے سے مختلف علاقو ں میں ترقیاتی کاموں کے سلسلے میں کام کررہے ہیں۔ مجھے لٹکوہ ڈیوپلمنٹ فورم جیسے دوسرے فورم بنانے والے افراد کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ ہے یہ لوگ انتہائی پرخلوص اور ہر قسم کی لالچ سے پاک ہوتے ہیں اس لئے جب وہ کسی کام کو کرنے کی ٹھان لیتے ہیں مکمل کئے بغیر نہیں چھوڑتے۔میں سمجھتا ہوں  کہ لٹکوہ ڈیویلمنٹ فورم بھی لٹکوہ کے علاقے کو ترقی دینے میں بہترین کردار ادا کرے گا۔لٹکوہ ڈیویلپمنٹ فورم کی دعوت پر گرم چشمہ آمد کے موقع پر ایم پی اے چترال مولانا ہدایت الرحمن نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دو دن کے اندر این ایچ اے والوں سے میٹنگ کرکے گرم چشمہ روڈ کے تمام پلوں پر کام شروع کروا دوں گا۔ اگر ان کے پاس فنڈز کی کمی ہے تو میں اپنے ایمرجنسی فنڈز سے پیسے فراہم کرنے کو تیار ہوں۔ اس دفعہ حکومت نے ترقیاتی کاموں کے لئے بہت اچھا بجٹ دیا ہے اس لئے آپ سب کو چترال میں تبدیلی نظر آئے گی۔ رابطہ سڑکوں، واٹر چینل اور دوسرے چھوٹے موٹے کاموں کے لئے فنڈز موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ ناگر سے آگے چترال کے تمام روڈز انتہائی خراب ہیں جس کی وجہ سے علاقے میں سیاحت کو فروغ دینے میں ناکامی ہورہی ہے جو سیاح ایک دفعہ چترال آتا ہے وہ دوبارہ ادھر کا رخ نہیں کرتا۔ ہم نے ہمیشہ چترال کے تمام علاقوں کے لیے آواز اٹھائی۔کئی دفعہ گرم چشمہ روڈ کے لئے اسمبلی فلور پر بھی آواز اٹھائی۔وفاقی بجٹ میں چترال کے مختلف علاقوں کے سڑکوں کے بارے میں معلومات کے بعد جب گرم چشمہ روڈ کا ذگر نہیں آیا تو میں نے خود ایم این اے مولانا عبدالکبرصاحب کو فون کرکے گرم چشمہ روڈ کے مسئلے کو اسمبلی میں  اٹھانے کا کہا۔ مولانا صاحب کے سوال پر مراد سعید نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ گرم چشمہ روڈ کے لئے ایک ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جلد ہی اس سلسلے میں کاغذی کارروائی مکمل کی جائے گی اور گرم چشمہ روڈ کی مرمت و توسیع کے لیے یہ فنڈ استعمال ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ تحصیل لٹکوہ چترال میں واحد علاقہ ہے جہاں سے ریونیو کی مد ضلع چترال کو پیسے ملتے ہیں باقی چترال کے علاقے اب تک کسی ریونیو کا حصہ نہیں بن پائے اس لئے چترال کے تمام علاقوں کے روڈ جتنے اہم ہیں گرم چشمہ روڈ ان سب سے زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرم چشمہ بازار بھی چترال کی طرح انتہائی گنجان ہوگیا ہے اس لئے میں آج  ایل ڈی ایف کے اس فورم کی توسط سے اپنے ذاتی فنڈ سے ایک کلومیٹر بازار ایریے میں تارکول روڈ کا اعلان کرتا ہوں۔ اگر این ایچ اے والوں کی جانب سے کوئی قانونی پیچیدگی کا مسئلہ نہیں ہوا تو اگلے سات مہینوں کے اندر یہ ایک کلومیٹر روڈ تیار ہوگا۔ آج میں جو یہاں آپ لوگوں سے وعدے کررہا ہوں یہ کوئی سیاسی اعلانات یا خالی خولی وعدے نہیں ہیں لٹکوہ ڈیویلپمنٹ فورم کے پلیٹ فارم پر کھڑے ہوکر خالی وعدے نہیں کیے جاسکتے جو وعدہ ہو وہ پورا کرنا پڑتا ہے۔ اپر چترال میں بھی اس طرح کے فورمز کام کررہے ہیں وہ بھی اپنا کام نکالنا جانتے ہیں اور ذمہ داروں سے کام کروانا بھی جانتے ہیں۔ یقینا لٹکوہ ڈیویلپمنٹ فورم بھی اپنا کام نکالنے کے تمام طریقوں سے آگاہ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ نصرت الہی کا جمیعت علمائے اسلام کے انتہائی اہم ترین لیڈرز میں شمار ہوتا ہے وہ ہمیشہ سے چترال کے اہم مسائل کے حل کے لئے کوشان رہے ہیں مگر وہ ہر فورم پر اپنے علاقے یعنی لٹکوہ کا کیس بہترین انداز میں پیش کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے جمعیت علمائے اسلام بھی لٹکوہ کے علاقے کو اہمیت دینے پر مجبور ہوتی ہے۔ یہ صرف نصرت الہی کا کمال ہے کہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب اور صوبائی و ضلعی لیڈرشپ باربار گرم چشمہ کا دورہ کرنے پر تیارہوتے ہیں۔ نصرت الہی کی لٹکوہ سے محبت ہمیں بھی یہاں آنے پر مجبور کرتی ہے۔
لٹکوہ ڈیویلپمنٹ فورم کے عبوری کنوئنر قیمت خان نے فورم کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کے ساتھ مسلسل سوتیلی ماں کا سلوک کرنے کی بنا پر اور مسلسل نظر انداز ہونے کی وجہ سے اس طرح کے فورم کا قیام ناگزیر ہوگیا تھا۔ ہم اس فورم کے توسط سے زندگی کی بنیادی ضروریات کے حصول کے لئے جدوجہد کو اپنا نصب العین بنانے کی کوشش شروع کرچکے ہیں۔ ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن صاحب کی ہماری دعوت پر گرم چشمہ آمد اور ہمارے مسائل کے حل کے لئے کردار ادا کرنے کا وعدہ کرنا اس فورم کی پہلی کامیابی ہے۔کامیابیوں کا یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا۔ نصرت الہی صدر ھدیتہ الہادی نے تقریب سے خطا ب میں کہا کہ گرم چشمہ روڈ پر موجود تمام پل قابل استعمال نہیں رہے کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔ ہم سب تمام سیاسی نظریات سے بالاتر  ہو کر تمام ذمہ دار افراد کے ساتھ مل کر لٹکوہ کے مسائل حل کرنے کی کوشش شروع کرچکے ہیں۔ ایم پی اے صاحب کو یہاں بلانا اس لئے بھی ضروری تھا کہ وہ مقتدر حلقوں میں ہماری آواز بن کر ہمارا کیس لڑ سکتے ہیں۔ گرم چشمہ کے ساتھ ہمیشہ ناانصافی والا رویہ رکھا گیا۔ ہمارے تمام ادارے یا تو افراد نے بنائے ہیں یا پھر این جی اوز نے۔ حکومت وافر مقدار میں بجلی چترال میں موجود ہونے کے باوجود ہمیں سرکاری بجلی سے محروم رکھا ہے۔ یہاں ڈگری کالج کا قیام انتہائی ضروری ہے۔ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہیلتھ سروس یہاں پر AKHSP فراہم کررہا ہے۔ یعنی ہم تمام بنیادی انسانی ضروریات سے فی الحال محروم ہی ہیں۔ آج آپ ہماری انتہائی مختصر نوٹس پر یہاں آئے اس کے لئے ہم آپ کے مشکور ہیں اور ہمیں معلوم ہے کہ آپ نے آج تک جو بھی وعدہ کیا ہے وہ پورا کیا ہے اور ہمارے ساتھ کئے گئے وعدے پورے کریں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالسمیع نائب امیر جمعیت علمائے اسلام چترال نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے ہمیشہ حق اور سچ کا ساتھ دیا ہے۔ وہ جنگ و جدل اور لڑائی کے بجائے مذاکرات کو اہمیت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جمعیت علمائے اسلام چترال نے بھی ہمیشہ امن کا درس دیا ہے۔ ہم جب تک اتفاق اور اتحاد سے رہیں گے چترال ترقی بھی کرے گا اور ہمارے مسائل بھی حل ہوں گے۔ نظار شاہ سابق یوسی ناظم نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ ہمارا مسئلہ چیو پل سے آگے آتے ہی شروع ہورہا ہے۔ جس علاقے کا روڈسفر کرنے کے قابل نہ ہو وہ علاقہ کیا خاک ترقی کرے گا۔ ہمارا آپ سے صرف ایک ہی ڈیمانڈ ہے کہ آپ گرم چشمہ روڈ کی مرمت اور پلوں کی بحالی کے لئے جو بھی کردار ادا کرسکتے ہیں وہ ادا کریں۔ اگر آپ کی کوششوں سے گرم چشمہ روڈ کا مسئلہ 50 فیصد بھی حل ہوتا ہے تو علاقے کے عوام اس کو ایک بہترین خدمت تصور کریں گے۔لٹکوہ ڈیویلپمنٹ فورم کے قیام کے مقاصد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اپنے حق کے لئے سوال اٹھانے کو رواج دیا جائے۔ ایک لاکھ روپے کے منصوبے کی تکمیل سے قبل تین تین اشخاص کے ناموں کا بورڈ لگانے والوں سے سوال کرنا ہر ایک کا حق ہے انشاء اللہ اگلے سالوں میں لٹکوہ کا ہر شخص اپنے حق کے لئے سوال کرنا سیکھ جائے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔