تازہ ترین

چترال کے علمی،سیاسی اور سماجی حلقوں کا کورونا کی وباء میں تعلیمی اداروں کی کلی یاجزوی بندش کے باوجود پرائیویٹ سکولوں کی لوٹ مار کے خلاف حکومت سے اپیل

چترال(چترال ایکسپریس)چترال کے علمی،سیاسی اور سماجی حلقوں نے پرائیویٹ سکولوں کی لوٹ مار کے خلاف حکومت سے اپیل کرتے ہوئے حکومت کی توجہ کورونا کی وباء میں تعلیمی اداروں کی کلی یاجزوی بندش کے باوجود ٹیوشن فیس،ٹرانسپورٹ فیس،کمروں میں ہیٹر لگانے کی فیس لینے کا نوٹس لیکرپرائیویٹ سکولوں کا قبلہ درست کرنے کی التجا کی ہے۔اعداد وشمار بتاتے ہوئے اُنہوں نے واضح کیا کہ کورونا کی وباء کے دوران چترال ٹاون اور گرد ونواح کے پرائیویٹ سکولز نومبر2020سے اپریل 2021تک بند رہے لیکن ٹرانسپورٹ فیس اور ہیٹر جلانے کی فیس پوری طرح وصول کی گئی اس طرح بچوں نے گذشتہ 8مہینوں میں صرف ایک ماہ حاضری دی اس کے باوجود ٹیوشن فیس پوری کی پوری وصول کی گئی جب بچہ یا بچی گھر پر ہے تو ٹیوشن فیس کس بات کے لئے لی جارہی ہے نیز یہ بھی ظلم ہے کہ بچوں اور بچیوں کو کتاب،کاپی اور سٹیشنری بازار سے دس گناہ زیادہ قیمت پر جبراً فروخت کی جارہی ہیں اس ظلم کو روکنے والا کوئی نہیں۔چترال کے علمی،سیاسی اور سماجی حلقوں نے کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل علی ظفر،ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر سے مطالبہ کیا ہے کہ چترال کے پرائیویٹ سکولوں میں طلباء،طالبات اور ان کے غریب والدین پر ہونے والے ظلم کا ازالہ کیا جائے جن سکولوں نے سردیوں کے موسم میں چھٹیوں کے باوجود ٹرانسپورٹ اور ہیٹنگ چارجز وصول کئے ان کا محاسبہ کیا جائے جن سکولوں میں سٹیشنری کی ناجائز دکانیں کھولی گئی ہیں ان کو بند کرکے طلباء طالبات اور ان کے والدین کو انصاف دلایا جائے۔مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے کورونا وباء کے دوران مختلف شعبوں کے لئے مراعات دئیے پرائیویٹ سکولوں کو بھی ٹیوشن فیس کی مد میں خصوصی فنڈ احساس پروگرام سے مختص کرکے اساتذہ کی تنخواہیں اداکرنے کے قابل بنایا جائے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔