تازہ ترین

ترقیاتی منصوبوں میں معیاراور مقدار پر رتی برابر بھی سمجھوتہ نہیں کرسکتے،ایم این اے عبدالاکبرچترالی کا سنگور روڈ پختگی کے منصوبے پر کام کے افتتاح کے موقع پر خطاب

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) چترال سے قومی اسمبلی کے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا ہے کہ وہ ترقیاتی منصوبوں میں معیاراور مقدار پر رتی برابر بھی سمجھوتہ نہیں کرسکتے اور قوم نے انہیں اسی لئے مینڈیٹ دے کر اسمبلی بھیج دیا ہے جہاں وہ ان کے مفادات کی حتی المقدور حفاظت کرے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی صوابدیدی ترقیاتی فنڈ کی ایک ایک پائی کا درست استعمال کرنے کا تہیہ کررکھا ہے۔ اتوار کے روز چترال شہر کے نواحی گاؤں سنگور میں تقریباً ایک کروڑ روپے کی لاگت سے سڑک کی پختگی کے منصوبے پر کام کا افتتاح کرتے ہوئے کہاکہ ترقیاتی فنڈ کو دو، دو لاکھ روپے کی صورت میں بندر بانٹ کرنے کی بجائے انہوں نے بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام کرنے کو ترجیح دی تاکہ پورا گاؤں کو اس سے فائدہ پہنچ سکے اور سنگورگاؤں کا لنک روڈ بھی انتہائی اہمیت کا حامل تھا جس کی ڈھائی سالوں پہلے تکمیل کے بعد پختگی نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے اہلیان علاقہ پر زور دیا کہ وہ کام کی معیار کویقینی بنانے کے لئے نگرانی ضرور کریں مگر بے جا مداخلت سے بھی باز رہیں اور کوئی غیر تسلی بخش کام ہونے کی صورت میں فوری طور پر ان کی نوٹس میں لے آئیں۔ انہوں نے کہاکہ انہوں نے 10کروڑ روپے کی ترقیاتی کاموں کے لئے سڑک اور بجلی کی ترسیل کے سیکٹروں کا انتخاب کیا ہے اور مختلف علاقوں میں بجلی کی ترسیل کے لئے کھمبے نصب کئے جارہے ہیں تو کہیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور کچے سڑکوں کی مرمت اور پختگی کا کام شروع کیا جارہا ہے۔ انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ ان کے صوابدیدی فنڈ سے ترقیاتی کاموں کا ٹھیکہ دینا متعلقہ محکمے کا کام ہے جو کہ پروکیورمنٹ کے اصول و قواعد کے تحت صاف شفاف ٹینڈر کے عمل کے ذریعے ٹھیکے الاٹ کرتے ہیں۔ اس موقع پر جماعت اسلامی ضلع لویر چترال کے امیر مولانا اخونزادہ رحمت اللہ نے کہاکہ ان منصوبہ جات کو شروع کرکے کسی پر احسان نہیں جتاتے ہیں بلکہ یہ عوام کا حق تھا جسے ان تک پہنچائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ نظام میں عوام کے حقوق محفوظ نہیں ہیں اور یہ حقوق صرف اور صرف اسلامی نظام حکومت میں ہی محفوظ ہیں جہاں ضرورت کے مطابق کام سرانجام دینا ریاست کی زمہ داری ہوتی ہے جس کے لئے کسی کے مطالبے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی اور جماعت اسلامی اسی نظام کے لئے کوشان ہے۔ جماعت اسلامی ضلعی سیکرٹری جنرل وجیہہ الدین اور یوسی ٹو کے امیر افتخار الدین نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ جماعت اسلامی کے سابق ضلعی سیکرٹری جنرل فضل ربی جان بھی اس موقع پر موجود تھے۔

چترال کے علمی،سیاسی اور سماجی حلقوں کا کورونا کی وباء میں تعلیمی اداروں کی کلی یاجزوی بندش کے باوجود پرائیویٹ سکولوں کی لوٹ مار کے خلاف حکومت سے اپیل
چترال(چترال ایکسپریس)چترال کے علمی،سیاسی اور سماجی حلقوں نے پرائیویٹ سکولوں کی لوٹ مار کے خلاف حکومت سے اپیل کرتے ہوئے حکومت کی توجہ کورونا کی وباء میں تعلیمی اداروں کی کلی یاجزوی بندش کے باوجود ٹیوشن فیس،ٹرانسپورٹ فیس،کمروں میں ہیٹر لگانے کی فیس لینے کا نوٹس لیکرپرائیویٹ سکولوں کا قبلہ درست کرنے کی التجا کی ہے۔اعداد وشمار بتاتے ہوئے اُنہوں نے واضح کیا کہ کورونا کی وباء کے دوران چترال ٹاون اور گرد ونواح کے پرائیویٹ سکولز نومبر2020سے اپریل 2021تک بند رہے لیکن ٹرانسپورٹ فیس اور ہیٹر جلانے کی فیس پوری طرح وصول کی گئی اس طرح بچوں نے گذشتہ 8مہینوں میں صرف ایک ماہ حاضری دی اس کے باوجود ٹیوشن فیس پوری کی پوری وصول کی گئی جب بچہ یا بچی گھر پر ہے تو ٹیوشن فیس کس بات کے لئے لی جارہی ہے نیز یہ بھی ظلم ہے کہ بچوں اور بچیوں کو کتاب،کاپی اور سٹیشنری بازار سے دس گناہ زیادہ قیمت پر جبراً فروخت کی جارہی ہیں اس ظلم کو روکنے والا کوئی نہیں۔چترال کے علمی،سیاسی اور سماجی حلقوں نے کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل علی ظفر،ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر سے مطالبہ کیا ہے کہ چترال کے پرائیویٹ سکولوں میں طلباء،طالبات اور ان کے غریب والدین پر ہونے والے ظلم کا ازالہ کیا جائے جن سکولوں نے سردیوں کے موسم میں چھٹیوں کے باوجود ٹرانسپورٹ اور ہیٹنگ چارجز وصول کئے ان کا محاسبہ کیا جائے جن سکولوں میں سٹیشنری کی ناجائز دکانیں کھولی گئی ہیں ان کو بند کرکے طلباء طالبات اور ان کے والدین کو انصاف دلایا جائے۔مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے کورونا وباء کے دوران مختلف شعبوں کے لئے مراعات دئیے پرائیویٹ سکولوں کو بھی ٹیوشن فیس کی مد میں خصوصی فنڈ احساس پروگرام سے مختص کرکے اساتذہ کی تنخواہیں اداکرنے کے قابل بنایا جائے۔

نوتعینات ڈی سی اپر چترال محمد علی اپر چترال پہنچ گئے۔پیر کے روز باضابطہ طورپر چارج سنبھالیں گے
اپرچترال(ذاکر محمدزخمی)نوتعینات ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد علی ہفتے کے روز اپر چترال پہنچ گئے اور وہ 5 جولائی 2021 کو باضابطہ طور پر ڈی سی اپر چترال کا چارج سنبھالیں گے۔

وزیر اعلی محمود خان نے انتہائی فراخ دلی سے چترال کے منصوبوں کیلئے فنڈ دی ہے۔ جس کیلئے ان کا شکر گزار ہوں۔معاون خصوصی وزیرزادہ
چترال (محکم الدین) معاون خصوصی وزیر اعلی خیبر پختونخواہ وزیر زادہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے حالیہ اے ڈی پی میں چترال کے لاتعداد منصوبوں کی منظوری دی ہے۔ یہ منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچنے کے بعد چترال میں ترقی کا انقلاب آئے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کے روز اپنی رہا ئش گاہ کالاش ویلی رمبور میں اپنے چچاکی وفات پر تعزیت کیلئے آنیوالے لوگوں کے اجتماع میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے کوارڈینیٹر سرتاج احمد خان، معروف کاروباری شخصیات حاجی محمد خان،عتیق احمد اورسابق ممبر ڈسٹرکٹ کونسل رحمت الہی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے انتہائی فراخ دلی سے چترال کے منصوبوں کیلئے فنڈ دی ہے۔ جس کیلئے میں ان کا شکر گزار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایون کالاش ویلیز روڈ کی زمین کیلئے دو ارب روپے منظور یو چکے ہیں۔ جاری سکیموں کیلئے فنڈ مختص کئے گئے ہیں۔ اور دو ارب کے نئے سکیمز بھی تعمیر کئے جائیں گے جن میں سے تیس کروڑ روپے کالاش ویلیز کے اندرونی سڑکوں کی توسیع، بارہ کروڑ کیسو واٹر سپلائی سکیم، دس کروڑ بونی، تریچ اویر روڈ اور بیس کروڑ روپے مختلف سڑکوں کی تعمیر پر خرچ کئے جائیں گے۔ جبکہ بونی بازار روڈ پراجیکٹ جاری رہے گا۔ وزیر زادہ نے کہا کہ چترال یونیورسٹی کے فنڈ کا مسئلہ حل ہوگیا ہے یونیورسٹی کو ایک ارب اٹھائیس کروڑ روپے دیے گئے ہیں جس میں سے اٹھاسی کروڑ زمین کی خریداری اور بقایا فنڈ تعمیرات پر خرچ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ نوزائیدہ اپر چترال ڈسٹرکٹ کے ہیڈ کوارٹر کی تعمیرات کیلئے بیس کروڑ روپے رکھے گئے ہیں اسی طرح مغلاندہ، جغور اور ریشن کے جاری سکیموں کیلئے آٹھ کروڑ روپے موری لشٹ سائیفن ایریگیشن کیلئے آٹھ کروڑ اور کالاش ویلیز چینلز کیلئے سات کروڑ مختص کئے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ ڈیزاسٹر کی مد میں یارخون سے دمیل تک کے مختلف پراجیکٹس پر 70 کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ بونی ہسپتال کے جاری سکیم کیلئے چالیس کروڑ روپے، چترال اکنامک زون کیلئے بیس کروڑ اور جو ڈیشل کمپلیکس اپر چترال کیلئے 13کروڑ اے ڈی پی میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے مختلف ڈسٹرکٹ کیلئے 9ارب چالیس کروڑ فنڈ میں سے بھی چترال کو حصہ ملے گا۔ وزیر زادہ نے کہا کہ اپر چترال میں ریسکیو 1122 کی تعمیرات کیلئے چوالیس کروڑ چوالیس لاکھ جبکہ لوئرچترال ریسکیو کی عمارات کیلئے پینتیس کروڑ پچانوے لاکھ روپے بھی رکھے گئے ہیں۔ اسی طرح کریم آباد روڈ کی جاری سکیم کیلئے دس کروڑ،اورغوچ تین کروڑ اور سوئیر روڈ پر دو کروڑ خرچ کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ سینگور کے مقام پر آر سی سی پل و زمینات کی خریداری کیلئے 70 کروڑ پانچ لاکھ روپے رکھے گئے۔ جبکہ چترال شہر میں سپورٹس کمپلیکس پر دس کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔ وزیر زادہ نے کہا کہ موجودہ حکومت خصوصا وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان چترال کی ترقی میں انتہائی دلچسپی لے رہے ہیں۔ جس کا ثبوت یہ ہے۔ کہ حالیہ بجٹ میں چترال کو خطیر فنڈ کی منظوری دی ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔