تازہ ترین

مولانا پر براہ راست کرپشن کا الزام نہیں لگایا، چترال کنٹریکٹر ایسوسی ایشن، مناظرے کیلئے مزید وقت دے دیا، پریس کلب آکر ٹھیکہ دار برادری کے تحفظات دور کریں

چترال (محکم الدین) چترال کنٹریکٹر ایسوسی ایشن نے ممبر قومی اسمبلی چترال مولانا عبد الاکبر چترالی کو مناظرے کیلئے مزید وقت دیتے ہوئے کہا ہے۔ کہ پریس کلب ایک قومی ادارہ ہے۔ اور مولانا نے اپنی سیاست اور عوامی مسائل کیلئے اسی فورم کو استعمال کیا ہے۔ اس لئے ہم نے اپنی شکایات و تحفظات بالمشافہ مولانا کے گوش گزار کرنے کیلئے پریس کلب کا انتخاب کیا تھا۔ اور وقت دیا تھا۔ لیکن یہ بات باعث حیرت ہے۔ کہ ایم این اے پولوگراونڈ میں مناظرے کی بات کر کے اسے سیاسی اکھاڑہ بنانا چاہتے ہیں۔ جبکہ انہوں نے کبھی بھی اپنے بڑے بڑے سیاسی مخالفین شہزادہ محی الدین، سلیم خان اور شہزادہ افتخارالدین کو پولو گراونڈ کی راہ نہیں دیکھائی۔ لیکن ٹھیکہ داروں کو پولوگراونڈ کا چیلنج کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عبد الاکبر چترال کے ایم این اے ہونے کے باوجود چترال کے ٹھیکہ داروں کی توہین کریں گے اور ان کا معاشی قتل کرنے کیلئے اقدامات کریں گے تو ان کی شکایات سننا اور اس کا ازالہ کرنا کس کی ذمہ داری ہے۔ پیر کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کلب کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیرمین چترال کنٹریکٹر ایسوسی ایشن مغل باز خان، سینئر نائب صدر جاید اختر و ممبران محمد صدیق وغیرہ نے کہا کہ ہم نے کبھی بھی مولانا پر براہ راست کرپشن کا الزام نہیں لگایا۔ لیکن کسی دوسرے نے مولانا کے نام کو ضرور استعمال کیا ہے۔ ورنہ دس کروڑ کے صوابدیدی فنڈ کے تین پوریشنوں کیکام ایک ہی ٹھیکہ دار کو اباو ریٹ پر کیسے دیے گئے۔ جبکہ ان سے بہتر کمپنیان مقابلے میں موجود تھیں۔ انہوں نے کہا۔ کہ ٹینڈر میں سی فائیو انجینئر طلب کئے گئے تھے۔ جس میں حصہ لینے والے سی ون اور سی ٹو کو فیل قرار دیا گیا۔ جوکہ بے قاعدگی اور بیضابطگی کی انتہا ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ مولانا چترالی کو چترال کے ٹھیکہ دار برادری سے خدا واسطے کا بیر ہے۔ انہیں تمام ٹھیکہ دار کرپٹ نظر آرہے ہیں۔ جبکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ اچھے اور برے لوگ معاشرے کے ہر طبقے میں موجود ہوتے ہیں۔ اگر مولانا آج دفتری نظام کی اصلاح کر یں۔ تو ٹھیکہ دار برادری کیلئے اس سے اچھا کیا ہو سکتا ہے۔ اور یہ کام ایک نمایندہ ہونے کی حیثیت سے ایم این اے ہی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا۔کہ چترال ٹیکس فری زون ہے۔ اس کے باوجود 7فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس لیا جاتا ہے۔ مگر ایم این اے مولاناعبدالاکبر نے اس کو ختم کرنے کیلئے کبھی بھی اسمبلی میں آواز نہیں اٹھائی۔ انہوں نے کہا۔ کہ یہ اچھی بات ہے۔کہ مولانا کو دس کروڑکا فنڈ ملا۔ لیکن انہوں نے پاک پی ڈبلیو ڈی کے ہاتھوں یہ فنڈ بندر بانٹ کروا یا۔ جبکہ ایم این اے اپنے صوابدیدی فنڈ کو چترال کے کسی بھی سرکاری تعمیراتی ادارے کے ذریعے استعمال کر سکتے تھے۔ لیکن ایسا نہ کرکے انہوں نے چترال کی ٹھیکہ دار برادری سے انتہائی زیادتی کی ہے۔ جو کہ قابل افسوس ہے۔ انہوں نے امیر جماعت اسلامی چترال اخونزادہ رحمت اللہ کے رویے کی بھی مذمت کی۔ کہ انہوں نے مسئلے کی تحقیقات کی بجائے مولانا کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا ہم توقع رکھتے ہیں۔ کہ مولانا چترالی پریس کلب آکر ٹھیکہ دار برادری کے تحفظات دور کریں گے۔ جس کیلئے ہم نے مزید وقت دے دیا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔