تازہ ترین

وزیراعلیٰ محمود خان سے کوآرڈینیٹر پی سی سی آئی سرتاج احمد خان کی ملاقات،چترال کے مختلف منصوبوں پر تفصیلی گفتگو

وزیراعلیٰ نے چوتھے چترال اکنامک ڈیولپمنٹ کانفرنس میں شرکت کا بھی وعدہ کیا

پشاور(چترال ایکسپریس)خیبرپختونخواہ کی معاشی ترقی میرا دیرینہ خواب ہے صوبے کی تعمیروترقی کیلئے بزنس کمیٹی کی ترجیحات کو فوقیت دی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ محمود خان نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے کوآرڈینیٹر وپاکستان تحریک انصاف کے رہنما سرتاج احمد خان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں کوآرڈینیٹر سرتاج احمد خان نے وزیر اعلیٰ محمود خان کی جانب سے فیڈریشن ریجنل آفس کی بلڈنگ کی تعمیر کے لئے دس کروڑ روپے دینے اور صوبے و چترال کے مختلف منصوبوں پر تفصیلی گفتگو کی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔وزیراعلیٰ محمود خان نے کہا کہ صنعتی ترقی کے بغیر بیروزگاری کا خاتمہ اور معاشی ترقی ممکن نہیں ہے۔بزنس کمیونٹی کے ساتھ باقاعدگی سے مشاورت کی جائے گی۔اُنہوں نے جلد ایف پی سی سی آئی کی بلڈنگ کے سنگ بنیاد رکھنے کی دعوت قبول کردی اور اس کے ساتھ ایف پی سی سی آئی کے اعلیٰ وفد سے بھی ملاقات کرینگے ور ساتھ ہی وزیراعلیٰ نے چوتھے چترال اکنامک ڈیولپمنٹ کانفرنس میں شرکت کا بھی وعدہ کیا۔ملاقات میں صوبے کے چمبرز کے مشکلات کا بھی تذکرہ کیا گیا۔سرتاج احمدخان نے خیبر پختونخواہ کے وزیراعلیٰ کی چترال اکنامک زون کے لئے 20کروڑ روپے،چترال پل کے لئے70کروڑ روپے،چترال ٹورازم کے لئے متعدد اقدامات اورچترال میں روڈ انفراسٹریکچر کے قیام کے علاوہ دیگرمتعد منصوبوں کو بجٹ میں شامل کرنے اور فنڈ کے اجراء کو سراہا ہے۔وزیر اعلیٰ نے ساتھ ہی باڈر اسٹیشن کے لئے ایک میگاواٹ بجلی کی فراہمی کے لئے پیڈوکو ہدایت کی،اس کے علاوہ آئیندہ دورہ چترال میں وزیراعلیٰ متعدد منصوبوں کا افتتاح کرینگے اُنہوں نے،دروش ایرگیشن چینل کو محکمہ ابپاشی کے حوالہ کرنے کی ہدایت کردی۔وزیراعلیٰ نے اپر چترال کے جدید ڈسٹرکٹ کمپلکس کے ماسٹر پلان کے ضرورت سے اتفاق کیا جو پورے صوبے کے لئے ایک مثالی منصوبہ ہوگا۔سرتاج احمد خان نے وزیراعلیٰ محمود خان کو فیڈریشن کی سالانہ رپورٹ بھی پیش کردی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔