مضامین

نیو رول آف لاء۔۔۔محمد شریف شکیب

یوروپی یونین نے خیبر پختونخوامیں شامل ہونے والے قبائلی اضلاع میں انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ”نیورول آف لا“پروگرام متعارف کرادیاہے جس کا مقصدقبائلی اضلاع میں قانون کی حکمرانی کا فروغ اور فوجداری نظام انصاف کوبہتربنانا ہے۔20ملین یورو کی مالی معاونت پر مشتمل یہ پروگرام 2025 تک جاری رہے گا۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی،صنفی مساوات، خواتین کو بااختیار بنانے، منشیات اور جرائم پر قابو پانے کے لئے قائم ادارے بھی پروگرام میں معاونت کر رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں شامل قبائلی اضلاع خیبر، اورکزئی، کرم، مہمند، باجوڑ، شمالی اور جنوبی وزیرستان کو آزادی کے بعد بھی ستر سالوں تک دانستہ طور پر سرزمین نے آئین رکھا گیا۔ انضمام کے بعد قبائلی اضلاع میں قانون نافذ کرنے والے اداروں، سرکاری محکموں اور عدالتوں نے کام توشروع کردیا ہے۔ مگر ان پسماندہ علاقوں کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں حکومتی رٹ نہ ہونے کی وجہ سے شدت پسندوں نے اسے اپنا گڑھ بنادیا تھا۔ علاقے کو دہشت گردی سے پاک کرنے اور امن کی بحالی کے لئے قبائلی عوام اور افواج پاکستان نے بڑی قربانیاں دیں۔قبائلی عوام تک امن کی بحالی کے ثمرات پہنچانے کے لئے یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کی مالی و فنی معاونت سے سستے اور فوری انصاف کی فراہمی، خواتین اورکم مراعات یافتہ طبقے کے حقوق کے تحفظ، قانون کی عمل داری اورمختلف شعبوں میں خدمات کا معیار بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔پروگرام کے تحت کمزور طبقات کو مفت قانونی امداد اور تنازعات کے متبادل حل کے ساتھ شہریوں کو قانون کے بارے میں آگاہی کے ذریعے انصاف تک رسائی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ نیورول آف لاء پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمدنے کہا کہ ”مجھے یقین ہے کہ ہم سب مل کر، خاص طور پر خواتین، کم مراعات یافتہ اور پسماندہ طبقات کے لئے انصاف تک رسائی کوبڑھانے اور خدمات کی فراہمی میں بہتری لانے کے لئے کام کریں گے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑانے صوبائی حکومت کی جانب سے اس پروگرام کو شہری حقوق کے تحفظ اور انصاف تک رسائی میں صوبے کو درپیش مختلف چیلنجوں سے نمٹنے کا ایک اہم موقع قرار دیا اور کہا کہ ”خیبر پختونخوا کی حکومت اپنے ترقیاتی ایجنڈے میں ” کوئی بھی پیچھے نہ رہے ”کے اصول پر پختہ یقین رکھتی ہے۔قبائلی علاقوں میں حکومتی رٹ قائم کرنا آسان نہیں تھا مگر اسے ناممکن بھی قرار نہیں دیا جاسکتا۔قبائلی عوام نے اس ملک کی آزادی کے لئے بے مثال قربانیاں دی ہیں ان تک آزادی کے ثمرات پہنچانا ریاست کا فرض اور قبائلی عوام کو بنیادی حق تھا۔قبائلی علاقوں کو پسماندہ رکھنے اور وہاں کے محب وطن عوام کو بنیادی شہری حقوق سے محروم رکھنے میں جہاں ماضی کی حکومتیں قصور وار ہیں وہیں قبائلی علاقوں کے مراعات یافتہ لوگوں نے بھی دانستہ طور پر اپنے عوام کو بے خبر اور پسماندہ رکھا تھا تاکہ قبائلی علاقوں کے وسائل پر قابض رہ سکیں۔ قبائلی سرداروں، ملکوں، مشران، عمائدین اور پولے ٹیکل انتظامیہ کے ساتھ وسائل اور اختیارات بانٹنے والوں کو اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرتے ہوئے علاقے کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ضرور ڈالنا چاہئے۔ توقع ہے کہ نیو رول آف لاء پروگرام کے نفاذ سے اگلے چار سالوں میں خدمات کا معیار بہتر بنانے اور قبائلی عوام کو سستے اور فوری انصاف کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ اور لوگوں کے معیار زندگی میں فرق نظر آنے لگے گا۔ سانپ کا کاٹا رسی سے ڈرتا ہے۔ ماضی میں قبائلی عوام کی ترقی کے نام پراربوں روپے کی خرد برد ہوئی ہے۔ قبائلی عوام یہ امید رکھتے ہیں کہ نیاپروگرام فوٹو سیشن تک محدود نہیں رہے گا اور اس کے ثمرات قبائلی عوام تک بنیادی شہری حقوق سے آگاہی، فوری انصاف کی فراہمی اور مادی فوائد کی صورت میں حاصل ہوں گے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔