مضامین

غیر ملکیوں کی رجسٹریشن…محمد شریف شکیب

وزارت داخلہ نے پاکستان میں مقیم تمام غیرملکیوں کو رجسٹر کرنے کا فیصلہ کیا ہے غیر ملکیوں کو ایلین کارڈ کے ذریعے بینک اکاونٹس کھولنے کی اجازت ہوگی۔ وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ ایلین کارڈ کے ذریعے غیر ملکی شہری کاروبار شروع کرسکیں گے سم کے حصول اور بیرون ملک سفر کی اجازت ہوگی۔ اگر ان کا ویزا ختم ہوجائے تو اس کی بھی تجدید کی جائے گی۔ جعلی افغان کارڈ بنانے والوں کو پکڑا گیا ہے ہزاروں غیر ملکیوں کو پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کرنے کے معاملے کی تحقیقات کررہے ہیں۔وزیرداخلہ نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر پاکستان میں موجود ہر غیر ملکی رجسٹرڈ ہو۔ کوئی منہ اٹھا کر ایسے ہی پاکستان میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ پچپن ہزار لوگ ستر سالوں میں پاکستان آئے ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں۔ایک طرف حکومت رجسٹرڈ اور نان رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے کی بات کر رہی تھی دوسری جانب ان کی رجسٹریشن کرکے کاروبار کرنے کی اجازت دی جارہی ہے۔سرحد کے اس پار صورتحال دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے۔ امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد متحارب افغان دھڑے ایک بار پھر حصول اقتدار کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔طالبان نے ایک سو سے زائد اضلاع پر قبضہ کرلیا ہے۔اور وہ پاکستان کی مغربی سرحد کے ساتھ پشتون قبیلوں پر مشتمل علاقوں پر اپنی گرفت مضبوط کرنے میں لگے ہوئے ہیں غیر ملکی افواج کی واپسی کے بعد افغانستان کے مختلف حصوں میں لڑائیاں شروع ہونے کا خدشہ ہے ایسی صورت میں لوگ جانیں بچانے کے لئے نقل مکانی کریں گے۔ اور زیادہ تر لوگ پاکستان ہجرت کرنے کو ترجیح دیں گے۔ اگر ہزاروں لاکھوں لوگ پاکستان کی سرحد پر پہنچ گئے تو انہیں ملک میں داخل ہونے سے روکنا ممکن نہیں رہے گا۔ طالبان اور امریکہ کے درمیان دوحہ امن مذاکرات کے بعد بین الافغان مذاکرات کا مرحلہ ابھی تک شروع نہیں ہوسکا۔ طالبان کے وفد نے گذشتہ روز ایرانی حکام سے بھی امن مذاکرات کے حوالے سے مشاورت کی ہے اور پاکستان کے ساتھ بھی مختلف افغان گروپ رابطے میں ہیں۔ مگر وہ آپس میں مل بیٹھ کر اپنے گھر کا تنازعہ حل کرنے کے لئے تیار نہیں۔ 1979میں جب سوویت افواج اس وقت کی افغان حکومت کی دعوت پر افغانستان آئے تھے تو امریکہ نے سوویت فوج کو بھگانے کے لئے افغان جہاد شروع کروایا تھا۔ دنیا بھر سے مجاہدین بھرتی کرکے افغانستان لائے گئے امریکہ نے انہیں تربیت دی مالی امداد اور اسلحہ بھی فراہم کیا۔ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن،شمالی اتحاد کے سربراہ عبدالرشید دوستم، پنج شیر کے مجاہداحمد شاہ مسعود، صبغت اللہ مجددی اور انجینئر گلبدین حکمت یار بھی انہی مجاہدین میں شامل تھے۔پاکستان کے قبائلی علاقے ان غیر ملکی مجاہدین کی کمین گاہیں بن گئے۔ جب سوویت افواج کو گوریلا وار میں شکست کے بعد بے نیل و مرام واپس جانا پڑا تو امریکہ کے لئے کمیونسٹ یلغار کا خطرہ ٹل گیا اور انہوں نے ان مجاہدین کی سرپرسی سے ہاتھ کھینچ لئے۔اور خانہ جنگی کی وجہ سے خستہ حال افغانستان کو اس کے حال پر چھوڑ کر چلا گیا۔اسی خانہ جنگی کے دوران طالبان وجود میں آئے اور انہوں نے چند سالوں کے اندر پورے افغانستان پر قبضہ کرکے اپنی حکومت قائم کی۔ 2001میں امریکہ نے نائن الیون کا ڈرامہ رچا کر افغانستان پر لشکر کشی کی۔ طالبان حکومت کا خاتمہ کرکے وہاں اپنی مرضی کی کٹھ پتلی حکومت قائم کی جس کی رٹ کابل سے باہر کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ امریکی اور نیٹو فورسز کی بیساکھیوں پر کھڑی افغان حکومت کے پاؤں کابل سے فوجی انخلاء کے بعدلڑکھڑا چکے ہیں جس کا عسکریت پسند بھر پور فائدہ اٹھارہے ہیں اگر بین الافغان امن مذاکرات فوری طور پر منعقد نہ ہوسکے تو خانہ جنگی کی شدت میں مزید اضافے کا اندیشہ ہے اس صورت میں پاکستان کو مہاجرین کے مسئلے سے بادل نخواستہ دوچار ہونا ہی پڑے گا۔ جس کے لئے پیشگی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔