مضامین

“دوستی کے رنگ ڈھنگ” ….تحریر:اقبال حیات اف برغذی

“دوست آن باشد کہ گیرودست دوست”

“در   پریشان    حالی    و   در   ماندگی “

دوست وہ کہلاتا ہے کہ جو پریشانی اور تنگدستی کی کیفیت سے دوچار اپنے دوست کا سہارا بنے۔اگرچہ اس جذبے اور وفا کو دوستی کی زینت سے تعبیر کیا جاسکتا ہے مگر حقیقتاً دوستی ایک ایسا مقدس رشتہ ہے جس کی بنیاد صرف اللہ رب العزت کی رضا جوئی پر رکھی جاتی ہے اور یہ رشتہ دنیاوی اور ذاتی مفادات کے تصور سے پاک ہوتا ہے۔ مال ودولت،رتبہ، عہدہ اور دیگر دنیاوی معیار کے پیمانے میں اسے نہیں تولا جاتا ۔اس طرح دوستی کے متصادم لفظ دشمنی کی عمارت بھی اسلامی نقطہ نظر سے صرف اللہ رب العزت کی خوشنودی اور رضا کی بنیاد پر کھڑی کی جاتی ہے ۔اور دنیاوی معاملات کو دشمنی کی حد تک پہنچانے کی اسلام میں گنجائش نہیں۔ ایک مومن مسلمان کو دوستی کا رشتہ استوار کرتے وقت اس پاکیزہ رشتے کو مفاد پرستی کی الودگی سے بچانے کے لئے اللہ رب العزت اور آپ کے حبیب صلی اللہ وعلیہ وسلم  کی تعلیمات کو مشکل راہ بنانا ہوگا۔ ہمارے عظیم پیغمبر صلی اللہ وعلیہ وسلم   خالص اللہ کے لئے دوستی اور دشمنی کے عمل کو بہتریں عمل گیر دانتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالی کے لئے محبت کرنے والوں کے شرف و اعزاز کےلئے یہی کافی ہے کہ قیامت کے دن حشر کے میدان میں اللہ وتبارک تعالیٰ ان کی طرف متوجہ ہوکر فرمائینگے۔”کہ  کہان ہیں میر ی عظمت اور خوشنودی کےلئے باہم محبت کرنے والے آج میں ان کو اپنے سائے میں پناہ دوں جبکہ میرے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ” اس شرف سے مستفید ہونے والوں کے کردار کی عظمت یقیناً  ایسے ہی کرم فرمائی کے مستحق ہوگا۔جو زندگی بھر نفسیاتی اور سفلی خواہشات پر پاوں رکھ کر رب کائنات کے قرب کے حصول کےلئے سرگرم عمل رہے ہونگے۔ اور مادہ پرستی کا طوفان بھی ان کی ثابت قدمی کو متاثر نہ رکرسکا ہو۔ مگر آج دوستی اور دشمنی دونوں کردار اسلامی اصولوں اور تقاضوں سے متصادم ہیں۔دونوں دنیاوی مقاصد کی بدبوئی سے لبریز ہیں ۔دوستی کی مہک چرس، بھنگ،شراب اور دیگر نشہ اوراشیاء کے ہم مشرب ہونے کی خباثت سے متعفن ہے۔ اور ان غیر شرعی ،غیر اخلاقی اور غیر قانونی  اشیاء تک رسائی کو ممکن بنانے والون کو بھی دوستی لفظ سے منسوب کیا جاتا ہے اور ساتھ ساتھ نفسانی خواہشات کی بر آوری کے تقاضون کو جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے قباحت کو پروان چڑھانے کے مصداق ہوتے ہیں دوستی لفظ کو داغدار کیا جاتاہے۔

چم پخت نساوا  روکھوشی کھانجہ توریتام

جیسے تخیلاتی گندگی سے دوستی کے دامن کو علی الاعلان ناپاک کیاجاتا ہے اور معاشرہ اس کی بد بوئی کے احساس سے عاری “واہ،واہ” جیسے جذبات سے اس کو پذیرائی بخشتی ہے۔

اج کے معاشرہ میں دوستی کو اس واقعے کی کسوٹی میں پرکھ کر دیکھاجائے تو حقیقت خود بخود اشکارہوگی۔  دو دوست ایک سفر پر جارہے تھے۔سر راہ پڑے ہوئے ایک تھیلے کو لپک کر اٹھانے کے بعد ایک دوست اس سے کھول کر دیکھتے ہوئے چیخ کر کہتے ہیں ۔کہ مجھے سونے کا  زیور ملا ہے ۔دوسرے دوست کہتے  ہیں “مجھے” کیون   کہتے ہو ہم ہمسفر ہیں۔اس لئے اس میں ہم دونوں کا برابر حصہ ہونا چاہیے ۔تھیلہ اٹھانے والے دوست کہتے ہیں کہ میرے ہاتھ لگا ہے۔ اس پر حق صرف میرا ہی بنتا ہے۔اسی دوران پیچھے سے چور چور کی آواز لگاتے ہوئے لوگ ان کی طرف دوڑتے ہیں تھیلا اٹھانے والا دوست سہم کر کہتے ہیں “اب ہم پھنس گئے دوسرے دوست فوراً جواب دیتے ہیں ہم کیون کہتے ہو۔تھیلا تم نے اٹھا  یاہے اس کا خمیازہ بھی صرف تم ہی کو بھگتنا ہوگا۔

مختصر یہ کہ احمد فراز صاحب کا یہ شعر اس قسم کی دوستی کا عکاس ہے۔

تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز

دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔