مضامین

امن و امان اور چند تلخ حقائق…محمد شریف شکیب

وزیر اعلیٰ محمود خان نے صوبے کے مختلف اضلاع میں جائیداد اور خاندانی تنازعات کی بنیاد پر فائرنگ اور قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کوایسے واقعات کی مؤثر روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ہر پندرہ دن بعد باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ جس میں ریجنل پولیس افسران امن و امان کی صورتحال پرتفصیلی بریفنگ دیں گے۔ وزیراعلیٰ نے صوبے کو غیر قانونی اسلحے اور منشیات سے مکمل طور پر پاک کرنے کے عزم کااظہار کیااورپولیس کو اس حوالے سے نظر آنے والے اقدامات کرنے کی ہدایت کی اجلاس میں صوبے میں نئے اسلحہ لائنس کے اجراء پر پابندی کا بھی اصولی فیصلہ کیا گیا وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے سلسلے میں پولیس کوہر ممکن وسائل فراہم کرے گی تاہم پولیس کو عوامی توقعات پر پورا اترنا ہوگا۔اجلاس میں اسلحہ کی نمائش، ہوائی فائرنگ، منشیات کے کاروبار اور سماج دشمن عناصر کے خلاف سخت کاروائیوں کا فیصلہ کیاگیا۔اس میں شک نہیں کہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں ہماری پولیس کی کارکردگی بہت اچھی ہے۔ یہاں چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پولیس پامال نہیں کرتی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری پولیس نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ تین ڈی آئی جیز سمیت درجنوں افسران اور سینکڑوں اہلکار دہشت گردی کی آگ کا ایندھن بن گئے۔ لیکن حکومتی دعوؤں کے برعکس ہماری پولیس مثالی نہیں بن سکی۔ اس کی بنیادی وجہ وسائل کی کمی اور تربیت کا فقدان ہے۔اکثرتھانوں میں سپرداری کی گاڑیوں سے کام چلایاجاتا ہے۔ پٹرول کا خرچ نکالنے کے لئے پولیس کو چالان اور رشوت کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ وردیاں، جوتے خود خریدنے پڑتے ہیں ان کی دھلائی اور استری کا خرچہ بھی ان کے اپنے ذمے ہے۔ پولیس سے چوبیس گھنٹے ڈیوٹی لی جاتی ہے۔ اور تنخواہ مزدور کی کم سے کم اجرت کے برابر دی جاتی ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں اپنے بچوں کا پیٹ پالنے، اس کی تعلیم اور علاج کا خرچہ اٹھانے کے ساتھ دوران ڈیوٹی اخراجات پورے کرنے کے لئے اسے پچاس روپے رشوت پر بھی اکتفا کرنا پڑتا ہے۔ حکومت پولیس اہلکاروں کو ہائی وے اور موٹر وے پولیس کے مساوی تنخواہیں اور مراعات دے۔اس کے بعد اگر وہ رشوت اور بھتہ لیتے ہوئے پکڑے جائیں تو انہیں نوکری سے برطرفی سمیت سخت سے سخت سزا دے سکتی ہے۔زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی تھانے عوام کے لئے نوگو ایریا ہیں۔ وہاں انسانیت کی تذلیل ہوتی ہے۔ کارکردگی دکھانے کے لئے بے گناہ لوگوں کو پکڑ کر ان سے اعتراف جرم کرایاجاتا ہے اور عدالت پہنچ کر وہ صحت جرم سے انکار کرتے ہیں۔ تفتیشی نظام میں سقم کی وجہ سے اگر جرائم پیشہ لوگ پکڑے جانے کے باوجود عدالتوں سے عدم ثبوت یا ناقص تفتیش کے باعث بری ہوجاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ قتل مقاتلے، ڈکیتی، رہزنی، چوری، کسی کی جائیداد پر قبضہ، اغوا برائے تاوان جیسے جرائم بھی پولیس کی مدد اور تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتے۔ اگر پولیس کا نظام ٹھیک کیاجائے تو 70فیصد جرائم خود بخود ختم ہوجائیں گے۔پولیس کو مالی لحاظ سے مستحکم کرنے کے ساتھ دوران ملازمت ان کی تربیت بھی ناگزیر ہے اور تربیتی نصاب میں انسانی حقوق، احترام انسانیت کے موضوعات بھی شامل ہونے چاہیئں تاکہ انہیں عوام کی جان و مال اور عزت و آبرو کا حقیقی محافظ بنایاجاسکے۔ ان تمام اقدامات کے باوجود پولیس کو جب تک سیاسی مداخلت سے پاک نہیں کیاجاتا۔ اصلاحات کے مثبت نتائج برآمد ہونا دیوانے کا خواب ہے۔ آج بھی تھانوں میں ایس ایچ اوز سیاسی لوگوں کی سفارش پر تعینات کئے جاتے ہیں۔ ہر ایم پی اے، ایم این اے، سینیٹر، وزیر، مشیر، معاون خصوصی کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ وردیوں اور سادہ لباس میں پولیس کی سیکورٹی ہوتی ہے۔ جب سیاسی لوگ عازم سفر ہوتے ہیں تو ان کے لئے سڑکوں پر ٹریفک روک دی جاتی ہے۔ وی آئی پی اور وی وی آئی پی کلچر نے پولیس نظام کی تباہی میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ جب تک وی آئی پی کلچر کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ پولیس عوامی فورس نہیں بن سکتی۔اور نہ ہی جرائم سے پاک معاشرے کی تشکیل کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔