مضامین

دادبیداد….اختیارات کی منتقلی….ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

خیبر پختو نخوا کی حکومت نے نئے ما لی سال کے پہلے دن بجٹ میں دیئے گئے فنڈ محکموں کو جاری کر کے ایک اچھا قدم اٹھا یا ہے اس اقدام کی وجہ سے تر قیا تی عمل تیز ہو گا اور بجٹ میں دیئے گئے منصو بے وقت پر مکمل ہو نگے سر ما یے کی گردش سے غربت میں کمی آئیگی اور تر قیا تی کا موں کی وجہ سے خد مات کی فرا ہمی کے نظم و نسق یعنی سروس ڈیلیوری میں آسا نی ہو گی جب فنڈ آگئے تو پتہ لگا کہ اضلا ع کی سطح پر مختلف شعبوں کے ذمہ دار افیسروں کے اختیارات ان سے لیکر اوپر یعنی با لا ئی بلکہ بہت ہی با لائی حکام کو منتقل کئے گئے ہیں فیلڈ کا ذمہ دار افیسر مو قع پر مسا ئل کو حل کر نے کے لئے کوئی بھی منا سب فیصلہ کرنے کا مجا ز نہیں ہے اس مسئلے پر جب غور ہو گا تو دو باتیں سا منے آئینگی پہلی بات یہ ہو گی کہ نظم و نسق کی بہتری کے لئے اختیار ات کی نچلی سطح پر منتقلی ہو نی چا ہئیے یا نہیں؟ دوسری بات یہ ہو گی کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی میں رکا وٹ کیا ہے؟ دونوں با توں کا ایک ہی جواب ہے یہ پوری دنیا کے تجربات کا نچوڑ ہے کہ سروس ڈیلیوری کی بہتری کے لئے نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی بہت ضروری ہے اور دنیا بھر میں جو اچھی مثالیں ملتی ہیں اُن مثا لوں میں فیلڈ افیسر وں کے پاس زیا دہ سے زیا دہ اختیارات ہو تے ہیں فیلڈ افیسر فنڈ کا ایک حصہ کسی دوسری مد میں خر چ کر نے کا مجا ز ہو تو کام میں آسا نی ہو تی ہے فیلڈ افیسر ما تحت عملے کو تر قی دینے، تبدیل کر نے یا سزا دینے کے وسیع اختیار ات رکھتا ہو تو دفتری نظم و نسق بہتر ہو تا ہے وطن عزیز پا کستان اور صو بہ خیبر پختونخوا میں انتظا می اختیار ات کی تین مثا لیں مو جو د ہیں 1947سے پہلے انگریزوں نے فیلڈ افیسروں کو لا محدود اختیارات دیئے تھے اُس دور میں فیلڈ افیسر اپنی انسپکشن رپورٹ کے ذریعے ما تحت عملے کو ملا زمت سے بر طرف کر سکتا تھا اس کی تر قی روک سکتا تھا اس کی تنزلی کا حکم دے سکتا تھا اس کو تبدیلی کی سزا بھی دے سکتا تھا 1947کے بعد 1958تک فیلڈ افیسروں کے اختیارات میں کمی نہیں آئی ما رشل لا ء کے دور میں فیلڈ افیسروں کے اختیارات کو محدود کیا گیا یہ اختیار ات با لا ئی حکام کو دے دیے گئے اس لئے نظم و نسق کی حا لت روز بروز خراب ہو نے لگی 2001ء میں جنرل مشرف نے نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی کا بے مثال نظام متعارف کرا یا جس کے تحت ضلع کی سطح پر تر قیا تی عمل، ملا زمین کی تقرری اور ترقی کے معا ملا ت طے پا نے لگے اس نظام کو ڈیو لو شن پلا ن کا نا م دیا گیا 2008کے بعد کسی متبا دل حکم یا نئے قانون کے بغیر اس نظام کو ختم کر کے اختیارات ایک بار پھر صو بائی دارالحکو مت کو منتقل کئے گئے وفا قی محکموں کے معا ملے میں تما م اختیارات اسلا م اباد والوں کو دید یے گئے اس کی ذمہ داری کسی ایک حکومت پر نہیں ڈالی جا سکتی بلکہ طا قتور بیورو کریسی کا آہنی پنجہ ذمہ دار ہے صو بائی اور وفاقی حکو متوں والے اعلیٰ حکام اگرچہ نیا قانون بنا نے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تا ہم وہ نچلی سطح پر فیلڈ افیسروں کو اختیارات دینا اپنی شا ن و شو کت اور باد شا ہت کی تو ہین سمجھتے ہیں اس لئے غیر تحریری قانون کے ذریعے اختیارا ت اپنے پا س رکھتے ہیں ڈی ایچ او ہسپتا ل کا معا ئنہ کر تا ہے لیکن غیر حا ضر سٹاف کے خلا ف کچھ بھی نہیں کر سکتا سکول کا چو کیدار اگر ڈیو ٹی سے غیر حا ضر ہو تو ڈسٹرکٹ ایجو کیشن افیسر اس کی ایک مہینے کی تنخوا کا ٹنے، اس کو برطر ف کر نے یا تبدیل کر نے کا اختیار نہیں رکھتا پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے واٹر ٹینک کی والو چوری ہو جا ئے تو ایگزیکٹیو انجینئر والو مین کو بر طرف نہیں کر سکتا، اس کی جگہ نیا والو لگا نے کے لئے صو با ئی دارلحکو مت سے منظوری لینے کا پا بند ہے واپڈ ا کا ٹرا نسفار مر جل جا ئے تو مو قع پر مو جو د اسسٹنٹ ڈائر یکٹر یا سب ڈویژنل افیسر اس کی مر مت کر نے کا مجا ز نہیں ہے وہ ڈویژنل انجینئر کو رپورٹ کر تا ہے، ڈویژ نل انجینئر چیف انجینئر سے منظوری لیتا ہے اس کا غذ ی کا روائی میں سال سے زیا دہ وقت لگتا ہے اس لئے صارفین سے کہا جا تا ہے کہ چندہ کر کے ڈیڑھ لا کھ روپے جو ڑ لو اور بازار سے اپنے ٹرانسفار مر کی مرمت کراؤ جب تک فیلڈ افیسر کو 2008سے پہلے والے اختیارات نہیں ملینگے، جب تک ڈسٹرک ایجو کیشن افیسر ایک ٹیچر کو نو کری سے بر طرف کرنے کا مجا ز نہیں ہو گا جب تک ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر ڈاکٹر کو تبدیل یا بر طرف کر نے کا مجا ز نہیں ہوگا تب تک نظم و نسق درست نہیں ہو سکتا اور جب تک این ڈی ایم اے کے لا محدود اختیا رات اور کھر بوں روپے فنڈ اضلا ع کی سطح پر ڈپٹی کمشنروں کو نہیں دیئے جا تے تب تک سروس ڈیلیوری نظر نہیں آئیگی اختیار ات کی نچلی سطح پر منتقلی عوام کی ضرورت اور وقت کا تقا ضا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔