مضامین

میری ڈائری کے اوراق سے ـــ (شاہانہ آدمی تھے ہمارے دلوں پرراج  کرتا رہےگا )…تحریر: شمس الحق قمرؔ ( پہلی قسط)

کہتے ہیں کہ الفاظ میں بلا کی طاقت ہوتی ہے ،اچھے اور بُرے الفاظ انسان پر اپنی گہری چھاپ چھوڑ جاتے ہیں، ایسا ہی ہوا  منیجر شیرنادر مستوج کے ایک  لفظ میں قلزم کی سی گہرائی تھی  کہ ایک جملہ جو صوبیدار ( ر)  حاکم اکبر علی خان( مرحوم ) کی تعزیتی مجلس میں اُن سے ادا ہوا ،تعزیتی ہجوم کواشکوں کے سمندر میں ڈوبو کے رکھدیا۔  موصوف آئے ، بیٹھے، فاتحہ خوانی ہوئی اور پھراُن سے ضبط کا دامن بے محابا چھوٹ گیا۔  انہوں نے صرف ایک جملہ بولا ” شاہانہ آدمی تھے ہمارے دلوں پرراج کرتارہےگا “ یہ جملہ  پتھر پر لکیر کی طرح محفل میں موجود  تمام لوگوں کے دلوں پر پیوست ہوا ۔موصوف نے  اور کوئی گفتگو نہیں کی  بلکہ اُن کا چہرہ ( مرحوم ) اکبر علی خان سے اُن کی کئی سالوں پر محیط  والہانہ  محبت  ورفاقت اور پھر اُن کے داغ مفارقت کے دکھ کا ایک شفاف آئنہ بنا  ہوا تھا اس آیئنے کا جس نے بھی سامنا کیا  اشک بار ہوا  ۔ اُن کے اسی ایک لفظ میں وہ نشتریت  تھی کہ جملہ  ایک  دل سے  نکل کر ہزاروں دلوں  کے پار ہوا ۔تعزیتی محفل پر ایک ایسی شاندار اورطویل سکوت  و خاموشی طاری ہوئی کہ صوبیدار( مرحوم) کے کچھ ہم عصر اور کچھ ہم مشرب و ہم رکاب دوستوں کی رفاقت کے آنسوؤں کے ٹپکنے کی آواز سنائی دینے لگی ۔ تعزیتی محفل میں موجود دوسرے تمام  لوگوں کی طرح میں  بھی  ماضی کے دھندلکوں میں محو ہوگیا تھا ۔  ( مرحوم) صوبیدار  کے ساتھ میری یاد اللہ کے دو اہم زا ویے تھے،پہلا  زاویہ:  وہ میرے بے تکلّف دوستوں میں سے ایک تھے دوسرا  تعلق:  اُن کی بیٹی  میرے عقد میں آئی تھی ( 1992)  ۔ یوں اُن کے  ساتھ بیتے لمحات  یکے  بعد دیگرے  میرے  ماضی کے جھروکوں کے اُس پار  ایک پردے میں  چلتے رہے ۔ میرا اور اُن کے بے  تکلّف  رفاقت کا  زمانہ   تقریباً  سن 1984 سے   28 جون سن 2021  کے 11 بجکر  20  تک   محیط ہے    ۔ دوستی کے رشتے کی استواری  قدر مشترکات  کے عوامل کی کارفامائی پر ہوتی ہے  ۔  اگرچہ میری خالہ  اُن  کی زندگی کا نصف حصہ تھی   لیکن میرے اور اُن کی بے تکلّف میل جول میں اُن کی  قدر مشترک اُن کی موٹر سائکل تھی۔  1983 میں  حاکم اکبر علی خان  چترال سکاؤٹ سے  جونیئر  کمیشنڈ  افسر  کے عہدے پر سبکدوش ہوئے۔  اُنہیں  سماجی کاموں میں جنون کی حد تک دلچسپی تھی ۔ اُس زمانے میں گاڑیوں کا  رواج بہت کم تھا   کسی  ایمرجنسی  اور ضروری  کام کے سلسلے  میں ایک جگہے سے دوسری جگہے  تک رسائی  میں مسافت کی بڑی  دقتیں ہوا کرتی  تھیں  لہذا  اُنہوں نے اس مسئلے کے پیش نظر  ہونڈا  موٹر  سائکل   200 سی سی مبلع 1300  روپے رائج الوقت پاکستانی میں خریدی تھی  جو کہ اُس زمانے میں  خطیر رقم  تھی ۔  میں  نے غالباً  جون ، 1984   کے  کسی دن   اُنہیں پہلی بار بونی میں دیکھا اُس وقت وہ اپنے سسرال  (موریر )کی طرف رو بہ سفر تھے ( اُن کا سسرال میرا ننھیال ہے )۔  انہوں  نے ہمارے گھر میں  مختصر وقت کے لئے قیام کیا ۔ انہوں نے موٹر سائکل سواری کے  تمام  قوانیں  و ضوابط مکمل طور پر اپنائے ہوئے تھے ۔ سر پر کالے رنگ کی مظبوط آہنی  ٹوپی ،  ٹوپی سے ملحق چہرے  کے عین سامنے  دبیز  تہہ والا  قدرے کشادہ  حفاظتی شیشہ  جوکہ ایک چھوٹے سے ہیلی کاپٹر  کے دہن کی مانند معلوم ہو رہا تھا ،گرد و غبار  اور موسمی تغیرو تبدّل سے  اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کےلئے  برساتی کوٹ جس سے کہ اُن کا  جسم سر تا پا    ڈھنپا ہوا تھا ، فوجی  جوتوں کے مماثل بڑے  بڑے انگریزی موزے ، گھٹنوں تک طویل سوتی  جرابیں  جو جینس کی بنی پتلوں کے پائنچوں کو گردو غبار سے محفوظ رکھی ہوئی تھیں  ۔ موٹر سائکل ہمارے گھر کے صحن کے قریب  رکی ۔ موصوف اُترے اور موٹر بائیک  کو  ڈبل اسٹینڈ پر استادہ کیا  اور سائیڈ سے کچھ پرزے درست کیے ( بعد میں معلوم ہوا کہ پٹرول  کو  بند کیا تھا ) ۔  اُس  وقت میں 15  یا 16 سن کا  بے عنان لڑکا تھا ۔ ایک ایسی جدید سواری کو اپنے گھر کی  طرف آتے ہوئے خوشی  بھی ہوئی  اور  بے حیرت بھی ۔مجھے ایسا لگا کہ  کوئی اور مخلوق ہمارے گھر میں وارد  ہوئی ہے ۔ میرے گھر والوں سے ملاقات کے بعد انہوں نے  ایک کمرے میں جاکر  موٹر بائیک  والا لباس  اتار کے جب عام روپ میں آئے تو اُن کا حسن دیدنی تھا۔  میرے دادا ( مرحوم  2001) نے اُن کی طرف دیکھ کر ہم سے مخاطب ہو کر کہا ” صوبیدار  نہانگ موش ل “  (لفظ  نہانگ  کھوار میں محاورتاً بڑے قد کاٹھ ، خبوبرو اور جاذب  نظر کے معنوں میں مستعمل ہے ) اُن کی موٹر سائکل کے پیچھے  اُن کا بریف کیس بھی ربڑ سے باندھا ہوا تھا۔  اگر چہ یہ صندوق  قد میں مختصر تھا لیکن اُس کے اندر روزمرہ زندگی کے استعمال کی تمام  اشیا ء موجود تھیں : ناخن کاٹ، ریڈیو ،ٹارچ ،     فوری طبی امداد ، شیونگ مشین ,سفری صابن، شیمپو ، توٹھ  برش اور ٹوتھ پیسٹ ، سفری تولیہ ، ٹوتھ پک کی ڈبی ،   ریگمال ، ویلس سیگریٹ کی ڈبی، ایلفی  اور ربڑ کے ایک دو ٹکڑے  میں نے  کئی  بار خود اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں ۔       وہ جب گھر میں چائے پینے لگے تو میں نے باہر آکر ایک بار پھر موٹر سائکل کے ارد گرد گھوم گھوم کرطواف کیا ۔  اس جدید مشین کو  دیکھ کر دل میں بار بار ایک آرزو اُٹھتی اور دوم توڑتی رہی  کہ کاش میرے پاس بھی  ایسی  ہی مشین ہوتی تو میں بھی  اُسی نہج سے  سفر کرتا جو یہ حضرت کرتے ہیں ۔ اُسی سال میرے والد کے چھوٹے بھائی     ریٹائرڈ  بنک منیجر آمیر افضل خان نےکاواساکی  جی- ٹی – آر  100 سی سی  خریدی  تو  میرا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہوا گویا زندگی کی ایک اہم آرزو کی تکمیل ہوئی ۔ میں نے  موٹر  سائکل چلانا سیکھا اور اُس موٹر سائیکل پر پہلا سفر چپاڑی کا کیا ۔جب میں حاکم  ( مرحوم ) صوبیدار (ر)  اکبر علی کے گھر واقع  علی باغ پہنچا تو مجھے دیکھ کر اُن کا دل باغ باغ ہوا جیسے کسی جگری دوست کو برسوں کے بعد دیکھا ہو۔ آہستہ آہستہ بہت ساری قدریں مشترک پائیں جیسے  وہ بھی ریڈیو کا بےحد شوقین تھے میں بھی ریڈیو کا ریسا تھا ، ٹارچ ، کیمرہ  وغیرہ کے ساتھ کھیلنا  مجھے  بھی اچھا لگتاتھا وہ تو اس کام میں استادوں کے استاد تھے  ۔ شام کے  کھانے میں  ہر طرح کا طعام دستر خواں پر  سجا تھا  لیکن مجھے سب سے بڑی حیرت اس بات پر تھی کہ  میرے  ساتھ اتنے احترام  سے  پیش آتے تھے  کہ جیسے میں عمر میں اُن سے بڑا تھا۔ اس سے بھی بڑھ کر ایک اور خوبی اُن میں جو  دیکھی وہ یہ تھی کہ  کھانہ کھانے کے وقت  گھر کے تمام افراد دستر خوان  پر ادب سے  بیٹھے ہوتے تھے جو اُس زمانے میں  بہت کم خاندانوں کا خاصا ہو ا کرتا تھا ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ  آج  اُن کی اولاد  کے اندر  بھی  دوسروں  کے احترام اور محبت کا جذبہ  کوٹ کوٹ کے بھرا ہوا ہے ۔ ایک اتنا ملائم کہ ہاہرسے آنے والے ہر مہمان اور ہر رشتہ دار کے  پاؤں تلے خاک ہوتے تھے لیکن تصویر کے دوسرے رخ پر اپنے گھر میں  سب سے بڑے  ڈیکٹیٹر تھے ۔ گھر میں کسی کی مجال کہ کوئی کام اُن کی مرضی کے خلاف  کرکے   اُن کے عتاب  سے  بچ نکلے ۔ ڈیکٹیٹر بھی  اُصول کے تھے  اُن اصولوں میں سب سے  اہم ننگ و ناموس ِ برادری ، امور خانہ داری  ، اور احترام  رشتہ داری میں عزت و احترام  کی پاسداری اُن کے اپنے  اور اپنے خاندان کے لئے وضع کردہ  ضوابط کے اصول تھے  کہ جن سے   مرنے  تلک سمجھوتہ  سہواً بھی نہیں کیا  ۔باا صول زندگی  ،  شاہانہ مزاج  اور خفیف سی عامریت پسندی  مہتر چترال سرمظفر الملک  کی صحبت سے ملی تھی ۔ اکبر علی خان ( مرحوم) اور اُن کے بڑے بھائی رحمت اکبر خان ( مرحوم ) نے  ایک مرتبہ  6 مہینے اور ایک متربہ  چار مہینے  مہتر چترال  سر مظفر الملک  کی  صحبت میں درباری زندگی  کو  نہ صرف قریب سے دیکھا بلکہ  شاہانہ زندگی  اپنائی اور زندگی بھر درباری تربیت کا اثران کی زندگیوں پر حاوی رہا۔

          سر مظفر الملک ( مرحوم ) جب  شیر خوار نونہال تھے تو  اُس کی بہتر تربیت اور پرداخت و رضاعت کے لئے  تورکہو  رائین میں  اُس زمانے کے  مہتروں کے پائے کی مشہور شخصیت  شاہ زرین چارویلو ( مرحوم ) جو کہ  سر اعلیٰ حضر ت کے مشیر بھی  رہے تھے  اور  مختصر وقت کے لئے تورکہو کے گورنر  بھی رہے۔ اُن کے بارے میں مشہور ہے کہ مہتر چترال کے دربار میں  شاہ زرین کے حکم کے بغیر پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا  تھا ،کے  خاندان کے سپرد کیا گیا یوں  یہاں بڑے ناز و نعم سے اُن کی تربیت و  رضاعت  ہوئی ۔  یہاں  یہ ذکر بھی  ضرورری سمجھتا ہوں کہ  ملاکنڈ ڈویژن سے پہلی خاتون  سنیٹر  محترمہ فلک ناز بھی  شاہ زرین چرویلو کی اولاد میں سے ایک ہے۔یوں سر مظفر الملک ( مرحوم ) جب ریاست  چترال کے تخت و تاج کے  مالک بننے تو  انہوں نے  خواہش ظاہر کی  کہ  اپنے رضاعی خاندان کے  بہن بھائیوں کو  دربار بلا کر  اُن کی خوب خاطر مدارت کی جائے ۔ شاہ  زرین چرویلو  کی  اولاد میں سے ایک بیٹی زوجہ  حاکمِ مستوج فرمان اکبر خان ( مرحوم ) چپاڑی ڈام یعنی صوبیدار ( مرحوم) کی والدہ ماجدہ    بقید حیات تھیں  ۔ لہذا  مہتر چترال نے  حاکم مستو ج ،المعروف  چپاڑیو حاکم  کو  یہ کہلا بھیجا کہ  اُن کی رضاعی  بہن  اور اُن  کے بچوں کو  چترال محل (  نوغور)بھیجا جائے  کیوں کہ یہ اُن کا گھر ہے  وہ یہاں رہیں گے ۔ حاکم  فرمان اکبر خان نے  اپنی اہلیہ کو  اور دو بچوں، رحمت  اکبر خان اور  اکبر علی  خان ( مرحومین )  کو مہتر چترال کے ایما پر  چترال نوغور روانہ کیا  لیکن ساتھ یہ  پیغام بھی بھیجا کہ میرےخاندان  کا  مہتر کے خاندان کے ساتھ   گہرا رشتہ ہے لیکن  مہتر چترال سے گززرش ہے کہ  میرے  خاندان کی چترال  نوغور سے واپسی پر  کوئی سوغات، کوئی مہربانی  ،کوئی مال و متاع و نذرانہ  ساتھ نہ بھیجی جائے   کیوں کہ  درباری  سوغات  میری  شخصیت کی شایان شان نہیں ۔ بہر حال  حاکم مستوج  کے خاندان کے افراد  بے  حد ناز و نعم کے ساتھ  چترال نوغور میں  3 مہینے  گزار کے واپس آئے  اس کے بعد  چترال نوغور کے  دو مزید دورے کئے  اور  کُل  ملا کے کم و بیش ایک سال  کا عرصہ  مہتر  چترال کی صحبت میں دونوں بھائیوں نے گزاری ۔   محترم  صوبیدار ( مرحوم ) بتاتے تھے کہ   جو  شاہانہ  تعظیم و تکریم  مظفر الملک ، اُن کی اہلیہ اور  شاہزادوں کی  تھی  وہی  شاہانہ وقار  حاکم  مستوج  کی  اہلیہ  اور مہتر چترال کی رضاعی ہمشیرہ  اور اُن کے دونوں بچوں کو بھی حاصل رہا ۔ حاکم  مستوج  فرمان اکبر خان ( مرحوم )  کے چار بیٹے اور چار بیٹیاں  تھیں  بیٹوں میں سردار علی خان ، نادر اکبر خان  ،رحمت اکبر خان  اور  اکبر علی خان   جبکہ  بیٹیوں میں ایک  تور کہو  خال بومی   لال کے عقد میں تھی  ، ایک  بیٹی  حاکم کوغوزی  میر اعظم خان ( مرحوم ) کی اہلیہ تھی،ایک بیٹی چترال دینین میں کمانڈر مہتر کی بہو تھی جبکہ  ایک بیٹی یارخون  بیر زوزو پیر سید غلام علی شاہ کی زوجہ تھی ۔  بیٹوں میں آخر الذکر  دو بیٹوں کی طبیعتوں پر  درباری نزا و نعم  اور نظم و ضبط کی گہر چھاپ  اخری دم تک حاوی رہی     ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔