تازہ ترین

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا دورہ ہنزہ۔ آغا خان ہائیر سیکنڈری سکول ہنزہ کے اساتذہ اور طالبات سے ملاقات

گلگت(چترال ایکسپریس) وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے آغا خان ہائیرسیکنڈری سکول ہنزہ کا دورہ کیا اور ملک کے 50 ہزار سے زائد طلبہ کو اعلیٰ معیارِ کی جدید تعلیم سے آراستہ کرنے پر آغاخان ایجوکیشن سروس پاکستان کی کاوشوں کو سراہا۔
تفصیلات کے مطابق پچھلے دنوں وفاقی وزیر برائے تعلیم، پیشہ وارانہ تربیت و قومی ورثہ اور ثقافت شفقت محمود نے آغا خان ہائیر سیکنڈری سکول ہنزہ کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر وزیر تعلیم گلگت بلتستان اعظم خان، ڈائریکٹر آغا خان یونیورسٹی امتحانی بورڈ، ڈاکٹر شہزاد جیوا، سی ای او آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان، امتیاز مومن اور آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان، گلگت بلتستان اور چترال کے جنرل منیجر بریگیڈئر (ر) خوش محمد خان کے علاوہ سکول کی پرنسپل زہرہ علی داد اور فیکلٹی ممبرز بھی موجود تھے۔ آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان کے سی ای او، امتیاز مومن نے پاکستان کے انتہائی دور افتادہ علاقوں میں اعلیٰ معیار کی تعلیم کی رسائی کو ممکن بنانے کے ضمن میں آغاخان ایجوکیشن سروس کے کردار کا تفصیلی نقشہ پیش کیا جس میں گلگت بلتستان اور چترال کے سکولوں سے فارغ التحصیل طلبہ کا بھی ذکر کیا جو کہ ملکی اور غیر ملکی اعلیٰ معیار کی جامعات سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد آج پاکستان کے بڑے بڑے اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ انہوں نے آغا خان ایجو کیشن سروس کی زیر نگرانی چلنے والے 156 سکولوں کو پاکستان کے روشن مستقبل کا ضامن قرار دیتے ہوئے تعلیم و تربیت کے اس شاندار سلسلے کی مزید توسیع کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ اس موقعے پر سی ای او اور جنرل منیجر نے صوبائی اور وفاقی وزارء کو آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان کی طرف سے شیلڈز بھی پیش کیے۔وزیر موصوف نے آغا خان یونیورسٹی امتحانی بورڈ کے سالانہ امتحانات کے انعقاد کا بھی جائزہ لیا اور جدید طرز پر امتحانات منعقد کرانے پر آغا خان یونیورسٹی امتحانی بورڈ کی پیشہ وارانہ تگ و دو پر بورڈ کی لیڈر شب اور پورے عملے کو خراج تحسین پیش کیا۔ اخر میں شفقت محمود نے مہمانوں کی کتاب پر اپنے تاثرات لکھتے ہوئے آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان کی دل سے تعریف کی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔