
سی پیک روٹ کا مکمل خاتمہ کرکے چترال کے لوگوں کو چترال شندور روڈ کے نام پر ٹرخایا جا رہاہے۔سلیم خان کی پریس کانفرنس
وزیر اعلی کی طرف سے دیر ایکسپریس وے کا اعلان سی پیک روٹ کیلئے دیر اور چترال کے عوام کے اتفاق و اتحاد میں دراڑ پیدا کرنے کی سازش ہے
چترال (محکم الدین) پاکستان پیپلزپارٹی خیبر پختونخوا کے ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری و سابق صوبائی وزیر سلیم خان نے کہا ہے۔ کہ ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ متوسط طبقے کے لوگ بھی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار نے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ایسے میں پی ٹی آئی کی حکومت لوگوں کو ملازمتیں دے کر بر سر روزگار بنانے کی بجائے کلاس فور ملازمتیں ختم کرنے کی بات کر رہا ہے۔ جو کہ انتہائی قابل افسوس ہے۔ ہم اس کی پر زور مذمت کرتے ہیں۔ چترال پریس کلب میں پارٹی کے دیگر عہدہ داروں
محمد حکیم ایڈوکیٹ، انجینئر فضل ربی جان، شریف حسین، قاضی فیصل، عالمزیب ایڈوکیٹ، میر دولہ جان، بشیر احمد وغیرہ کے ہمراہ ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سلیم خان نے کہا کہ چترال سی پیک روٹ پی پی پی اور مسلم لیگ ن کی حکومت میں منظور ہوچکا تھا۔ موجودہ وزیر اعظم اور وزیر اعلی نے بھی اس کی تعمیر کے حوالے سے اعلانات کئے تھے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اب سی پیک روٹ کا مکمل خاتمہ کرکے چترال کے لوگوں کو چترال شندور روڈ کے نام پر ٹرخایا جا رہاہے جو کہ ہرگز اس کا متبادل نہیں ہے اور نہ ہم اسے قبول کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی کی طرف سے دیر ایکسپریس وے کا اعلان سی پیک روٹ کیلئے دیر اور چترال کے عوام کے اتفاق و اتحاد میں دراڑ پیدا کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ لواری ٹنل اپروچ روڈ پر کام بند ہو چکا ہے،چترال گرم چشمہ روڈ اور چترال کالاش ویلیز روڈ کو ڈراپ کیا گیا ہے۔ روڈ بیوٹیفیکیشن کے فنڈز کا پتہ نہیں اور اندرونی دیگر روڈز خستہ حالی کا شکار ہیں جس پر سیاح اور مقامی افراد جس مشکل سے سفر کر رہے ہیں۔
یہ پی ٹی آئی حکومت کی صوبے میں آٹھ سالہ کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اب تک کوئی بھی ایک میگا پراجیکٹ چترال میں تعمیر نہیں کر سکا ہے۔ یونیورسٹی کے بہت دعوے کئے گئے لیکن اب تک وہی ٹیکنکل کالج کے کیمپس میں یونیورسٹی قائم ہے۔ یونیورسٹی کیلئے زمین کی خریداری اور تعمیرات کی باتیں ہوا میں ہو رہی ہیں۔ اور لوگوں کو سبز باغ دیکھائے جا رہے ہیں۔ سلیم خان نے لینڈ سٹلمنٹ پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوامی شاملات اور ریوربیڈز کو سرکار کی ملکیت قرار دے کر 97 فیصد چترال کے رقبے کو سٹیٹ کے قبضے میں دینے کی کوشش کی گئی ہے اور یہ چترال کیعوام کے خلاف بہت بڑی سازش ہے۔ انہوں نے چترال کے معدنی وسائل کو حکومت کی طرف سے نارتھ امریکن کمپنی کو لیز پر دینے کی بھی بھر پور مخالفت کی اور کہا۔
کہ موجودہ حکومت اور اس کے وزرا و مافیا ایک منصوبے کے تحت چترال کے وسائل پر قبضہ جمانا چاہتے ہیں۔ جن کی ہمارے اباو اجداد نے تنگدستی کے باوجود صدیوں تک نسل بہ نسل حفاظت کی۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ کمپنی کو مارچ میں لیز دی گئی ہے جبکہ اس وقت لیز پر پابندی تھی۔ اس لئے قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑا کر یہ کام کیا گیا کیونکہ مذکورہ نارتھ امریکن کمپنی پی ٹی آئی الیکشن کمپین پر فنڈنگ کرتی ہے۔ اور حال ہی میں کشمیر الیکشن میں بھی اس کمپنی کی طرف سے فنڈنگ ہو چکی ہے انہوں نے لیز کیلئے بڑے بلاکس کے طریقہ کار کو انتہائی طور پر غلط قرار د ے کر اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ تاکہ مقامی لیز ہولڈرز محروم نہ ہوں۔
سلیم خان نے ایم این اے اور ایم پی ایز پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ یہ نمایندگان اب بھی ترقیاتی سکیموں کی تقسیم کے معاملے میں یونین کونسل کے خول سے باہر نہیں نکلے ہیں جو کہ افسوسناک ہے۔ انہوں نے چترال میں گولین ہائیڈل پاور سٹیشن کی پیداوری صلاحیت کم ترین سطح پر آنے کے باوجود واپڈا کی خاموشی اور نقائص دور کرنے میں عدم دلچسپی کو معنی خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اربوں روپے کی لاگت سے 108 میگاواٹ کی پیداواری صلاحیت کا یہ پاور ہاوس اب 10میگاواٹ بجلی بھی پیدا نہیں کر رہا اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ انہوں نے فوری طور پر پاور ہاوس کے نقائص دور کرکے بجلی کی پیدوار بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ سابق وزیر نے کہا کہ سوات، نو شہرہ اور صوابی میں گلی گلی میگا پراجیکٹ رکھے گئے ہیں لیکن چترال منصوبوں سے محروم ہے۔
