تازہ ترین

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس۔مولانا چترالی کی طرف سے صحابہ کرامؓ کی توہین کرنے والے افراد کو سخت سزا دلوانے لیے ترمیمی بل بحث کے لئے منظور

اسلام آباد(چترال ایکسپریس)اجلاس میں قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی پاکستان سے چترال سے تعلق رکھنے والے ممبرقومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی کی طرف سے پیش کیاگیا امہات المومنینؓ، اہلِ بیت، خلفائے راشدینؓ، صحابہ کرامؓ کی توہین کرنے والے افراد کو سخت سزا دلوانے لیے مجموعہ تعزیراتِ پاکستان (ایکٹ ۵۴ بابت ۰۶۸۱ء) کی دفعہ 298.A اور مجموعہ ضابطہ فوجداری ۸۹۸۱ء (ایکٹ نمبر ۵، بابت ۸۹۸۱ء) کے شیڈول میں ترامیم پر مبنی ترمیمی بل کو زیر بحث لا کر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے منظور کر لیا

جب بل جمع کرایا گیا تھا تواس پر ان کے ساتھ متحدہ مجلس عمل پاکستان کے ممبران صلاح الدین ایوبی،مولانا عصمت اللہ،زاہد اکرم خان درانی،مفتی عبدالشکور،سید محمود شاہ جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے ممبران انجینئر عثمان خان ترکئی،مجاہد علی نے بھی بل دستخط کیے تھے

یہ بل قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط مجریہ 2007ء کے قاعدہ 118 کے تحت نجی ارکان کے بل کے طور پر جمع کرایا گیا تھا

اس سے قبل امہات المومنینؓ، اہلِ بیت، خلفائے راشدینؓ، صحابہ کرامؓ کی توہین کرنے والے افراد کی سزا تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۸۹۲-الف میں سزا صرف تین سال ہے اور معمولی جرمانہ ہے جبکہ جرم قابلِ ضمانت بھی ہے۔لیکن موجودہ ترمیم کے مطابق  امہات المومنینؓ، اہلِ بیت، خلفائے راشدینؓ، صحابہ کرامؓ کی توہین کرنے والے افرادکی کم سے کم سزا دس سال اور زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید تجویز کی گئی ہے اور جرم ناقابل ضمانت ہوگا اور مقدمہ مجسٹریٹ کی عدالت کی بجائے سیشن کورٹ میں چلایا جائے گا۔

اس بل کے اغراض ومقاصد میں کہا گیا ہے کہ سرکارِ دو عالم ﷺ کے گستاخ کی مقرر کردہ سزا تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ(۵۹۲-سی) کے تحت سزائے موت ہے، اور دشمنانِ رسول ﷺ کو سزائے موت کے ڈر کی وجہ سے کھلم کھلا گستاخی کی جرأت نہیں ہوتی۔ گنے چنے لوگ چوری چھپے انٹر نیٹ، سوشل میڈیا وغیرہ پر اِکا دُکا توہین آمیز صفحات اپ لوڈ کرتے اور پیغامات بھیجتے رہتے ہیں، تاہم گستاخِ رسولﷺ کی سزا  سزائے موت مقرر ہونے کی وجہ سے اس جرم کے مرتکب افراد کی تعداد بہت کم ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ صحابہ کرامؓ، مقدس ہستیوں اور شخصیات کی توہین سے نہ صرف وطنِ عزیز کے اندر دہشت گردی اور فتنہ و فساد کو فروغ حاصل ہوتا ہے بلکہ اس قسم کے جرائم کے ارتکاب سے ملک کے ہر طبقہ کے لوگوں کی دل آزادی بھی ہوتی ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فتنہ و فساد کی دو ٹوک الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ”فتنہ قتل سے بڑا جرم ہے“۔

 تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۸۹۲-الف میں امہات المومنینؓ، اہلِ بیت، خلفائے راشدینؓ، صحابہ کرامؓ کی توہین کے مرتکب افراد کے لیے مقرر کردہ زیادہ سے زیادہ سزا تین سال  مع معمولی جرمانہ ہے، جبکہ یہ جرم قابلِ ضمانت بھی ہے۔  اس قدر کم سزا ہونے کی وجہ سے مجرمان سزا پانے کے باوجود دوبارہ اس جرم کے مرتکب ہوسکتے ہیں۔ نیز موجودہ کم سزا کی بناء لوگ ایسے مجرمان کو از خود سزا دینے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے قانون ہاتھ میں لینے کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے۔

امہات المومنینؓ، اہلِ بیت، خلفائے راشدینؓ، صحابہ کرامؓ کی توہین کے مرتکب افراد نہ صرف ملکِ پاکستان پر حملہ آور ہوتے ہیں بلکہ یہ ملک دشمنوں کو بھی حملہ آور ہونے کی دعوت دینے کا باعث بنتے ہیں۔ ایسے جرم کے مرتکب افراد ملکی سلامتی کے لیے شدید خطرات پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ اسی وجہ سے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۱۲۱ کے تحت ایسے مجرمان (یعنی ملکی سلامتی کے لیے شدید خطرہ بننے والے افراد)کی سزا  سزائے موت مقرر کی گئی ہے۔ لہٰذا تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۸۹۲-الف کوبھی تعزیراتِ پاکستان ہی کی دفعہ ۱۲۱ کیساتھ پڑھا اور دیکھا جانا ضروری ہے۔ (کیونکہ یہ افراد دینی اساس کا سبب بننے والے معاملات پر حملہ آور ہوتے ہیں)

ان ترامیم کے جواز میں مزید کہا گیا ہے کہ جرائم کی فہرست میں چند جرائم ایسے بھی ہیں جو نوعیت کے لحاظ سے امہات المومنینؓ، اہلِ بیت، خلفائے راشدینؓ، صحابہ کرامؓ کی توہین سے بہت کم درجہ کے ہیں، لیکن تعزیراتِ پاکستان میں ان کی سزائیں دفعہ ۸۹۲-الف سے کہیں زیادہ ہیں۔ مثلاً

1۔    تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۵۹۲-الف کے تحت اگر کوئی شخص کسی کے مذہبی شعائر یا مذہبی راہنما کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے تو اس کی سزا ۰۱ سال سزائے قید ہے۔ جبکہ امہات المومنینؓ، اہلِ بیت، خلفائے راشدینؓ، صحابہ کرامؓ کی توہین کرنے والے کی سزا تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۸۹۲-الف میں نہ ہونے کے برابر ہے اور یہ قابلِ ضمانت بھی ہے۔

2۔     تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۰۰۵ کے تحت عام آدمی کی توہین پر پانچ سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ہے۔ جبکہ امہات المومنینؓ، اہلِ بیت، خلفائے راشدینؓ، صحابہ کرامؓ کی توہین کرنے کی سزا دفعہ ۸۹۲-الف میں نہایت کم ہے۔

3۔   دفعہ ۱۸۳-الف تعزیرات پاکستان کے تحت سزا ”۰۱ سال قید اور جرمانہ“ ہے۔ جبکہ امہات المومنینؓ، اہلِ بیت، خلفائے راشدینؓ، صحابہ کرامؓ کی توہین کرنے والے کی سزا دفعہ ۸۹۲-الف میں نہایت کم ہے۔
جبکہ عبد الاکبر چترالی کی طرف سے نادرا کنٹریکٹ ملازمیں کومستقل کرنے کے حوالہ سے سیکشن 35 میں دی گئی ترمیم کو قائمہ کمیٹی نے مسترد کردیا.

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔