تازہ ترین

وزیراعلیٰ محمود خان کے زیر صدارت ہائیڈل ڈویلپمنٹ فنڈ بورڈ کا پندرہواں اجلاس

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت ہائیڈل ڈویلپمنٹ فنڈ بورڈ کا پندرہواں اجلاس گزشتہ روز وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں منعقد ہو ا۔ وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس میں بورڈ کے سابقہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور پیڈو کے تحت توانائی کے جاری اور نئے منصوبوں کے لئے تخمینہ بجٹ برائے مالی سال 2021-22 کی منظوری دی گئی۔ پیڈو کے تحت بیس جاری سکیموں اور انیس نئی سکیموں کے لئے بجٹ کا تخمینہ بیس ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔ اجلاس میں پیڈو کے تحت جاری اور مستقبل میں نئے منصوبوں کی فنڈنگ کے لئے مجوزہ بزنس ماڈل کی بھی منظوری دی گئی۔ علاوہ ازیں کسی اچھی شہرت کے حامل چارٹرڈ فرم کے ذریعے ہائیڈل ڈویلپمنٹ فنڈ کا فنانشل آڈٹ منعقد کرانے کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ مالی سال برائے 2020-21 کے لئے ہائیڈل ڈویلپمنٹ فنڈ کے سالانہ اکاونٹس تیار کرلئے گئے ہیں ۔ فنڈ نے مذکورہ مالی سال کے دوران 879.461 ملین روپے نفع حاصل کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے پیڈو حکام کو صوبے میں جاری منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے جبکہ نئے منصوبوں پر کام کا بروقت آغاز یقینی بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے خصوصی طور پر بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ اور گبرال کالام ہائیڈرو پروجیکٹ پر عملی کام کا اجراءکرنے کے لئے حصول زمین سمیت تمام تر تقاضے جلد پورے کرنے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ منصوبوں پر عملدرآمد میں غیر ضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ رواں سال ترقیاتی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلے میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ صوبائی حکومت امسال ترقیاتی منصوبوں پر واضح پیش رفت دیکھنا چاہتی ہے اور عوامی مفاد کے حامل تکمیل کے قریب میگا منصوبوں کی تکمیل ترجیح ہے تاکہ عوام ان منصوبوں سے بلاتاخیر مستفید ہو سکیں ۔ انہوں نے آئندہ ایک ہفتہ کے اندر صوبے میں توانائی کے جاری منصوبوں خصوصاً مائیکرو ہائیڈرو پاور پروجیکٹس پر تازہ ترین پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ بھی پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔