تازہ ترین

آغاخان یوتھ اینڈ سپورٹس بورڈ نے جونئر گائیڈ اور گرل گائیڈز کے لیے 9 روزہ گلوبل ورچول کیمپوری کا انعقاد کیا

کراچی (چترال ایکسپریس) آغاخان یوتھ اینڈ سپورٹس بورڈ (AKYSB)نے جونئر گائیڈ اور گرل گائیڈز کے لیے 9 روزہ گلوبل ورچول کیمپوری کا انعقاد کیا۔ کیمپوری کا مقصد مستقبل کے لئے ایک ایکشن پلان بنانا اور ساتھ سفیر ، معاشرتی کاروباری اور ماحولیاتی استحکام کے ماڈل تلاش کرنا ہے۔ اس کیمپوری میں 7 ممالک جن میں پاکستان، انڈیا، بنگلا دیش، یو اے ای، یوگنڈا، تنزانیہ اور موزمبق سے 602 گائیڈز نے شرکت کی۔ اسی سلسلے کی پہلی کیمپوری دسمبر 2020 میں منعقد ہوئی تھی۔
ماریہ مود سابری، نیشنل کمیشنر، پاکستان گرل گائیڈز اسوسی ایشن نےاس کیمپ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور ساتھ ہی معروف موسقار فیصل کاپاڈیا اور آسکر جیتنے والی فلم میکر شرمین عبید چنائے کی نوٹ سپیکرز میں شامل ہوں گے۔
اپنے استقبالیہ پیغام میں ماریہ مود سابری نے AKYSB کو مبارک باد پیش کی اور کہا کہ ’’پینڈیمک نے سب کے لیے مشکل حالات پیدا کیے ہیں جس کے نتیجے میں ہماری سماجی زندگی میں تعطل پیدا ہوا۔ یہ کیمپوری گائیڈز کے لئے دلچسپ مہارت سیکھنے اور ورچولی نئے دوست بنانے کا ایک بہترین موقع فراہم کر رہاہے۔‘‘
اس کیمپوری کو دوگروپس میں تقسیم کیاگیاہے۔جونئر گائیڈز جس میں 6 سے 11 سال کی بچیاں اور دوسرا گروپ گرل گائیڈز جس میں 11 سے 16 سال کی بچیاں شامل ہیں۔روزانہ کی سرگرمیوں کو مختلف مہارتو ں پر مشتمل پانچ بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد ہدایت کاروں کو اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے ، جدید دور کے چیلنجز کو سمجھنے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لئے تکنیکی مہارتوں کو فروغ دینے ، تخلیقی صلاحیتوں کو سیکھنے اور مستقبل کی تیاری کرنے اور خود کومستقبل کے لیے قابل بنانا ہے۔
شمس جیوہ، صدر گائیڈز، AKYSB نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ، ’’یہ کیمپ ہماری نوجوان لڑکیوں کو سفیر بنانے کے لئے اور انہیں عالمی شہری کی حیثیت سے تیار کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔ یہ لڑکیاں کمیونٹی میں فعال کردار ادا کریں گی اور دنیا کو زیادہ پرامن ، پائیدار اور بہتر بنانے کے لئے ایک مثبت کردار اداکریں گی۔‘‘
کیمپ کا اختتام 25 جولائی کو پاکستان گرل گائیڈ ایسوسی ایشن کی صدر محترمہ فرحانہ عظیم کی صدارت میں ایک ورچول اختتامی تقریب کے ساتھ ہوگا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔