تازہ ترین

سیاحتی مقامات تک آسان رسائی یقینی بنانے کیلئے سڑکوں کی بروقت تکمیل ناگزیر ہےوزیراعلیِ محمود خان

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے صوبے کے سیاحتی مقامات تک آسان رسائی یقینی بنانے کیلئے رابطہ سڑکوں کی تعمیر کے جاری اور نئے منصوبوں پر ٹائم لائن کے مطابق پیش رفت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لئے ان سڑکوں کی بروقت تکمیل ناگزیر ہے۔ وہ وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں شعبہ سیاحت کے تحت سڑکوں کے منصوبوں کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ صوبائی وزیر اشتیاق ارمڑ کے علاوہ وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان ، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز، ڈائریکٹر انٹگریٹڈ ٹوارزم پراجیکٹ اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو رواں سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل سیاحتی مقامات تک رسائی کیلئے سڑکوں کے منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفینگ دی گئی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ صوبے کے مختلف ریجنز خصوصی طور پر ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن کے سیاحتی مقامات تک سیاحوں کی آسان رسائی کیلئے اربوں روپے کی لاگت سے متعدد منصوبوں پر کام شروع ہے۔ ملاکنڈ ڈویژن میں 11 مختلف سیاحتی سڑکوں کی تعمیر پر کام جاری ہے جن کا نظر ثانی شدہ تخمینہ لاگت4812 ملین روپے ہے۔ اسی طرح ہزارہ ڈویژن میں سیاحتی مقامات تک رسائی بہتر بنانے کے منصوبے کے تحت چھ مختلف سڑکوں کی تعمیر پر کام جاری ہے ، جن کانظر ثانی شدہ تخمینہ لاگت4655 ملین روپے ہے۔ علاوہ ازیں جنوبی اضلاع کے سیاحتی مقام شیخ بدین تک اپروچ روڈ کی تعمیر بھی رواں ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے ، جس کا تخمینہ لاگت 3 ارب روپے سے زائد ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انٹگریٹڈ ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے تحت بھی دو سکیموں پر پیشرفت جاری ہے جن میں 24.4 کلومیٹر طویل ایبٹ آباد تا ٹھنڈیانی روڈ کی بہتری و بحالی اور 23 کلومیٹر منکیال سے بڈا سرائے روڈ کی تعمیر شامل ہے۔ ان سکیموں کا تخمینہ لاگت بالترتیب2584 ملین روپے اور 3480 ملین روپے ہے۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تیار شدہ نئی سکیموں کے ٹینڈرز جلد جاری کئے جائیں تاکہ ان سکیموں پر بلا تاخیر عملی کام کا اجراءممکن ہو سکے۔ وزیراعلیٰ نے اس مقصد کے لئے محکمہ مواصلات و تعمیرات کے طرز پر ای ٹینڈرنگ اور ای بڈنگ کا طریقہ اختیار کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبے میں سیاحت کے شعبے کا تیز رفتار فروغ موجودہ حکومت کے چند بڑے اہداف میں شامل ہے۔ اس مقصد کیلئے تمام ترجاری ترقیاتی منصوبوں خصوصاً اپروچ روڈز کی تعمیر و بحالی کی اسکیموں کو مقررہ وقت میں مکمل کرنے کی ضرورت ہے جس کے لئے محکمہ سیاحت سمیت دیگر تمام متعلقہ محکموں کو اپنی اپنی ذمہ داریوں کی بروقت انجام دہی کو یقینی بنانا ہوگا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔