مضامین

کچھ تو ادھر بھی…محمد شریف شکیب

حکومت نے وسیلہ تعلیم پروگرام کے دائرہ کار کو پرائمری سے سکینڈری اور ہائیر سکینڈری تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت سماجی تحفظ و تحفیف غربت نے احساس وسیلہ تعلیم پروگرام میں رواں مالی سال کے دوران مزید 17 لاکھ 50 ہزار طلبا کو شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔پرائمری کلاس کے 10 لاکھ، سیکنڈری کے 5 لاکھ جبکہ ہائیر سکینڈری کے 2 لاکھ 25 ہزار طلبا کو پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کی تکمیل پر سیکنڈری و ہائیر سیکنڈری کلاس کے طلباکو تعلیمی وظائف ملنا شروع ہوجائیں گے۔وسیلہ تعلیم پروگرام کے تحت پرائمری کلاس کے بچوں کو فی سہ ماہی 1500 جبکہ بچیوں کو 2000 روپے دیئے جائیں گے سکینڈری کلاس کے بچوں کو فی سہ ماہی 2500 جبکہ بچیوں کو 3000 روپے ملیں گے۔ ہائیر سکینڈری کلاس کے بچوں کو فی سہ ماہی 3500 جبکہ بچیوں کو 4000 روپے دئے جائیں گے۔ پانچویں جماعت پاس کرنے پر بچیوں کو 3000 روپے اضافی رقم بھی دی جائے گی۔وزارت سماجی تحفظ و تخفیف غربت کے اعدادوشمار کے مطابق وسیلہ تعلیم پروگرام کے آغاز سے اب تک 44 لاکھ 50 ہزار طلبا کا وظائف کے لئے اندراج ہوا ہے اور انہیں اب تک مجموعی طور پر 19 ارب روپے تعلیمی وظائف کی مد میں فراہم کئے جاچکے ہیں۔وسیلہ تعلیم پروگرام کا بنیادی مقصد خواندگی کی شرح بڑھانا اور نادار طلبا کی مالی اعانت کے ذریعے انہیں تعلیم جاری رکھنے میں مدد دینا ہے۔ اس پروگرام کی بدولت تعلیمی اداروں میں داخلوں کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ تاہم یہ سہولت صرف سرکاری تعلیمی اداروں کے طلبا و طالبات کو حاصل ہے ملک بھر میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے کروڑوں بچے اس سہولت کے حق دار نہیں ہیں۔ سرکاری اداروں کے تعلیمی معیارکو بہتر بنانے کے لئے حکومت کی طرف سے کوئی قابل ذکر کوشش ابھی تک نہیں کی گئی۔ تمام والدین کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے اچھی تعلیم حاصل کریں جس کے لئے وہ اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر بچوں کے تعلیمی اخراجات پورے کرتے ہیں۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے تمام بچے متمول خاندانوں سے تعلق نہیں رکھتے۔ ان بچوں کی اکثریت متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہے جن میں سرکاری اور پرائیویٹ اداروں کے ملازمین کے بچے شامل ہیں۔ مہنگائی کے اس دور میں والدین اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات اور پرائیویٹ سکولوں کی آئے روز کی فرمائشیں کس طرح پوری کرتی ہیں اس کا اندازہ پالیسی ساز نہیں لگا سکتے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ وسیلہ تعلیم پروگرام میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے نادار اور ہونہار بچوں کے لئے بھی کوٹہ مقرر کیا جائے۔قومی وسائل پراس ملک میں بسنے والے تمام لوگوں کا مساوی حق ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ قومی وسائل کو صرف سرکار سے وابستہ لوگوں کا استحقاق سمجھا جاتا ہے۔ ہر سال بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ لیکن پرائیویٹ اداروں میں کام کرنے والے کروڑوں افراد کو قومی وسائل سے پھوٹی کوڑی بھی نہیں ملتی۔ حکومت مزدور کی کم سے کم اجرت کا بجٹ میں اعلان تو کرتی ہے مگر اپنے فیصلے کو نافذ کرنے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔ آج مزدور کی کم سے کم اجرت بیس سے پچیس ہزار کے درمیان مقرر کی گئی ہے لیکن پرائیویٹ سکولوں، کارخانوں، بھٹہ خشت کے مزدوروں گھروں اور دکانوں میں محنت مشقت کرنے والوں کو آج بھی آٹھ دس ہزار سے زیادہ اجرت نہیں ملتی۔ سرکاری ملازمین کوتنخواہوں اور مراعات میں اضافے کے لئے احتجاج، توڑپھوڑ اورقلم و اوزار چھوڑ ہڑتال کا حق حاصل ہے مگر پرائیویٹ اداروں کے کروڑوں ملازمین اس حق سے بھی محروم ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت اگر بلاامتیاز انصاف پر یقین رکھتی ہے تو معاشرے کے ان طبقات پر بھی نظر کرم کرنی چاہئے جو اب تک ہر قسم کی مراعات سے محروم ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔