تازہ ترینمضامین

نرسز سراپا احتجاج, آخر نرسز کو احتجاج پر مجبور کیوں کیا جاتا ہے…تحریر: ناصرعلی شاہ

  1. نرسنگ عالمی ادارہ صحت کے قوانیں کے مطابق شعبہ صحت کے اندر مخصوص مہارت و قابلیت کیساتھ علیحدہ پیشہ ہے مگر افسوس نرسز کی پیشہ ورانہ مہارتوں, ان کی خدمات کو کھلے دل سے قبول کرنے کے بجائے حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے جس کی بہت سے سارے وجوہات ہیں جس کے اوپر پھر کبھی لب کشائی کی کوشش کرینگے مگر ان میں سے ایک وجہ انا پرستی ہے کہ کوئی مجھے تسلیم کرنے کے بجائے نرسز کی کام کو نہ صراہہے اور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس کی وجہ سے نرسنگ پیشے کی تذلیل جاری رہتی ہے.

نرسز کی خدمات کا اعتراف عالمی سطح پر کی جاتی ہے عوام اور مریض ان کے اوپر بھروسہ کرتے ہیں مریضوں کے معاملات پر نرسز ,ڈاکٹرز مشاورت ہوتی ہے جس کا فائدہ براہ راست مریض کو ملتا ہے پاکستاں خاص کر خیبر پختنخواہ میں نرسز کیساتھ حکومت اور بیشتر ڈاکٹرز کا روایہ کچھ اچھا نہیں, حکم دینے اور فالو کرنے کو اپنی عزت جبکہ جائز جواب پر حکم عدولی تصور کرکے ڈرانے کی کوشش کی جاتی ہے جہاں طبیب اور حکومتی ارکاں ہی نرسز کی خدمات کا اعتراف کے بجائے اعتراض کرے وہاں عوام یا مریضوں سے گلہ شکوہ عقلمندی نہیں کیونکہ ان کی بدولت معاشرہ زہنی بیمار ہے اور سارے غلطیوں کا ملبہ نرسز پر ڈال دیا جاتا ہے.
کسی بھی ہسپتال میں نرسز صیح اور غلط میں تمیز کرنے کے ساتھ ساتھ اگر خاموشی اختیار کرکے جی جی کرے اور ہاں میں ہاں ملائے وہ سب کا چہیتا ہوگا اگر وارڈ کے اندر واش رومز صاف رکھوانے کا ٹھیکہ لے گا وہ انکھوں کا نور اور دل کا سرور ہوگا مگر اگر اپنے حاصل کردہ علم کو بروئے کار لاتے ہوئے علاج و معالج میں گفت شنید کریگا/گی تو منہ پھٹ کہلایا جائیگا اور بدتمیزی کا سرٹیفیکیٹ تھما کر اس کو نکالنے کی سازیشین کی جائینگی صرف اور صرف آنا کی خاطر ایک دوسروں کو اس بندے کے خلاف ورغلایا جائیگا یہان تک کہ اس کو نکالنے کی بھی کوشش کی جائیگی.
ہیلتھ کیئر کمیشن نے ہیلتھ ملازمیں کے لئے قوانیں وضع کئے ہیں مگر جب مسئلہ انا اور تعلقات کا بن جائے تو قوانیں کو بھی جوتے کی نوک پہ رکھا جاتا ہے پھر وہ بندہ کتنا ہی درست کیوں نہ ہو بڑے عہدوں پر بیٹھے شاطر لوگ ان کے خلاف ثبوت اکھٹا کرنے, اس کو ہٹانے یا تبادلہ کروانے میں دیر نہیں لگاتے جس کی وجہ سے وہ دھتکارا ہوا شخص اپنے ایسوسیشن کے پاس پہنچ جاتا ہے پہلے مرحلے میں خوش اسلوبی سے معاملات حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر اپنی ضد, انا, اقراباپروری اور نشست کے نشے میں دھت افسراں اسیوسیشن یا نرسز کو اچھوت سمجھ کر یہ کہتے ہوئے نکال دیتے ہیں جو کرنا ہے کر لے, مطلب اس سربراہ کو نہ ادارے کی پرواہ ہے نہ مریضوں کی فکر, جس کا انجام احتجاج کی صورت میں سامنے اتا ہے اور اس احتجاج کا زمہ دار صرف اور صرف ادارے کے سربراہان کی ہٹ دھرمی ہوتی ہے نہ کہ ایسوسیشنز کی.
1973 کے قانوں کے مطابق پاکستان میں نرسز ایسوسیشنز کام کر رہے ہیں جو حکومت, پاکستان نرسز فیڈریش اور جینوا کے ساتھ رجسٹرڈ ہوتے ہیں اور یہ نرسز کے مسائل حکومت وقت اور ادارے کے سربراہاں تک پہنچانے کے مجاز ہیں اسی طرح ڈاکٹرز ایسوسیشنز ہیں وہ بھی ہر ہسپتال کے اندر اپنا کام کر رہے ہیں اور ضرورت پڑنے پر پرامن احتجاج کرتے رہتے ہیں.

پشاور انسٹیٹوٹ اف کارڈیالوجی پشاور حکومت کے پی طرف سے بنایا گیا بہتریں ہسپتال ہے جہاں امراض قلب کے مریضوں کو بہتریں کیئر ملتا ہے جدید مشنریز کی سہولیات سے آراستہ ہسپتال کے اندر قابل ڈاکٹرز اور کوالیفائڈ نرسز اپنی شاندار پیشہ ورانہ مہارت کیساتھ مریضوں کی خدمت کرکے ہسپتال کی خوبصورتی کو مزید نکھار دیتے ہیں.

پشاور انسٹیٹوٹ اف کارڈیالوجی کے نرسز اخر کار کالی پٹی بندھنے اور احتجاج پر مجبور کیوں ہیں؟

ہیلتھ کیئر کمیشن کے حکمنامے کے مطابق کیتھ لیب منیجر نرس ہوسکتا ہے مگر وہاں نان نرس کو اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے لگایا جاچکا ہے جو اقراباپروری کی افسوسناک مثال ہے یہی نہیں نرسز تنگ کرنے پر بھی کوئی ایکشن نہیں ہوتا اور ذرائع کے مطابق اس شخص کے خلاف شکایت بھی کی گئی مگر ردی کی ٹوکری میں پھینکا جاچکا ہے اسی بات کا بدلہ لینے کے لئے موقع کا فائدہ اٹھا کر میٹینگ کا بہانہ بنا کر سربراہ کے چہیتے کی طرف سے نرسنگ ڈائیریکٹر کو شکایت کرنے کے بجائے سیدھا ہسپتال ڈائیریکٹر کو کیا جاتا ہے اور ڈائیریکٹر صاحب نرسنگ ڈائیریکٹر کو (جو ایم ٹی ائی قوانیں کے مطابق نرسز کا سربراہ ہے اور ان کے بیعیر کوئی فیصلہ لاگو نہیں ہوتا) کو بائی پاس کرکے اپنی مرضی کا کمیٹی تشکیل دیکر نرس کو نوکری سے فارغ کر دیا جاتا ہے جو ریاست کے اندر الگ ریاست بننے کے مترادف ہے.

اس تمام صورتحال کے بعد ایسوسیشن عہدیداروں کا ڈائیریکٹر سے ملنا, ڈائیریکٹر کی طرف سے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی باتیں اس بات کا ثبوت ہے کہ اس شخص کو نہ ادارے کی پرواہ ہے اور نہ مریضوں کی فکر,
بات ایسوسیشن کی ہے تو کیا اس ریاست میں نرسز کی اواز بننا, حق کے لئے اواز اٹھانا جرم ہے؟ کیا نرسز کے حقوق سلب کرنے سے ادارے کی سالمیت برقرار رہیگی جواب ہرگز نہیں, بلکہ اہستہ اہستہ نرسز کھسکنا شروع ہونگے اور یوں عالیشاں بلڈنگ کھنڈر, اور مریض رل جائینگے ساتھ میں یہ بھی کہونگا ایسا نہ ہو کہ سارے نرسز ایک ہی دن ایک ساتھ اپنے استعفے دیکر نکل جائے کیونکہ اب کوئی بھی غلط فیصلے کو ماننے کے لئے تیار نہیں کیونکہ بات اب حق اور باطل کی ہے
حکومت وقت سے مطالبہ ہے مداخلت کرکے نرسز کے حقوق دلایا جائے وگرنہ جیت نرسز کی ہو یا ڈائیریکٹر کی نقصاں حکومتی ادارے کو ہوگا

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔