تازہ ترین

جماعت اسلامی ضلع چترال کے زیر اہتمام عید ملن پارٹی کا انعقاد

چترال(چترال ایکسپریس)گذشتہ روز پولو گراؤنڈ چترال میں جماعت اسلامی ضلع چترال کے زیر اہتمام عید ملن پارٹی منعقد ہوئی۔ جس میں امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان بھی خصوصی طور پر شریک ہوئے۔
پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے کیا گیا۔اسٹیج سیکرٹری کے فرائض قیم ضلع وجیہہ الدین سرانجام دے رہے تھے۔
کووڈ 19 کی وجہ سے گزشتہ سال عید ملن پارٹی کا اہتمام نہ ہو سکا تھا تاہم امسال روایت کو بر قرار رکھتے ہوئے پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں چترال کے طول و عرض سے کثیر تعداد میں جماعت اسلامی کے کارکنان و ہم خیال افراد نے شرکت کی۔
امیر ضلع مولانا اخونزادہ رحمت اللہ، ایم این اے چترال مولانا عبدالاکبر چترالی، مولانا شیر عزیز، مولانا جمشید احمد اور الحاج خورشید علی خان نے شرکاء سے خطاب کیا۔
مولانا چترالی نے اپنے خطاب میں پی ٹی آئی کے شکست خوردہ ضلعی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہیں بے بنیاد سیاسی پروپیگنڈوں سے باز رہنے کا مشورہ دیا۔ایم این چترالی نے پاکستان کے ایوان زریں میں ملت اسلامیہ، اور اپنے حلقے کی نمائندگی کی روداد پیش کی۔
امیر صوبہ مشتاق احمد خان نے سینٹ آف پاکستان میں سیکولر طبقوں کی جانب سے کی جانے والی ریشہ دوانیوں اور اسلام مخالف قانون سازی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت عالمی طاقتوں کے اشارے پر ملک میں غیر شرعی قوانین بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ مشتاق احمد خان نے اسلامی تعلیمات سے متصادم قانون سازی کی کوششوں چیلنج کرنے اور غیر شرعی قانون سازی کی کاوشوں کو ناکام بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ آئین پاکستان اس ملک میں اسلامی اصولوں سے متصادم قانون سازی کی اجازت نہیں دیتا، لہذا ہم کسی بھی اسلام مخالف قانون سازی کی راہ میں مزاحم بنیں گے۔
امیر صوبہ نے بجٹ کا میزانیہ، بیرونی قرضوں کی تفصیل اور مہنگائی کے بارے میں نہایت مفصل خطاب کے ساتھ اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ان شاء اللہ ہم ہر حال میں اسلام کی سر بلندی اور اسلامی شعائر کی حفاظت کے لیے ایوان کے اندر اور باہر لڑتے رہیں گے۔
پروگرام کا اختتام مولانا اسرار الدین کے اختتامی کلمات اور دعا سے ہوا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔