حکومت شندور میں لاسپور کے رہائشی پر غذر کے شرپسندوں کی طرف سے حملے کا نوٹس لے ۔ عمائدین لاسپور

چترال(نمایندہ ایکسپریس) وادی لاسپور کے عوام کی ایک ہنگامی میٹنگ گذشتہ روز بروک کے مقام پر منعقد ہوئی،میٹنگ حالیہ عیدالاضحی کے تعطیلات کے دوران غذر سے تعلق رکھنے والے چند شرپسند عناصرکا بمقام شندور آکر ویلی لاسپور کے باشندے کے ہوٹل اور مکانات پر حملہ آور ہونے کی ناکام کوشش اور حملے کی دھمکی کے ردعمل میں بلایا گیا تھا۔میٹنگ میں ,زلفی ہنر شاہ سابق ممبر ڈسٹرکٹ کونسل،شاہد علی خان یفتالی ایڈوکیٹ،زارمحمد،عزت مند شاہ ساب ایک متفقہ قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ شندور ایک وسیع وعریض رقبے پر پھیلا ہوا ایک علاقہ ہے جس پر وادی لاسپور کے عوام کے چھ سو کی تعدادمیں گرمائی رہائشی مکانات،عبادت خانے اورپانچ پولو گراونڈز ہیں۔قدیم الایام سے شندور عوام لاسپور کا مقبوضہ،مملوکہ اور غیر متنازعہ علاقہ ہے جبکہ کھوکش لنگر نالہ عوام لاسپور اور غذرکے مابین متنازعہ رہا ہے جس پر عوام سور لاسپور کے مکانات باسیم گوچو شال تعمیر تھے اور نشانات اب بھی موجود ہیں۔ان لوگوں نے مکانات سے متصل مشہور پولوگراونڈ لنگر جنالی بھی تعمیر کیا تھا۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ قدیم الایام سے کُھوکش لنگر کے جنگلات کے تحفظ کیلئے نگران کا تقرر عوام لاسپور سے ہی کیا جاتا تھا جسکا منہ بولتا ثبوت مسمی میرزہ پناہ ولد درویش پناہ کی کھوکش کے جنگلات پر بحیثیت نگران تقرری ہے جسکا پنشن اسکے انتقال کے بعد اسکی بیوہ وصول کررہی ہے۔عوام لاسپور نے قرارداد کے ذریعے حکام بالا سے استدعا کی ہے کہ مذکورہ آسامی کو بحال کرکے عوام لاسپور سے ایک نوجوان کو کھوکش جنگلات کے تحفظ کیلئے تعینات کیا جائے اور اس نالے پر کسی بھی قسم کی تعمیرات سے عوام غذر کو باز رکھا جائے تاکہ اسکی متنازعہ حیثیت برقرار رہے اور لاسپور اورغذر کے مابین تصادم نہ ہو۔
عوام لاسپور نے قرارداد کے ذریعے ضلعی،صوبائی اور وفاقی حکام سے بھرپور مطالبہ کیا ہے کہ غذر کے چند شرپسند عناصر کو منظر عام پر لاکر ان کے خلاف سخت سے سخت قانونی اور تادیبی کاروائی عمل میں لائے تاکہ علاقے کے امن کو کوئی خطرہ نہ ہو۔چترال(نمایندہ ایکسپریس) وادی لاسپور کے عوام کی ایک ہنگامی میٹنگ گذشتہ روز بروک کے مقام پر منعقد ہوئی، جس میں سابق ممبر ڈسٹرکٹ کونسل لاسپور ذلفی ہنر شاہ ،عزت مند شاہ سابق کونسلر۔،زار محمد، ایڈوکیٹ شاہد علی خان یفتالی کے علاوہ بڑی تعداد میں علاقے کے عمائدین نے شرکت کی ۔ میٹنگ حالیہ عیدالاضحی کے تعطیلات کے دوران غذر سے تعلق رکھنے والے چند شرپسند عناصرکا بمقام شندور آکر ویلی لاسپور کے باشندے کے ہوٹل اور مکانات پر حملہ آور ہونے کی ناکام کوشش اور حملے کی دھمکی کے ردعمل میں بلایا گیا تھا۔میٹنگ میں ایک متفقہ قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ شندور ایک وسیع وعریض رقبے پر پھیلا ہوا ایک علاقہ ہے جس پر وادی لاسپور کے عوام کے چھ سو کی تعدادمیں گرمائی رہائشی مکانات،عبادت خانے اورپانچ پولو گراونڈز ہیں۔قدیم الایام سے شندور عوام لاسپور کا مقبوضہ،مملوکہ اور غیر متنازعہ علاقہ ہے جبکہ کھوکش لنگر نالہ عوام لاسپور اور غذرکے مابین متنازعہ رہا ہے جس پر عوام سور لاسپور کے مکانات باسیم گوچو شال تعمیر تھے اور نشانات اب بھی موجود ہیں۔ان لوگوں نے مکانات سے متصل مشہور پولوگراونڈ لنگر جنالی بھی تعمیر کیا تھا۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ قدیم الایام سے کُھوکش لنگر کے جنگلات کے تحفظ کیلئے نگران کا تقرر عوام لاسپور سے ہی کیا جاتا تھا جسکا منہ بولتا ثبوت مسمی میرزہ پناہ ولد درویش پناہ کی کھوکش کے جنگلات پر بحیثیت نگران تقرری ہے جسکا پنشن اسکے انتقال کے بعد اسکی بیوہ وصول کررہی ہے۔عوام لاسپور نے قرارداد کے ذریعے حکام بالا سے استدعا کی ہے کہ مذکورہ آسامی کو بحال کرکے عوام لاسپور سے ایک نوجوان کو کھوکش جنگلات کے تحفظ کیلئے تعینات کیا جائے اور اس نالے پر کسی بھی قسم کی تعمیرات سے عوام غذر کو باز رکھا جائے تاکہ اسکی متنازعہ حیثیت برقرار رہے اور لاسپور اورغذر کے مابین تصادم نہ ہو۔
عوام لاسپور نے قرارداد کے ذریعے ضلعی،صوبائی اور وفاقی حکام سے بھرپور مطالبہ کیا ہے کہ غذر کے چند شرپسند عناصر کو منظر عام پر لاکر ان کے خلاف سخت سے سخت قانونی اور تادیبی کاروائی عمل میں لائے تاکہ علاقے کے امن کو کوئی خطرہ نہ ہو۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔