تازہ ترین

شہزادہ امان الرحمن کی انتھک کوششوں سے بننے والے سائفن ایریگیشن اسکیم منصوبے کی مخالفت کرنے والے دراصل پی ٹی آئی کے سیاسی حریف ہیں۔عمائیدن علاقہ کی پریس کانفرنس

ژیتور کے عمائیدین کا منصوبے پر دوبارہ کام شروع کرکے اسے جلد مکمل کرنے کی اپیل

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) گرم چشمہ کے نواحی گاؤں ژیتور اور سانیک کے عمائیدین نے ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے دو کروڑ روپے کے سائفن ایریگیشن اسکیم کی منظوری کو پی ٹی آئی حکومت کا تاریخی کارنامہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد یہ اس علاقے میں سب سے بڑا ترقیاتی منصوبہ ہے جہاں عوام پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہے تھے جوکہ شہزادہ امان الرحمن کی انتھک کوششوں کی وجہ سے ممکن ہوگئی ہے اور اس منصوبے کی مخالفت کرنے والے دراصل پی ٹی آئی کے سیاسی حریف ہیں۔ منگل کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گلاب خان، رئیس عبدالجلیل، ماسٹر ادینہ خان، سید ولی شاہ، گل رحمن، اقبال الدین، حضور شاہ، رئیس عبدالغفار اور دوسروں نے کہاکہ گزشتہ دنوں اس عظیم منصوبے کی مخالفت کرکے اسے بند کرنے کا مطالبہ کرنے والوں میں محمد نواز پی پی پی، مفتی اسرار جے یو آئی اور شیر ولی کاتعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے جونہیں چاہتے کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت ایسے منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچ سکیں جس سے ان کی سیاسی دکان کو بند ہونے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر اس منصوبے کو بند کر دیا گیاتواس کے بھیانک نتائج برامد ہوں گے کیونکہ ژیتور سن کے 54گھرانے اس سے شدید متاثر ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ مخالفین کی طرف سے شہزادہ امان الرحمن پر غیر آباد زمین پر قبضہ کرنے کا الزام من گھڑت اور بندنیتی پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک طرف چند ماہ قبل مخالفین نے شہزادہ امان کے خلاف قرار داد پاس کرتے ہوئے اس پر الزام لگایا تھاکہ وہ صرف اپنی غیر آباد زمین کے لئے یہ منصوبہ شروع کیا ہے جبکہ اب 1975ء کی نوٹیفیکیشن کا سہار ا لے رہے ہیں اور یہ دو متضاد باتیں ان کی جھوٹ اور بوکھلاہٹ کو صاف ظاہر کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ژیتور گاؤں میں وخت گاؤں کے وہ گھرانے بھی شامل ہیں جوکہ یہاں مٹی کے تودے گرنے کے خطرے کے پیش نظر نقل مکانی کئے تھے جہاں 2015ء میں ایک گھرانے کے پانچ افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ ژیتور کے عمائیدین نے منصوبے پر دوبارہ کام شروع کرکے اسے جلد مکمل کرنے کی اپیل کی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔