تازہ ترین

وزیراعلیٰ محمود خان کے زیر صدارت منعقدہ محکمہ معدنیات اورمعدنی ترقی کا اجلاس

پشاور(چترال ایکسپریس)خیبر پختونخوا حکومت کی گڈ گورننس اسٹرٹیٹجی کے تحت اصلاحاتی اقدامات کے نتیجے میں سرکاری محکموں کی مجموعی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے اس سلسلے میں محکمہ معدنیات اور معدنی ترقی میں اصلاحاتی اقدامات کے نتیجے میں محکمے کے سالانہ محاصل میں خاطر خواہ اضافہ ہواہے۔ محکمے نے مالی سال 2020-21 کے دوران 3.45 ارب روپے محاصل کے ہدف کے مقابلے میں 5.21 ارب روپے کے ریکارڈ محاصل اکھٹے کئے ۔ گزشتہ تین مالی سالوں سے محکمے کے سالانہ محاصل میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے ۔ مالی سال2018-19 کے دوران محکمے نے 2.18 ارب روپے کے محاصل اکھٹے کئے ۔ مالی سال 2019-20 کے دوران 3.24 ارب روپے جبکہ مالی سالی 2020-21 کے دوران5.21 ارب روپے کے محاصل اکھٹے کئے گئے۔ یہ بات وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منعقدہ محکمہ معدنیات اور معدنی ترقی کے ایک اجلاس میں بتائی گئی جس میں محکمے میں جاری اصلاحات پر پیشرفت اور محکمے کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے معدنیات عارف احمد زئی ، سیکرٹری معدنیات نذر حسین شاہ، ڈائریکٹر جنرل معدنیات و دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سال2018 سے اب تک صوبے میں دو ہزار سے زائد منرل ٹائٹلز دیئے گئے ہیں اور ایک صاف و شفاف طریقہ کار کے تحت معدنیات کی نیلامی میں اضافہ کیا گیا ہے جس سے صوبے میں غیر قانونی کان کنی میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے ۔ مزید بتایا گیا کہ کان کنوں کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات کے تحت صوبے کے 163 معذور ہونے والے کان کنوں کو گزشتہ دو سالوں کے دوران مالی معاوضوں کی مد میں چار کروڑ 30 لاکھ روپے ادا کئے گئے ہیں جبکہ کان کنوں کے بچوں کو تعلیمی وظائف کی مد میں آٹھ کروڑ روپے مالیت کی4700 سے زائد سکالرشپس دی گئی ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں کان کنی کو جدید طرز پر استوار کرنے کیلئے میکنکل مائننگ کے فروغ کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں ، صوبے میں معدنی ذخائر سے متعلق حقائق پر مبنی معلومات اور ڈیٹا اکٹھاکرنے کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا موثر استعمال عمل میں لایا جارہا ہے جبکہ بیرونی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے اور اُنہیں زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کیلئے جملہ اُمور کو آن لائن کیاجا رہا ہے۔اس سلسلے میں ایک اہم پیشرفت کے طور پر ڈیجیٹل منرل ٹائٹل سسٹم متعارف کرایا گیا ہے جو سرمایہ کاروں کو صوبے کے معدنیات والے مقامات کے بارے میں معلومات اور دیگر سہولیات آن لائن فراہم کرتا ہے ۔ مزید بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا آن لائن مائنز لیبر رجسٹریشن پورٹل متعارف کروانے والا پہلا صوبہ بن گیا ہے جس کے تحت صوبے میں اب تک ساڑھے گیارہ ہزار کان کنوں کی رجسٹریشن کی جا چکی ہے۔
محکمے کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل اہم منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ منرل ٹیسٹنگ لیبارٹری کی استعداد کار میں اضافے اور اسے جدید طرز پر استوار کرنے کیلئے 90 ملین روپے مالیت کا منصوبہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا گیا ہے ، اسی طرح مائننگ کیڈسٹرل سسٹم کو اپ گریڈ کرنے اور اسے مزید جامع بنانے کیلئے 85 ملین روپے ، جبکہ صوبے میں کرشنگ زونز کے قیام کیلئے 300 ملین روپےکے منصوبے بھی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کئے گئے ہیں ۔ علاوہ ازیں ضم اضلاع میں معدنی ذخائر کی میپنگ کا ایک منصوبہ بھی سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہے جس پر 300 ملین روپے لاگت آئے گی ۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے محکمے کی مجموعی کارکردگی کو سراہا اور اسے مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی ۔ اُنہوںنے صوبے کے معدنی وسائل سے زیادہ سے زیادہ استفادہ حاصل کرکے صوبائی حکومت کی آمدن میں خاطر خواہ اضافے کیلئے سرکاری سطح پر ایک کمپنی کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے محکمے کے اعلیٰ حکام کوصنعت کے تحت قائمخیبر پختونخوا اکنامک زونز مینجمنٹ اور ڈویلپمنٹ کمپنی کے طرز پر ایک کمپنی کے قیام کیلئے ایک ماہ کے اندر تجاویز تیار کرکے منظوری کیلئے پیش کرنے کی ہدایت کی ۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو سرمایہ کاروں کی سہولت کیلئے منرل ٹائٹلز دینے کے عمل میں پیچیدگیوں کو ختم کرکے اسے مزید آسان بنانے کیلئے ضروری اقدامات اُٹھانے کی بھی ہدایت کی ۔ نجی سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کو وزیراعظم عمران خان کا وژن اور موجودہ صوبائی حکومت کی اہم ترجیح قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ نجی سرمایہ کاروں کیلئے زیادہ سے زیادہ آسانیاں پیدا کرکے اُنہیں صوبے میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنے کیلئے دوستانہ اور سازگار ماحول کو ہرلحاظ سے یقینی بنایا جائے تاکہ یہاں پر معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے کر لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کئے جاسکیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔