تازہ ترین

پلان کے تحت مقامی آبادی کی جلانے اورتعمیراتی لکڑی کی ضروریات کا بھرپورخیال رکھا جائے۔,وزیراعلی کی حکام کوہدایت

پشاور(چترال ایکسپریس)صوبے میں جنگلات کے رقبے میں خاطر خواہ اضافے کیلئے صوبائی حکومت کے وژن کے تحت ضم شدہ قبائلی اضلاع میں جنگلات کے تحفظ ، اُن کے بہتر انتظام و انصرام کیلئے ان جنگلات کی قانونی درجہ بندی کااُصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ضم اضلاع میں جنگلات کی قانونی درجہ بندی کا فیصلہ تمام قبائلی اضلاع کے عوام، قبائلی عمائدین اور دیگر تمام شراکت داروں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد کیا گیا ہے ۔
یہ فیصلہ پیر کے روزوزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منعقدہ محکمہ جنگلات کے ایک اجلاس میں کیا گیا،تاہم معاملہ حتمی منظوری کیلئے صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ صوبائی وزراءاشتیاق ارمڑ ،انور زیب خان اور اقبال وزیرکے علاوہ ضم شدہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی ، چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز، سنئیر ممبر بورڈ آف ریونیو ظفر علی شاہ، سیکرٹری جنگلات اسلام زیب ، سیکرٹری قانون مسعود احمد اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ مقامی لوگوں اور عمائدین سے مشاورتی عمل کی روشنی میں ان اضلاع کے جنگلات کو گزارا فارسٹ قرار دینے کی تجویز سامنے آئی ہے ۔اجلاس میں موجود ضم شدہ قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزراءاور ممبران صوبائی اسمبلی نے بھی اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے ضم اضلاع کے قیمتی جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کو روکنے اور ان کی حفاظت کیلئے موثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ منتخب عوامی نمائندوں نے اس سلسلے میں مقامی لوگوں کے مفادات کے تحفظ اور اُن کی ضروریات کا خیال رکھنے کے سلسلے میں اپنی تجاویز پیش کیں ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ قانونی درجہ بندی کے بعد بھی ضم اضلاع کے جنگلات مقامی لوگوں اور کمیونٹی کی ملکیت ہی رہیں گے اور صوبائی حکومت صرف اُن کے تحفظ اور بہتر انتظام و انصرام کیلئے اقدامات اُٹھائے گی جبکہ مقامی آبادی کی جلانے کی لکڑی اور ذاتی گھروں کی تعمیر کیلئے درکاری لکڑی کی ضروریات کا بھر پور خیال رکھا جائے گااور وہ اپنی ذاتی ضروریات کیلئے جنگلات سے استفادہ حاصل کرسکتے ہیں۔ اجلاس کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ ان جنگلات کی درجہ بندی کے بعد اُن کے انتظام و انصرام کیلئے جامع مینجمنٹ پلان تشکیل دیا جائے گااور اس مینجمنٹ پلان کی تشکیل میںبھی مقامی لوگوں اور دیگر شراکت داروں سے بھر پور مشاورت کی جائے گی۔
واضح رہے کہ ان جنگلات کی قانونی درجہ بندی کے بعد ان سے حاصل ہونے والی کل آمدن کا 20 فیصد حصہ انتظامی اخراجات کی مد میں صوبائی حکومت کو حاصل ہو گا جبکہ باقی 80 فیصد آمدن مقامی آبادی اور کمیونٹی کو ملے گی تاہم اجلاس میں ضم اضلاع کے عوام کے وسیع تر مفاد میں پانچ سالوں کیلئے صوبائی حکومت کا 20 فیصد حصہ بھی مقامی آبادی کو دینے کا اُصولی فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے موسمیاتی تغیرات اور ماحولیاتی آلودگی کے چیلنجز کو قومی اور بین الاقوامی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ ان چیلنجز سے نمٹنے کا واحد موثر طریقہ جنگلات کا تحفظ ہے اور وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق موجودہ صوبائی حکومت نے اس مقصد کیلئے کلین اینڈ گرین مہم شروع کررکھی ہے ۔ قبائلی اضلاع میں پائے جانے والے جنگلات کو وہاں کی اصل خوبصورتی اور علاقے کے عوام کا سرمایہ ہیں جن کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت قبائلی اضلاع میں جنگلات کو فروغ دے کر وہاں کے قدرتی حسن کو برقرار رکھنے، علاقے میں سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے ایک جامع حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ جنگلات کے حکام کو ہدایت کی کہ ضم اضلاع کے جنگلات کے انتظام وانصرام کیلئے مینجمنٹ پلان کی تشکیل میں مقامی آبادی سے بھر پور مشاورت یقینی بنائی جائے اور پلان کے تحت مقامی آبادی کی جلانے اور تعمیراتی لکڑی کی ضروریات کا بھر پور خیال رکھا جائے۔ وزیر اعلی نے حکام کو مزید ہدایت کی کہ ضم اضلاع میں جنگلات کے تحفظ اور جنگلاتی رقبے کے اندر پائی جانے والی معدنیات سے استفادے کے عمل میں توازن قائم کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنائی جائے کہ جنگلات کے تحفظ کے لئے اٹھائے جانے والی اقدامات کی وجہ سے وہاں پر معدنیات کے کام سے وابستہ مقامی لوگوں کا روزگار متاثر نہ ہو۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔