مضامین

کچھ آوازیں مرتی نہیں…تحریر: تقدیرہ خان

انسان مرتا ہے اور مٹی میں تحلیل ہو جاتا ہے مگر اس کا عمل اور آواز زندہ رہتی ہے۔ وہ لوگ جو اچھے عمل کرتے ہیں اور حق گوئی و بے باکی کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ اپنے عمل، عدل او رصدائے حق کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ شیخ سعدی ؒ فرماتے ہیں:۔
قارون ہلاک شد، کہ جہل خانہ گنج داشت
نوشین رواں نمُبرد کہ نام نکو گزاشت
مدت ہوئی قارون مر گیا حالانکہ وہ بڑے خزانوں کا مالک تھا اس کی دولت اُس کے کام نہ آئی اور وہ سب کچھ اسی دنیا میں چھوڑ گیا۔ نوشیروان اپنے عد ل کی وجہ سے آج بھی زندہ ہے چونکہ وہ انصاف پسند تھا۔
آج کے دور میں سیاست سب سے بڑا منافع بخش کاروبار ہے۔ سیاست دانوں اور حکمرانوں کے اردگرد ایسے لوگوں کا ہجوم رہتا ہے جو نہ صرف سرکاری خزانے پر ہاتھ صاف کرتے ہیں بلکہ عوام کی جیبوں پر بھی نظر رکھتے ہیں۔پٹوار خانے اور تھانے نیلام ہوتے ہیں، نوکریاں بکتی ہیں اور تقرریوں اور تبادلوں کی بولی لگتی ہے۔ میرٹ اور قابلیت کا فقدان ہے۔ ہر جگہ غنڈے، ٹاؤٹ اور مافیائے کارندے سرگرم عمل ہیں جنہیں آئینی اور قانونی تحفظ حاصل ہے۔ بڑے اور مہنگے وکیل ان کے پے رول پر ہیں جس کی وجہ سے عد ل ان کی مرضی سے ہوتا ہے۔ دنیا کا بہترین نہری نظام ہونے کے باوجود غذائی اجناس میں کمی ہورہی ہے۔ ملک کے جن حصوں میں گندم اور کپاس پیدا ہوتی تھی، حکمران خاندانوں نے وہاں شوگر ملیں لگا کر چینی پیدا کرنی اور پھر سمگل کرنی شروع کر دی۔ یہی حال باقی اشیاء ضروریہ کا ہوا۔ تاجر، سمگلر، وزیر، مشیر اور اُن کے فرنٹ مین امیر کبیر ہوگئے اور عوام فقیر اور بدحال ہوگئے۔
رہی سہی کسر نو کر شاہی نے نکال دی اور عام آدمی سے جینے کا حق چھین لیا۔ عدالتوں اور کچہریوں پر بھی مافیانے کنٹرول حاصل کر لیا تو عام آدمی نے ذلت و رسوائی سے بچنے کے لیے سیاسی غنڈوں کے سامنے سجدہ ریز ہونے میں ہی آفیت جانی۔ سیاستدانوں اور اُن کے اشاروں پر ناچنے والی بیورو کریسی نے قبضہ مافیا کی سرپرستی شروع کر دی تو ہر شخص کے جملہ حقوق بحق پٹواری و تھانیدار محفوظ ہو گئے۔ جھوٹی ایف آئی آروں اور زمینوں کے ریکارڈ میں ردوبدل نے سار ا انتظامی ڈھانچہ تباہ کر دیا تو ملک کی آبادی کانوے فیصد سفید پوش طبقہ سیاسی اور انتظامی غنڈ ہ گردی بلکہ دہشت گردی کا شکار ہو گیا۔
نفسا نفسی، بے عدلی، بد انتظامی اور غنڈہ گردی کے اس دور میں عوام کے حق میں اُٹھنے ولی چند آوازوں میں ایک آواز سینٹر عثمان خان کاکڑ کی بھی تھی۔ بائیس کروڑ انسانوں کو آہ وبکا، چیخ و پکار، شور وغل، لیڈروں کی چیخ و چنگاڑ اور عام آدمی کی سسکیوں اور آہوں کی صاد کی ہنگامہ خیز فضا میں عثمان کاکڑ نے صدائے حق بلند کی تو مظلوموں، غلاموں، بے کسوں، بد حالوں اور مایوس انسانوں کا ترجمان بن گیا۔ وہ اسمبلی کے فلور پر ہوتا یا کسی جلسے جلوس یا محفل میں، وہ سچ کی ترجمانی کرتا وہ جھوٹ و فریت کی سیاست پر طنز کے تیر برساتا۔ بلوچستان کے دور دراز علاقے میں پیدا ہونے والا عثمان کاکڑ نہ کسی قبیلے کا سردار تھا نہ نواب اور جاگیردار تھا۔اُس کا تعلق ایک محنت کش خاندان سے تھا۔ اس نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں مسلم باغ کے عام سکول سے حاصل کی اور پھر بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد سٹوڈنٹ پالیٹکس میں حصہ لینا شروع کیا۔
وہ غریبوں اور مفلوک الحال لوگوں کے دکھ درد جانتا تھا۔ عثمان کاکڑ صرف بلوچستان ہی نہیں بلکہ سارے پاکستان کے غریبوں کی آواز تھا۔ عثمان خان کاکڑ پہلا نوجوان سیاستدان تھا جس نے بلوچستان سے کشمیر کے مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھائی۔ وہ بھارت اور افغانستان کے مسلمانوں کے دکھ درد کو بھی سمجھتا تھا اور ہمیشہ بھارتی سازشوں اور مکاریوں سے بچنے کی تلقین کرتا تھا۔ عثمان خان کاکڑ آ ج ہم میں نہیں رہا ہے مگر اس کی آواز زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔