تازہ ترینمضامین

خدا محفوظ رکھے ہر بلا سے…محمد شریف شکیب

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے رواں ہفتے دوسری بارجان بچانے والی 50ادویات کی قیمتوں میں 15 سے 150 فیصد تک اضافہ کیا ہے جس میں شوگر، کینسر،عارضہ قلب، سانس کی تکلیف، گردوں اور دیگر جان لیوا بیماریوں سے بچاؤ کی ادویات شامل ہیں۔ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے ساتھ مارکیٹ سے بیشتر ادویات غائب کردی گئیں۔ادویات کے پیک سائز اور ریٹیل قیمتوں میں اضافے سے یہ دوائیاں مریضوں کی دسترس سے باہر ہوگئی ہیں۔ اس سے پہلے بھی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ادویات کی قیمتوں میں رواں سال کے اندر 300 فیصد اضافہ کر چکی ہے۔موجودہ حکومت کے تین سالہ دور میں ادویات کی قیمتوں میں 12ویں بار اضافہ ہوا ہے۔ہمارے ایک استاد اکثر یہ شعر پڑھاکرتے تھے کہ ”خدا محفوظ رکھے ہر بلا سے۔ خصوصاً جس کے پیچھے ”ٹر“ لگا ہو۔“ہم نے ”ٹر“ کی وضاحت چاہی تو کہنے لگے اردو گرامر کی رو سے اسے لاحقہ کہتے ہیں مثلاً ڈاکٹر، ڈائریکٹر، انسپکٹروغیرہ۔ہمیں بھی ”ٹر“ کی طرح ”اتھارٹی“ کے نام سے خوف آنے لگا ہے۔ حکومت نے بجلی، گیس، تیل اور ادویات وغیرہ کی قیمتوں کے تعین کے لئے مختلف اتھارٹیاں قائم کی ہیں جن میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، حلال فوڈ اتھارٹی، نیشنل پاور ریگولیٹری اتھارٹی اور مختلف شہروں کی ڈویلپمنٹ اتھارٹیز بھی شامل ہیں۔ ان اتھارٹیوں کے قیام سے پہلے بجلی، گیس، تیل وغیرہ کی قیمتوں میں سال دو سال بعد چند پیسوں کا اضافہ ہوتا تھا۔ 1969میں چینی کی قیمتوں میں چار آنے اضافہ کیا گیا تو پورے ملک میں ہلچل مچ گئی، لوگ سڑکوں پر نکل آئے حکومت کے خلاف احتجاج شروع کردیا۔ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان اس وقت ملک کے منتخب صدر تھے۔ عوامی احتجاج پر انہوں نے اقتدار کی کرسی چھوڑ دی اور اس قوم کو احتجاج کی سزا دینے کے لئے اپنی جگہ جنرل آغا محمد یحییٰ خان کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بناکر بٹھادیا۔ اس کے بعد قوم کو جو سزا ملی اسے 52سال گذرنے کے باوجود ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔اس واقعے کے بعد بھی 22سال تک ملک میں آمریت رہی۔ مگر منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے جو منتخب جمہوری حکومتیں آتی رہیں۔ انہوں نے منہ کا ذائقہ مزید خراب کردیا۔ ناکردہ گناہوں کی سزا دینے کے لئے اتھارٹیز کے نام پر جو بلائیں قوم پر مسلط کی گئیں وہ بھی جمہوری حکومتوں کے تحفے ہیں۔ ان اتھارٹیز نے پہلے شش ماہی اور سہ ماہی بنیادوں پر بجلی، گیس، تیل اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ردوبدل شروع کردیا۔ جب قوم نے کوئی مزاحمت نہ کی تو ماہوار قیمتوں میں ردوبدل ہونے لگا۔ پھر بھی قوم نے چپ کا روزہ نہیں توڑا تو ہفتہ وار بنیادوں پر قیمتیں مقرر ہونے لگیں۔بجلی کی قیمتیں متعین کرنے والے یہ حیلے تراشتے ہیں کہ چار ماہ قبل پانی والی بجلی کی پیداوار اچانک کم ہوئی تو ڈیمانڈ پوری کرنے کے لئے ہم نے تیل سے مطلوبہ بجلی پیدا کی تھی جس پر چار ارب روپے کے اضافی اخراجات آئے تھے۔ فیول ایڈجسٹمنٹ کی آڑ میں چار ارب کے بجائے چودہ ارب روپے عوام کی جیبوں سے نکالے جاتے ہیں شاید کوئی پوچھتا اس لئے نہیں کہ عوام سے ہتھیائی گئی اضافی رقم میں سب کو خاطر خواہ حصہ ملتا ہے۔ بھلا عوام کی خاطر کوئی اپنی اوپر کی آمدنی کو کیوں لات مارے۔اس لئے حکومت، آڈٹ والے اور ملکی معاملات پر گہری نظر رکھنے والے بھی چپ رہتے ہیں۔اگر پی ٹی آئی حکومت واقعی مہنگائی میں کمی اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا چاہتی ہے تو پہلی فرصت میں اتھارٹیز کے نام سے قائم لوٹ مار کے اڈوں کو ختم کرے۔لوگوں کی مجبوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھانے والوں کا محاسبہ کرے۔ فارماسیوٹیکل کمپنی کے نام سے گلی کوچوں میں کھلنے والے قصاب خانوں کا قلع قمع کرے جو دوائی کے نام پر موت بانٹتے پھیر رہے ہیں۔آٹا، شوگر مافیا کی طرح ڈرگ بیچنے والے بھی مافیا کا روپ دھار چکے ہیں۔ انہیں لگام دینے کے لئے بروقت اقدامات نہ کئے گئے تو وہ اژدھا بن کر سب کچھ نگل جائیں گے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔