تازہ ترینمضامین

کوئی لوٹادے مجھے میرے بیتے ہوئے دن….تحریر : اقبال حیات آف برغذی

ایک ہندوستانی مصنف کی چترال سے متعلق لکھی گئی /پرانی کتاب کے مطالعے کا موقعہ ملا ۔جو موبائل دور میں نوجوان نسل کے لئے اپنی نوعیت کے لحاظ سے حیران کن ہوگا۔ مذکورہ کتاب میں اس وقت کے چترال میں معاشی بدحالی کی بنیاد پر ہماری معیارزندگی پرہرزہ سرائی کی گئی ہے۔ مگر ہمارے معاشرتی اقدار کے خلاف ایک لفظ بھی قلم کی نوک پرلانے کی جرات نہیں کی ہے۔ کیونکہ ہم وہ تھے جس کوآج بھی ترستے ہیں۔ ہماری شرافت ،تہذیب اوراخلاق کے چرچے زبان زدعام تھے۔ ہمیں کسی کام کی ذمہ داری سونپتے وقت اعتماد کے طور پرچترالی نام ہی کافی ہے پراکتفا کیا جاتا تھا۔ ہماری آپس کی محبت اور رواداری ایسی بے مثال تھی کہ چترال سے باہر کام کرنے والے چترالی خود کو ایک ہی خاندان کے افراد تصور کرتے تھے ۔ آپس کے دکھ درد کو باہمی شراکت سے نمٹاتے تھے۔ مختصر یہ کہ غربت کی یہ دنیا ہر قسم کی انسانی اوصاف سے معطر ہواکرتی تھی۔ مگر معاشی تبدیلی نے آتے ہی سب کچھ بگاڑ کر رکھ دی۔ معاشرہ علم وہنر کی تابانی میں چراغ تلے اندھیرے کی کیفیت سے دوچار ہے۔ شرم وحیا کا دوپٹہ سروں سے سرک کرعریانیت کا مزاج فروغ پارہا ہے۔ دل ددماغ دنیا پرستی کے جنون کا شکار ہوکر حرام حلال کی تمیز مٹ گئی ہے ۔تہمت،بہتان اور بدگمانی جیسے انسانیت دشمن اعمال اورچغلخوری کی آبیاری میں لذت محسو س کی جاتی ہے۔ کسی کی عزت وآبرو پر داغ لگنے کی خواہش دلوں میں مچلتی ہے۔ کسی کی حقیقی قدردانی کے لئے غرض اورمطلب کو پیمانہ بنایاجاتا ہے۔ ایک دوسرے کے حقوق کی بجا آوری کے تصور کو خود غرضی نے دبوچ لی ہے۔ نوجوان نسل کا نشے کے تباہ کن عادت کی طرف میلان بڑھتا جارہا ہے۔

اپنے اسلاف کے رنگ میں ڈھلنے کی بجائے اغیار کی طرز زندگی سے خود کو رنگین کرنے کا جنون سروں پر سوار ہے۔ بغض ،عداوت ،حسد، کینہ اور بدخواہی کی لکیریں ہر کسی کی پیشانی پر واضح نظر آتی ہیں۔کسی کو نیچا دکھا کر سر فخر سے بلند اور قدم زمین پر بوجھ ہونے کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ مختصر یہ کہ وہ آشیانہ ہی نہں جس پر ہم بسیرا کرتے تھے۔ جب پیشانی کو ہاتھ سے سکیڑکر فکر وخیال کو یکجا کیا جاتا ہے تو ایک ہی تصور ابھر کر سامنے آتا ہے۔ کہ ہماری دنیا کو معاشی آسودگی نے بگاڑ دی۔ کیونکہ اس کے منفی اور بُرے اثرات سے آگہی کی بنیاد پر میرے عظیم پیغمبرؐنے قدرت کی طرف سے پہاڑ کو سونا بنانے کی پیشکش کو قبول کرنے سے معذرت کی ہے۔ بدقسمتی سے ہم کھوار مقولے ” اختیو تیچ ژریئر” صفت سے فطری طورپر شنا سائی ہی  نہیں رکھتے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔