تازہ ترینمضامین

ڈبلیو ایچ او کی چشم کشا رپورٹ…محمد شریف شکیب

پاکستان میں سرکاری سطح پر صحت عامہ کی سہولیات کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی تازہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان میں صحت عامہ کی صورت حال نہایت غیر تسلی بخش ہے۔ملک میں میڈیکل کالجوں کا معیار بھی انتہائی تشویش کا باعث ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2300افراد کیلئے صرف ایک ڈاکٹر دستیاب ہے جبکہ 80فیصد ڈاکٹرز دن میں صرف 4گھنٹے کیلئے ہسپتال آتے ہیں دیہی علاقوں میں ڈاکٹرز کی عدم دستیابی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ پاکستان میں میڈیکل کالجوں کی تعداد118ہے جن میں سے صرف10 ادارے معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں طب کی تعلیم حاصل کرنے والوں میں خواتین کی تعداد بڑھ رہی ہے جو خوش آئند ہے تاہم ان میں سے بیشتر تعلیم مکمل ہونے کے فوری بعد اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی شروع نہیں کرتیں اور58 فیصد لیڈی ڈاکٹر شادی ہونے کی وجہ سے جاب چھوڑ دیتی ہیں جو ملک میں ڈاکٹروں کی قلت کی ایک بڑی وجہ ہے۔رپورٹ کے مطابق ملک میں 2800 مریضوں کے لیے اسپتال میں ایک بستر دستیاب ہے۔طبی سہولتوں تک عدم رسائی کی وجہ سے 80 فیصد زچگیاں غیر تربیت یافتہ دائیوں کے ہاتھوں ہوتی ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں نوزائیدہ بچے اور مائیں زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں۔عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ ملک کے حکمرانوں اور پالیسی سازوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ سرکاری سطح پر معیاری ہسپتال موجود نہ ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے سیاست دان، اعلیٰ افسران اور ان کے خاندان اپنا علاج ملک سے باہر کرواتے ہیں۔اپنے بچوں کو امریکہ، لندن، فرانس، جرمنی اور آسٹریلیا کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری سطح پر بین الاقوامی معیار کا کوئی ہسپتال پاکستان میں بن سکا اور نہ ہی سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار بہتر بنانے پر کسی نے توجہ دی۔پاکستان کی 70فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے شہروں کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں تعلیم اور صحت کے اداروں کی حالت ناگفتہ بہہ ہے۔ المیہ یہ ہے کہ دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز بھی اپنے علاقے میں جاکر عوام کی خدمت کرنے سے کتراتے ہیں کیونکہ انہیں دیہات میں صرف تنخواہ پر گذارہ کرنا پڑتا ہے۔ جبکہ شہروں میں پرائیویٹ کلینک کھول کر وہ ماہانہ لاکھوں کماتے ہیں۔ خیبر پختونخوا حکومت نے دیہی علاقوں میں جاکر خدمات انجام دینے والوں کے لئے پرکشش مراعات کا اعلان کیا ہے اس کے باوجود دیر، شانگلہ، بونیر، چترال، کوہستان، بٹگرام ہنگو، لکی مروت، وزیرستان، کرم، اورکزئی، مہمند اور باجوڑ جاکر دکھی انسانیت کی خدمت کے لئے ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر بھی تیار نہیں ہوتے۔ لیڈی ڈاکٹروں کے حوالے سے ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ بھی قابل غور ہے۔ ایک ڈاکٹر تیار کرنے پر قوم کے چالیس پچاس لاکھ روپے لگ جاتے ہیں اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد قوم کی امانت خدمت کی شکل میں لوٹانے کے بجائے اکثر لیڈی ڈاکٹرز شادی کرکے ہاؤس وائف بننے کو ترجیح دیتی ہیں جو اس غریب قوم کے ساتھ زیادتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے ایک اہم مسئلے کی طرف حکومت کی توجہ دلائی ہے کہ پیشہ ور عملہ اور محفوظ زچگی کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے سالانہ ہزاروں خواتین اور نومولود بچے موت کے منہ میں جاتے ہیں۔ دیہی صحت مراکز، بنیادی صحت مراکز اور ڈسپنسریوں میں کم از کم دو تربیت یافتہ نرسیں اور لیڈی ہیلتھ وزیٹرزتعینات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خواتین اور بچوں کو گھروں کے قریب صحت کی بنیادی سہولیات میسر آسکیں۔ خیبر پختونخوا حکومت تعلیم اور صحت کے شعبوں کو اپنی اولین ترجیحات قرار دیتی ہے۔ محکمہ صحت خیبر پختونخوا کو عالمی ادارہ صحت کی اس رپورٹ کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنا آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کرنا چاہئے۔ تاکہ عوام خصوصاًدیہی آبادی کو صحت کی مناسب سہولیات ان کہ دہلیز پر فراہم کرنے کے وعدے ایفا ہوسکیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔