تازہ ترینمضامین

افغانوں کی ہجرت کا کیا جواز ہے؟…محمد شریف شکیب

اقوام متحدہ نے افغانستان کی صورت حال کو انتہائی غیرمستحکم قرار دیتے ہوئے اقوام عالم سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد کی اپیل کی ہے۔ پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آرکا کہنا ہے کہ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد سے پرتشدد واقعات میں خاطر خواہ کمی آئی ہے تاہم صورت حال کا مکمل نقشہ ابھی واضح نہیں ہے۔ لاکھوں افغان شہری خوف و ہراس میں مبتلا ہیں اور وہ اپنا ملک چھوڑنا چاہتے ہیں اس سال خانہ جنگی کی وجہ سے افغانستان میں 5لاکھ 50ہزارافراد بے گھرہوچکے ہیں۔ پہلے سے 29 لاکھ افراد ملک کے اندربے گھر ہیں اورگزشتہ چالیس سالوں سے26لاکھ افغان باشندے ملک سے فرار ہوکر دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم ہیں۔اقوام متحدہ نے افغانستان کے پڑوسی ملکوں پاکستان، ایران اور تاجکستان سے مہاجرین کے لئے اپنی سرحدیں کھولنے کی اپیل کی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ افغان شہری اپنا ملک کیوں چھوڑنا چاہتے ہیں طالبان نے دارالحکومت پر قبضے کے بعد اپنے مخالفین کے لئے عام معافی کا اعلان کردیا ہے۔ اور واضح کیا ہے کہ اشرف غنی حکومت کے لئے کام کرنے والوں کے خلاف بھی کوئی انتقامی کاروائی نہیں کی جائے گی۔ طالبان ملک میں وسیع البنیاد حکومت کے قیام پر بھی راضی ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے بھی افغانستان کی تعمیر نو کے لئے تعاون کی اپیل کی ہے۔ افغانوں کو اپنے ملک میں رہتے ہوئے قومی تعمیر نو میں اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہئے۔سابق صدر اشرف غنی کے ملک سے فرار اور طالبان کے اعلان فتح کو ایک ہفتے سے زائد عرصہ گذر گیا۔ اب بھی کابل کے ہوائی اڈے پر دس ہزار سے زائد افراد بیرون ملک جانے کے انتظار میں بیٹھے ہیں کچھ لوگوں نے رن وے سے ٹیک آف کرنے والے جہاز پر چڑھنے کی کوشش کی۔جہاز جب فضاؤں میں اڑان بھرنے لگا تو جہاز کے پہیوں سے لٹکے دو افراد گر کر ہلاک ہوگئے شناخت کے بعد پتہ چلا کہ ان میں سے ایک افغان یوتھ فٹ بال ٹیم کا کھلاڑی اور دوسرا ڈاکٹر تھا جو طالبان کے خوف سے نہیں بلکہ خوشگوار مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے امریکہ اور یورپ جانا چاہتے تھے۔ امریکہ، برطانیہ، متحدہ عرب امارات سمیت بعض ملکوں نے افغانستان چھوڑنے والوں کو عارضی بنیادوں پر پناہ دینے کی پیش کش کی ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو پناہ گزینوں کی حوصلہ افزائی کے بجائے افغانستان میں ان کی بحالی اور آباد کاری کا کوئی جامع منصوبہ تیار کرنا چاہئے اورپہلے سے پڑوسی ملکوں پاکستان اور ایران میں مقیم افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا کوئی لائحہ عمل مرتب کرناچاہئے۔ اگر افغان شہری خود اپنے ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ نہیں لیں گے تویہ ملک کیسے ترقی کرے گا۔ جرمنی سمیت بعض ممالک نے نہ صرف مزید افغان مہاجرین کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے بلکہ پہلے سے رہائش پذیر مہاجرین کو بھی ان کے ملک واپس بھیجنے کا عندیہ دیا ہے۔ پاکستان نے سب سے پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ گذشتہ چالیس بیالیس سالوں سے 35لاکھ رجسٹرڈ اور نان رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے مزید مہاجرین کا بوجھ نہیں اٹھاسکتا۔ان مہاجرین کی وجہ سے نہ صرف ہماری معیشت پر اضافی بوجھ پڑا ہے بلکہ یہاں امن و امان کا مسئلہ بھی پیدا ہوا ہے۔ ڈکیتی، رہزنی، چوری،اغوا برائے تاوان، قتل اوربم دھماکوں سمیت دیگر سنگین جرائم میں 80فیصد افغان مہاجرین ملوث پائے گئے ہیں۔ ان لوگوں نے جعل سازی کے ذریعے پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بنوارکھے ہیں جائیدادیں خریدی ہیں اور بڑے پیمانے پر کاروبار کر رہے ہیں۔جبکہ عالمی برادری کی طرف سے مہاجرین کے لئے ملنے والی امداد بھی بند ہوچکی ہے۔ گذشتہ روز حیات آباد میں سینکڑوں کی تعداد میں افغان مہاجرین نے طالبان کی طرف سے قومی پرچم کی جگہ امارات اسلامی کا پرچم لہرانے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔پولیس پر پتھراؤ کیا اور پاکستان کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔ جس کے ردعمل میں ہزاروں مقامی باشندے مساجد میں اعلانات کرکے سڑکوں پر نکل آئے اس مرحلے پر خونریز تصادم کا خطرہ تھا تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری مداخلت کرکے صورتحال پر قابو پالیا۔امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادیوں کو افغانستان میں اپنا گند صاف کرنے اور خانہ جنگی سے تباہ حال ملک کی تعمیر نو کے لئے جامع پروگرام کا اعلان کرنا چاہئے۔چند ہزار پناہ گزینوں کو عارضی پناہ دینا افغانستان کے بحران کا حل نہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔