تازہ ترینمضامین

دھڑکنوں کی زبان…”یہ کیسی بے چینیاں ہیں؟Bog؟…محمد جاوید حیات

ریاست،حکمران اور عظیم لیڈر کا اصل کارنامہ ریاست میں امن و امان قائم کرنا،لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا ان کی عزت وآبرو کا تحفظ کرنا اور ان روزی روٹی کا بندو بست کرنا ہے اگر یہ چاروں Areas کمزور ہوں تو ریاست ناکام ہے۔قران عظیم الشان نے قریش پر اللہ کے احسانات میں امن اور روزی روٹی کا ذکر کیا ہے اگر بے سکونی ہو تو روزی روٹی کی بھی ثانوی حیثیت ہے۔۔ملک میں ادارے اس لیے کام کرتے ہیں کہ ریاست کی طرف سے ان کا ہر لحاظ سے تحفظ ہے اگر وہ اس بات پہ بھی یقین کھو دیں کہ ان کا کوئی مستقبل نہیں تو ادارے کیسے کام کریں۔اداروں کے اپنے قوانین اور اپنے حدود ہوتے ہیں یہ ریاست کے ستون ہوتے ہیں جن پہ ریاست کھڑی ہوتی ہے ہمارے ہاں بے چینی اور عدم۔تحفظ کا احساس ایک المیہ اختیار کر گیا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ سول اداروں کو یرغمال بنایا جا رہا ہے۔۔محکمے کا ذمہ دار آفیسر کہتا ہے کہ میرا کوئی اختیار نہیں۔آیے روز مایوسیاں اور بے چینیاں پھیلائی جاتی ہیں۔کبھی سول ملازمین کی پنشن ختم کرنے کی بات ہوتی ہے کبھی تنخواہوں میں کٹوتی اورمراعات چھینے کی بات ہوتی ہے کبھی ان کی نیچکاری کی بات ہوتی ہے ان افواہوں سے وہ اہلکار جو ان اداروں میں کام کرتے ہیں بد دل ہوتے ہیں ان کی اپنی جان پر بنی ہوتی ہے وہ اپنے کام پیشہ اور ادارے پر کیسے توجہ دیں۔حال ہی میں اعلی تعلیم (ہائر ایجوکیشن) بلکہ پورے محکمہ تعلیم میں ایک بے چینی پھیلائی گئی ہے کہ کالجوں اور سکولوں کی نیجکار ی(پرایویٹائز) کی جارہی ہے۔کالج کے اساتذہ سراپا احتجاج ہیں سکول کے اساتذہ سر پکڑ کے انتظار کر رہے ہیں۔اگر انصاف سے دیکھا جائے تو یہ ادارے عوام کے لیے ہیں ان عوام کے لیے جو غریب ہیں اپنے بچوں کی تعلیمی اخراجات اور بھاری فیسیں نہیں بھر سکتے۔ان کو پراویٹائز کیا گیا تو نوے فیصد قوم ان پڑھ ہوجائے گی کیونکہ ان کے بچے کسی تعلیمی ادارے میں نہیں جاسکینگے۔۔سرکاری اداروں میں ایک حد تک ان کو مفت تعلیم ملتی ہے۔۔بچیوں کے لیے وظائف ہیں اب حکومت کا احسن قدم غریب بچوں کے لیے وظیفے کی بندوبست ہو رہی ہے۔دوسری بات یہ جو اساتذہ ہیں ان کو بڑے سخت امتحان کے بعد کوئی معتبر ادارہ جس کو صوبائی پبلک سروس کمیشن کہتے ہیں منتخب کرتا ہے اگر اداروں کی نیچکاری ہوگی تو یہ کہاں جائینگے۔ہمارے پاس یونیورسٹیوں کی مثالیں موجود ہیں جن کا دیوالیہ نکلنے والی ہے کیونکہ ان کو حکومت کی طرف سے جو گرانٹ ملتا تھا اس میں کمی کی گئی ہوگی۔یہ سرکاری ادارے اپنا آئینی حق رکھتے ہیں اور یہ ملازمین بھی اپنا آئینی حق رکھتے ہیں یہ جس ریاست کے باشندے ہیں وہ ریاست ان کا تحفظ کرتی ہے۔ایک طرف حکومت تعلیم کی بہتری اورعوام کو تعلیم یافتہ بنانے کی بہترین کوشش کر رہی ہے دوسری طرف یوں افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں کہ یہ ادارے عدم تحفظ کا شکار ہو رہے ہیں۔۔اداروں کے اندر بہتری لانا ریاست کا فرض ہے اب این ٹی ایس اور تقرری کے دوسرے نئے طریقوں سے قوم کے پڑھے لکھے اور اعلی تعلیم یافتہ نوجوان تعلیم اداروں میں آرہے ہیں۔کالجوں کے لکچررز اور پروفیسرز کے لیے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی شرط رکھی جا رہی ہے ان سکالروں کو سکولوں میں اضافی تنخواہ دینے کی بات ہورہی ہے لیکن یہ شوشہ کہ Bog بنا کے ان کا مستقبل Bog کے ہاتھ میں دیا جائے تو یہ ان کو عدم تحفظ کا شکار اور بے چین کرنا ہے۔تعلیمی اصلاحات وقت کے تقاضے ہیں ریسرچ اور عملی کام اور ساتھ ہنر کی تربیت اور ہنرور پیدا کرنا تعلیمی اداروں کا مقصد اور منزل ہونی چاہیے اس پر کوئی خاص توجہ نہیں بس بے سکونیاں ہیں۔۔ہمارے ہاں ٹیلنٹ Talent کی کوئی قدر نہیں اس وجہ سے ٹیلنٹ ضائع ہورہا ہے اور سب کو ایک لاٹھی سے ہانگنے کا انداز ہے اور اس پر نہلے پہ دھلا پرایویٹائز کرنے کی افواہ ہو تو پھر سکون اور تحفظ کا بیڑھا غرق ہوجائے گا۔ حکومت وقت تعلیم کے میدان میں انقلابی قدم اٹھانے میں سنجیدہ ہے وہ اساتذہ کا اسٹیٹس بڑھانے بچوں کو اہمیت دینے اور وقت کے تقاضوں کے مطابق ان کی تعلیم و تربیت کرنے پہ توجہ دے رہی ہے۔۔ یکسان نصاب پر کام ہو رہا ہے اور وزیر اعظم پاکستان کا وہ جملہ تاریخ کا حصہ بن گیا ہے کہ انگریزی نظام تعلیم ہماری غلامی کا ثبوت ہے وہ اپنی اکثر تقریریں اردو میں کرتے ہیں ایسے لیڈر سے نظام میں اصلاح کی توقع ہوگی اور اس پر فخر کیا جائیگا اداروں کو ڈسٹرب کرنے کا خطرہ نہیں ہوگا۔ہمیں اُمید ہے کہ اداروں پر سے سیاسی اثر ختم کیا جائے ان کو ان کے متعین کردہ دائرے کے اندر رہ کر کام کرنے دیا جائے بیشک ان کی کارکردگی بڑھانا ان کی کڑی نگرانی کرنا اور ان کا احتساب کرنا ایک کامیاب حکومت کی نشانی ہے۔۔ البتہ ان کو بے سکون کرنا انصاف نہیں

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔