تازہ ترینمضامین

داد بیداد…سید علی شاہ گیلا نی…ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

جموں و کشمیر کی مقتدر سیا سی شخصیت اور حریت کا نفرنس کے رہنما سید علی شاہ گیلا نی 92برس کی عمر میں انتقال کر گئے ان کے پسما ند گان میں 3بیٹوں اور چار بیٹیوں کے علا وہ بر صغیر پا ک و ہند کے 50کروڑ مسلما ن اور آزادی کی جدو جہد کرنے والے ڈیڑھ کروڑ کشمیری بھی شا مل ہیں میرا گھر خیبر پختونخوا کے شمال مشرق میں شندور کی وادی کے اندر 9000فٹ کی بلند ی پر واقع گاوں با لیم میں واقع ہے میرے والد صاحب 1965ء سے ریڈیو پر سید علی گیلا نی کی سر گر میوں کو سنتے اور ڈاک کے ذریعے آنے والے رسائل و جرائد میں ان کی تقریریں اور انکے بیا نا ت تصویروں کے ساتھ دیکھتے آرہے تھے کشمیر کی آزادی کے لئے جدو جہد کے ساتھ جما عت اسلا می کے ساتھ وا بستگی بھی میرے والد صاحب کے لئے ان کا معتبر حوا لہ تھا ان کی وفات کی خبر آگئی تو گھر کے افراد نے ایسا محسوس کیا جیسے ہمارا چچا یا ما مو ں ہم سے جدا ہوا ہو یہ اپنائیت ان کے اخلا ص کا ثمر ہے دور دراز رہنے والے لوگ بھی ان کو اپنے دل کے قریب سمجھتے تھے اور یقینا وہ ہمارے دل کے قریب تھے عام طورپر علی گیلا نی کے نا م سے شہرت رکھنے والے کشمیری رہنما کا تعلق بارہ مولا کے گاوں سو پور سے تھا انہوں نے ابتدائی تعلیم سری نگرسے حا صل کی اور لا ہور سے اپنی تعلیم مکمل کی اورینٹل کا لج پنجا ب یونیورسٹی کے گریجو یٹ تھے جہاں ادبی اورعلمی شخصیات کے ایک کہکشاں سے انہوں نے کسب فیض کیا ان کے اسا تذہ میں حا فظ محمود شیرانی، ڈاکٹر سید عبد اللہ، ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی، سید عابد علی عابد، سیدوقار عظیم اور ڈاکٹر وحید قریشی جیسے بلند پا یہ ادیب شا مل تھے ان کی خود نو ست سوانح عمری ”روداد قفس“ ان کے اعلیٰ ادبی ذوق کا آئینہ دار ہے یہ کتاب آپ نے بھارتی جیلوں میں قید کا ٹتے ہوئے لکھی ہے اس میں کشمیر کی تحریک آزادی کی تاریخ بھی ہے سید علی شاہ گیلا نی کے وسیع مطا لعے اور مشا ہدے کا نچوڑ بھی دیکھنے کو ملتا ہے یکم ستمبر 2021کی رات 10بجے سید علی گیلا نی کے انتقال کی خبر ملتے ہی قا بض بھارتی فوج نے سری نگر، سوپور، بارہ مولا اور نوا حی شہروں میں کر فیو لگا دی، سڑکوں پر خاردار تاروں کی رکا وٹیں بچھا کر لو گوں کو باہر نکلنے سے منع کیا اور ان کے خاندان پر دباؤ ڈال کر انکی وصیت کے خلا ف صبح 4بجے انہیں خا مو شی سے گھر کے قریب دفن کروا دیا حا لا نکہ ان کی وصیت یہ تھی کہ انہیں شہدا کے قبرستان میں سپر د خا ک کیا جا ئے ان کے تد فین کے بعد بھی کر فیو بر قرار رہا اور پا بندیاں جاری رہیں سید علی گیلا نی کو دو بڑی وجو ہات سے کشمیر ی لیڈوروں میں اہمیت حا صل ہے پہلی وجہ یہ ہے کہ وہ بر ملا کشمیر کا الحاق پا کستان سے کرنے کے علمبر دار تھے اپنی تقریروں میں کہا کر تے تھے ”ہم پا کستا نی ہیں، پاکستان ہماری منزل ہے “دوسری وجہ یہ ہے کہ انہوں نے 21سال قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، 10سال جیلوں میں رہے گیا رہ سال ان کے گھر کو سب جیل قرار دیکر پیرانہ سالی میں نظر بند رکھا گیا اس نظر بندی میں اپنے خا لق حقیقی سے جا ملے بھارتی قابض فو ج کو 92سالہ بوڑھے شیر کی بیماری میں بھی ان کے نا م سے خو ف آتا تھا ان کی وفات کے بعد ان کے جنا زے اور سو گواروں کا خوف قابض فوج پر سوار ہے سید علی گیلا نی کی زند گی کے ادوار کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا تا ہے 1962سے 1972تک جما عت اسلا می کے رکن اور بعد ازاں امیر کی حیثیت سے خد مات انجام دیئے 1972، 1977اور 1987ء میں مقبوضہ کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے ممبر کی حیثیت سے آزادی کی آواز ایوا نوں میں بلند کر تے رہے 1989میں اسمبلی کی رکنیت سے استغفٰی دیکر بھارتی قابض فو ج کے خلا ف بغا وت کا اعلا ن کیا 1993ء میں آل پارٹیز حریت کا نفرنس نے انہیں اپنا سر براہ منتخب کیا 2019ء میں کشمیر کی خصو صی حیثیت کو ختم کر نے کے بعد بھارت نے جما عت اسلا می پر پا بندی لگا ئی اس وقت حریت کا نفرنس کے دیگر رہنما وں میں یا سین ملک اور میر واعظ عمر فاروق بھی جیلوں میں قید ہیں ایسے وقت پر علی گیلا نی کی جدا ئی دہرے صدمے کا با عث ہے پا کستان میں وزیر اعظم عمران خا ن نے علی گیلا نی کی وفات پر ایک روزہ سوگ کا اعلا ن کیا آزاد کشمیر کے وزیر اعظم سردار عبد القیوم نیا زی نے 3روزہ سوگ کا اعلا ن کیا ہے اپنے تعزیتی پیغا مات میں صدر پا کستان عارف علوی، صدر آزاد کشمیر برسٹر سلطان محمود چوہدری، وزیر اعظم عمران خا ن، وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عبد القیوم نیا زی، وفا قی وزرا، اور سیاسی جما عتوں کے قائدین نے گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مر حوم حریت پسند لیڈر کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔اسلام اباد اور دوسرے شہر وں میں غا ئبانہ نما ز جنا زہ بھی ادا کی گئی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔