تازہ ترینمضامین

نیا پاکستان اور دو سال کی ڈیڈلائن…محمد شریف شکیب

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ نیا پاکستان بٹن دبانے سے نہیں بنتا۔بلکہ نیا پاکستان بہتری کے لئے مسلسل جدوجہد، نظام میں اصلاحات اور مائنڈ سیٹ کی تبدیلی کا نام ہے جس میں وقت لگے گا، ماضی میں برآمدات کو نظر انداز کرکے اس ملک کے ساتھ بڑا ظلم کیاگیا، برآمدات بڑھائے بغیر معیشت ترقی نہیں کرسکتی۔ لوگ ایمانداری سے ٹیکس دیں گے تو ہمیں بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے سخت شرائط پر قرضے لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لوگ جنت میں جانا چاہتے ہیں مگرجنت کے حصول کے لئے نیک اعمال کرنے پر توجہ نہیں دیتے۔نئے پاکستان کے حوالے سے اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اگر چینی، بجلی، گیس، ایل پی جی، سی این جی، گھی، کوکنگ آئل اور ضرورت کی دیگراشیاء مہنگی کرنے کا نام نیا پاکستان ہے تو چوہا لنڈورا ہی بھلا۔ ہمیں پرانا پاکستان ہی لوٹا دیں۔ جہاں لوگوں کو روزگار میسر تھا۔ اشیائے ضروریہ مناسب نرخوں پر دستیاب تھیں۔نئے پاکستان میں گذشتہ تین سالوں کے دوران ایک محتاط اندازے کے مطابق بیس لاکھ سے زائد افراد بے روزگار ہوچکے ہیں مہنگائی میں تقریباً80فیصد اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ حکومت کو کچھ مسائل ورثے میں ملے ہیں۔عالمی وباء کورونا کی وجہ سے کچھ نئے اور سنگین نوعیت کے مسائل نے جنم لیا ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں۔ امریکہ، ارجنٹائن، ناروے، فرانس، جرمنی اور برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملکوں میں بھی لوگ مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ ملک کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر کشیدگی نے بھی حکومت کے مسائل میں اضافہ کیا ہے۔ ملک میں کسی بھی شعبے میں اصلاحات کی راہ میں کئی رکاوٹیں حائل ہیں۔ بیوروکریسی، میڈیا، مذہبی طبقہ، جاگیر دار، سرمایہ دار، بڑے تاجر اور برآمد کنندگان بھی حکومت کی پالیسیوں سے خوش نہیں ہیں۔کیونکہ اصلاحات کی صورت میں ان کے مفادات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ ملک کے تمام سرکاری ادارے کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں۔جب قومی احتساب بیورو کرپٹ عناصر کے خلاف کاروائی کرتا ہے تو ملزموں کے ہم نوا بھی سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ سرکاری اداروں کے ملازمین روز ہڑتالیں کررہے ہیں۔ سڑکوں پر دھرنے دے رہے ہیں احتجاجی جلسے اور جلوس نکالے جارہے ہیں اور قومی املاک کو نقصان پہنچایاجاتا ہے۔ تمام اداروں میں مراعات یافتہ طبقے اور اشرافیہ کے نمائندے بیٹھے ہوئے ہیں جو اصلاح احوال کی کوششوں میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔عمران خان کو اقتدار میں آنے سے پہلے یہ گمان تھا کہ وہ وزیراعظم کی کرسی سنبھالنے کے ساتھ منی لانڈرنگ کے ذریعے ملک سے باہر بھیجی گئی ساری رقوم ایک مہینے کے اندر واپس لائیں گے۔ تمام کرپٹ عناصر کو جیلوں میں ڈال دیں گے اور ان سے لوٹی گئی پائی پائی ہفتوں اور مہینوں کے اندر وصول کریں گے۔ تمام اداروں کا نظام تبدیل کریں گے۔ اور اپنی آئینی مدت پوری ہونے سے پہلے ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہادیں گے۔ مگر اقتدار میں آنے کے بعد انہیں پتہ چل گیا کہ اس معاشرے میں تبدیلی لانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ملک میں چینی، آٹا، گھی، کوکنگ آئل اور دیگر اشیائے ضروریہ تیار کرنے کے کارخانے، پولیٹری اوردیگر انڈسٹری ان کے سیاسی مخالفین کی ملکیت ہیں۔ جو اپنی مرضی سے اپنی مصنوعات کی قیمتیں مقرر کرتے ہیں۔ انہیں غریب عوام سے کوئی ہمدردی نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ مہنگائی میں روزبروز اضافہ ہو اور حکومت کی مقبولیت کا گراف گرتا رہے۔ کمر توڑ مہنگائی اور بے روزگاری صرف حکمرانوں اور عوام کا مسئلہ رہ گیا ہے۔ موجودہ حکومت کی سیاسی بقاء کا انحصار بھی مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں ہے۔ حکومت کے تین سال سابقہ حکمرانوں کو کوستے ہوئے گذر گئے اگلے دوسال فیصلہ کن ہیں اگر عوام کی عدالت میں سرخرو ہونا ہے تو عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔