تازہ ترین

وزیراعلی محمود خان کے زیر صدارت نیو بالاکوٹ سٹی پراجیکٹ کے حوالے سے اعلیٰ سطح کااجلاس

پشاور(چترال ایکسپریس)نیو بالاکوٹ سٹی پراجیکٹ کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا ایک اجلاس بدھ کے روزوزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں منصوبے پر عمل درآمد کے سلسلے میں اب تک پیشرفت، مزید پیشرفت کی راہ میں حائل رکاوٹوںکو دور کرنے اور منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق مختلف اُمور پرتفصیلی غور وخوض کیا گیا۔اجلاس میں نیو بالاکوٹ سٹی پراجیکٹ پر عمل درآمد کیلئے کمشنر ہزارہ کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی سفارشات کا بھی بغور جائزہ لیا گیا ۔ چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے) لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز اور صوبائی وزیر محنت شوکت یوسفزئی کے علاوہ متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں، کمشنر ہزارہ ، ڈپٹی کمشنر مانسہرہ، ڈائریکٹر جنرل ایرا، ڈائریکٹرجنرل پیرا، چیف انجینئر نیو بالاکوٹ سٹی پروجیکٹ اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں عرصہ دراز سے التواءکے شکار اس اہم منصوبے کیلئے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ اور گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ ماڈل کے علاوہ دیگر آپشنز پر بھی غور کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ صوبائی حکومت کے متعلقہ محکمے ایرا اور دیگر ادارے مل کر اس سلسلے میں قابل عمل تجاویز تیار کریں گے جو منظوری کیلئے وزیراعظم کو پیش کی جائیں گی اور وزیراعظم اس سلسلے میں حتمی پلان کی منظوری دیں گے ۔ اجلاس میں نیو بالاکوٹ سٹی کے حوالے سے زلزلہ متاثرین اور زمین مالکان کے تحفظات اور خدشات پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی اور وزیراعلیٰ نے متعلقہ محکموں اور اداروں کے حکام کو ہدایت کی کہ متاثرین اور زمین مالکان کے جائز تحفظات کو دور کرنے اور اُن کے اعتماد کو بحال کرنے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اُٹھائے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اس منصوبے کا اصل مقصد بالاکوٹ سٹی کے متاثرین کے نقصانات کا ازالہ کرنا اور اس سلسلے میں متاثرین سے کئے گئے حکومتی وعدوں کو پورا کرنا ہے ۔ اُنہوںنے منصوبے پر پیشرفت کیلئے متاثرین اور زمین مالکان سے بھر پور مشاورت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کو اس سلسلے میں کردار ادا کرنے کی ہدایت کی ۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے اور جتنا جلدی ممکن ہو سکے متاثرین کو ریلیف دینے کیلئے پر عزم ہے جس کیلئے تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو اپنے اپنے حصے کی ذمہ داریاں بروقت پوری کرنے کی ضرورت ہے ۔
دریں اثناءوزیراعلیٰ کی زیر صدارت موجودہ صوبائی حکومت کے دور میں منظور شدہ قوانین کے تحت رولز کی تشکیل کا جائزہ لینے کیلئے بھی ایک اجلاس منعقد ہوا۔ متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں نے اجلاس میں شرکت کی ۔ موجودہ صوبائی حکومت کے دور میں منظور شدہ قوانین اور اُن کے تحت بنائے گئے رولز کے بارے میں اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ستمبر 2018 سے اب تک کل 52 قوانین منظور کئے گئے ہیں جن میں سے 13 قوانین کے رولز تشکیل دیئے گئے ہیں ۔ 29قوانین کی رولز کی تشکیل پر کام جاری ہے جبکہ 10 قوانین کے تحت رولزبنانے کی ضرورت نہیں۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ انتظامی سیکرٹریوں کو ہدایت کی کہ جن قوانین کے تحت رولز نہیں بنے اُن کے رولز ایک مہینے کے اندر تیار کرکے کابینہ کی منظوری کیلئے پیش کئے جائیں ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔