تازہ ترینمضامین

”سب اچھا“ والی سرکاری رپورٹ…محمد شریف شکیب

خیبر پختونخوا حکومت نے عوام کو تسلی دی ہے کہ دیگر صوبوں کی نسبت یہاں اشیائے خوردونوش کی ہول سیل اورپرچوں قیمتوں میں فرق سب سے کم ہے۔چینی کے ہول سیل اور پرچون قیمت میں فرق صرف 2 فیصد ہے۔آٹے کی ہول سیل اورپرچون قیمت میں فرق پچھلے ہفتے 3 فیصد سے کم ہوکر اب 2 فیصد پر آگیا ہے،مرغی کے گوشت کی ہول سیل اورپرچون قیمت میں فرق پچھلے ہفتے 9 فیصد سے کم ہوکر اب 6 فیصد پر آگیا ہے، وزیراعلیٰ کی زیرصدارت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا جائزہ لینے کے لئے بلائے گئے اجلاس کو بتایاگیا کہ صوبہ بھر میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کی چیکنگ،نرخ ناموں کی عدم دستیابی، ملاوٹ، غیر معیاری اشیاء کی فروخت، ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف کاروائی کے دوران 38لاکھ 32ہزار روپے سے زائدجرمانے عائد کیے گئے، 304 ایف آئی آرز درج کی گئیں، 716 یونٹس سیل کئے گئے۔مقررہ نرخوں سے زائد قیمت وصول کرنے کی پاداش میں ساڑھے آٹھ لاکھ روپے جرمانے عائد کئے گئے، 45 گرانفروشوں کے خلاف ایف آئی آرز درج کی گئیں اور 74 دکانوں کو سیل کیا گیا۔ نرخنامے آویزاں نہ کرنے پر ڈھائی لاکھ روپے جرمانے عائد کئے گئے اور 72 دوکانیں سیل کی گئیں۔اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لئے وزیر اعلی کی زیر صدارت ہر ہفتے اجلاس منعقد کیا جائے گا۔وزیراعلی نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔وزیراعلیٰ نے مختلف محکموں کی طرف سے الگ الگ چھاپوں کا سلسلہ ختم کرنے اوراشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی نگرانی کے لئے ضلعی انتظامیہ، فوڈ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں پر مشتمل مشترکہ ٹیمیں تشکیل دینے کی ہدایت کی۔افسرشاہی ہمیشہ حکمرانوں کو اعدادوشمار کے ذریعے یہ باور کرانے کی کوشش کرتی ہے کہ دوسرے صوبوں کی نسبت ہمارے ہاں امن و امان کی صورت حال مثالی، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں اور جرائم کی شرح انتہائی کم ہے۔ اوراس ”کامیابی“ کو حکمرانوں کے حسن انتظام سے تعبیر کرکے انہیں شیشے میں اتار کر بوتل میں بند کردیا جاتا ہے اور عوام کو ملاوٹ کرنے والوں، ذخیرہ اندوزوں اور گرانفروشوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ چونکہ حکمرانوں کو آٹے دال کا بھاؤ معلوم نہیں ہوتا اس لئے وہ افسر شاہی کی رپورٹ کا حرف آخر سمجھتے ہیں۔ ایک حکمران حضرت عمر فاروقؓ تھے جو راتوں کو بھیس بدل کر مدینے کی گلیوں میں پھیرتے تھے کہ کسی گھر سے بھوکے بچے کے رونے کی آواز تو نہیں آرہی۔ ہمارے حکمران عوام کے سامنے یہ تاویل پیش کرکے انہیں بہلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ خطے کے دیگر ملکوں کے مقابلے میں ہمارے ہاں پٹرول، ڈیزل، بجلی، گیس اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بہت کم ہیں۔ یہ نہیں بتایا جاتا کہ ان ملکوں میں ملازمین کی تنخواہیں کتنی ہیں اور مزدور کو کتنی اجرت ملتی ہے۔ ہمارے ملک میں صرف مہنگائی ہی عوام کا واحد مسئلہ نہیں۔ ملاوٹ، جعل سازی اور ذخیرہ اندوزی بھی بڑے مسائل ہیں۔ دودھ، آٹا، پکانے کا تیل، گھی،گوشت اور پانی بھی خالص نہیں ملتا۔ دودھ میں آدھا پانی اور آدھا کیمیکل ملاکر اصلی دودھ کی قیمت پر بیچا جاتا ہے۔ آٹے میں خشک روٹی کے ٹکڑے پیس کر اور چوکر ملائے جاتے ہیں۔ مردہ جانوروں کی ہڈیوں کے گودے پگھلا کر اور چربی میں کیمیکل ڈال کر انہیں گھی اور کوکنگ آئل کا لیبل لگا کر بیچا جاتا ہے۔ چائے کی پتی میں لکڑی کے برادے، چنے کے چھلکے اور مصالحوں میں اینٹیں پیس کر ملائے جاتے ہیں۔ بے چارے عوام اصلی چیز کی پوری قیمت دے کر نقلی اور مضرصحت اشیائے خوردونوش خریدنے پر مجبور ہیں۔ گذشتہ دوسالوں کے اندر ضرورت کی ہر چیز کی قیمت میں سو فیصد سے دوسو فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ یہ بات طے ہے کہ جب تک مجسٹریسی نظام بحال نہیں ہوتا۔ مہنگائی، ذخیرہ اندوزی، چور بازاری، ملاوٹ، جعل سازی اور گرانفروشی پر قابو پانے کی باتیں دیوانے کا خواب ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔