تازہ ترین

صوبے خیبرپختونخوا میں 62 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ تیمور جھگڑا

پشاور(چترال ایکسپریس)خیبرپختونخوا میں رواں ماہ ہونے والی انسداد پولیو مہم کے دوران 62 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے جس کے لیے 30 ہزار سے زائد پولیو ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں ان علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی جہاں ویکسینیشن سے انکار کے واقعات سامنے آرہے ہیں اور مہم کے دوران کورونا ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا پولیو سے پاک خیبرپختونخوا کے لیے تمام اضلاع کی انتظامیہ کو بھرپور اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی گئی ہے انہوں نے ان خیالات کا اظہار بنیادی صحت یونٹ (بی ایچ یو) گلش رحمان کالونی، کوہاٹ روڈ پشاور میں ماہ رواں کی انسداد پولیو مہم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران کیا، صوبائی وزیر صحت نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر صوبے میں پانچ روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز کیا، اس موقع پر ایمرجنسی آپریشن سنٹر (ای او سی) برائے انسداد پولیو خیبرپختونخوا کے کوآرڈینیٹر عبدالباسط، ڈائریکٹر ای پی آئی عارف ڈبلیوایچ او، یونیسیف بی ایم جی ایف اور دیگر معاون اداروں کے اعلیٰ حکام اور نمائندوں نے شرکت کی صوبائی دارلحکومت پشاور سمیت صوبے کے تمام اضلاع میں پانچ روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز کل سے کردیاگیا اس مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر 62 لاکھ 40 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اس مقصد کے لئے تربیت یافتہ پولیو ورکرز پر مشتمل 30 ہزار 340 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں ان پولیو ٹیموں میں 27 ہزار 253 موبائل ٹیمیں،1ہزار 857 فکسڈ ٹیمیں،1 ہزار 78 ٹرانزٹ ٹیمیں اور 152 رومنگ ٹیمیں شامل ہیں جبکہ مہم کی موثر نگرانی کے لئے 7 ہزار 361 ایریا انچارجز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے پولیو ٹیموں کی حفاظت کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے سیکورٹی کے خاطر خواہ انتظامات کئے گئے ہیں، گلشن رحمان کالونی بی ایچ یو میں افتتاح کے موقع پر میڈیا سے بات چیت میں صوبائی وزیر صحت تیمورسلیم جھگڑا نے کہا کہ صوبے کے تمام بی ایچ یوز میں بہتر سہولیات فراہم کی جائیں گی صحت سے وابستہ ہر زاویوں کو دیکھا جارہاہے خواہ وہ پوسٹنگ ٹرانسفر ہو یا دوسری چیزوں میں بہتری لانا ہو ہم تمام تر چیلیجز کا سامنے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے محنت کی ضرورت ہے جو ہم سب کو کرنی ہے تب ہی نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ پورے پاکستان سیپولیو وائرس کا مکمل طور پر خاتمہ پاک ہو گا اس کے لئے مسلسل منظم اور موثر انسداد پولیو مہمات کا انعقاد ناگزیر ہے، تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ انسداد پولیو مہمات کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے ہر بچے تک رسائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ سو فیصد ویکسینیشن کا ہدف حاصل کیا جاسکے۔ اس موقع پرکوآرڈینیٹر ای و سی عبدالباسط نے کہا کہ پولیو خاتمے کے لیے بھرپور اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں کوآرڈینیٹر ای او سی نے معاشرے کے تمام طبقات پر زور دیا کہ وہ بچوں کے مستقبل کو پولیو کے ہاتھوں معذوری سے بچانے اور ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لئے اس پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔