تازہ ترینمضامین

کامیابی کے لئے اچھے نمبر نہیں چایئے!…تحریر: نورالہدیٰ یفتالیٰ

یہ قطا ضروری نہیں کہ کامیابی کے لئے آپ کو اچھے نمبروں سے پاس ہونا چایئے،یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ کو اچھے نمبر لینے کے لئے فرنٹ بنچ پر بٹھنا ہوگا،اچھے نمبر لینا  اتنا ضروری نہیں جتنا   اس کامیابی کو  برقرار رکھنا   ہے،اچھے نمبر تو ہر کوئی لے سکتا ہے۔یا   کامیاب ہونے کے لئے ڈگری  ہی کافی نہیں ہے،ہم  کامیابی کے لئے صرف اچھے نمبروں کو ترجیح  دیتے ہیں،ہم تعلیم بھی صرف روز معاش کے لئے  حاصل  کرتے ہیں،کامیابی کے  لئے اچھے نمبر یا    تعلیم  ہی حاصل کر نا ضروری نہیں بلکہ زندگی میں  اچھے معیار   پروفشنل  ،ٹیکنکل    ہونا چاہیے،اور زندگی کے ان فن  کو سیکھنا ہو گا، جو موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔تاکہ ہم  موجودہ وقت کے ساتھ چل سکیں۔

کامیابی کے لیے خاموشی سے آگے  بڑھنا ہوگا، تسلسل کے ساتھ محنت کرنا ہوگی، کامیابی  کے لئے کامیاب سوچ کی ضرورت ہوگی،دنیا کی ہر چیز اپنے وقت پر ہوتا ہے۔ دنیا کی کامیاب ترین  افراد کی زندگی پر نظر ڈالی جائے، وہ اپنے زندگی کے ابتدائی  دور میں ناکام رہے ہیں،ان کی یہ ناکامی  ان کی  شاندار کامیابی کی پہلی  سیڑھی  ثابت ہوئی،اس ناکامی  کو سامنے رکھ کر  ان  لوگوں نے منصوبہ بندی کی اور شاندار تایخ رقم کی۔ وہ اچھے نمبر تو نہیں لے سکے لیکن   دنیا  کی اچھے نمبر لینے والے ان  کی زیر نگرانی  روز معاش کما رہے ہیں۔

ایک طوطے کی مانند زندگی  مت جیئو،لوگوں کو خوش رکھنے کے لئے   بولتا رہتا ہے اور اس میں خوش ہے،اگر کامیاب بننا چاہتے ہیں تو شاہین کی زندگی جیئو ،شاہین کو دیکھنے کے لئے آپکو سر اٹھانا ہو گا، آسمان کی طرف دیکھنا ہو گا۔ایک شاہین آسمان کا سینہ چھیڑ کر بلند  فضاوں میں پرواز کرتا ہے،شاہین اتنی بلندی میں  جا کر بھی شور نہیں مچاتا، اس میں اتنی  ہمت اور حوصلہ ہوتی ہے ،وہ طوفانوں سے نہیں ڈرتا، جب ہوایئں تیز اور   طوفانی بارش ہوتی ہے ۔سب پرندے چھپ جاتے ہیں ،ایک شاہین ہی تو ہے وہ  ان تیز ہواوں اور طوفان کا مقابلہ کرتی  ہے۔ان تیز  ہواوں اور طوفانی موسم میں شاہین  جذباتی ہوتا ہے اور طوفا ن کی سمت اڑان بھرتی ہے کیونکہ وہ شاہین ہے اسے مشکل وقت  کامقابلہ کر نا آتا ہے، وہ اکیلے ہی اڑان بھرتا  ہے،اسے کسی دوسرے کی سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی۔آخر شاہین میں اتنی  ہمت اور حوصلہ کہاں سے آتا ہے کہ وہ   پرندوں کی دنیا  کا راجہ کہلاتا ہے۔

وہ بلندی پر اکیلے ہی   اڑتا ہے   ،اس کی سوچ  اس کی پرواز کی مانند  اونچا ہے وہ  ناکامی سے نہیں ڈرتا، وہ ایک وقت میں ایک ہی چیز پر  دہیاں دیتا ہے ایک  ٹارگیٹ کو فوکس کرتا ہے جب تک وہ اس ٹارگیٹ کو حاصل نہ کرے سکوں نہیں پاتا،وہ بلند فضاوں میں رہ کر  خاموشی سے   دیکھتا ہے ، یہ  فضاوں میں اڑان ، طوفانوں کا مقابلہ   تیز بارش میں  یخ  ہواوں کا مقابلہ یہ سب اس کی محنت کا نتیجہ  ہے ،تب جا کے وہ  پرندوں کا راجہ کہلاتا ہے۔کیونکہ زندگی  مسلسل جدوجہد کا نام ہے،جب اس دنیا  میں ہیں آپ کو جینا ہوگا آپ کو مقابلہ کرنا ہوگا، آپ کو شاہین بننا ہوگا۔

حوصلہ افزائی کرنےوالے بن جاو اس معاشرے میں پہلے ہی دلشکنی کرنےوالوں کی کوئی کمی نہیں، عظیم ہیں وہ لو جو   کامیابی اور ناکامی کو  برداشت کرتے ہیں،اور اپنے معاشرے میں اپنے محلے میں اپنوں کا خیال رکھتے ہیں۔تحمل  اور برداشت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔