تازہ ترین

افتتاحی گلوبل اسماعیلی سووک ڈے کے موقع پر اسماعیلی کمیونٹی کا پاکستان میں 10لاکھ درخت لگانے کا عہد  

اسلام آباد(چترال ایکسپریس)  گلوبل اسماعیلی کمیونٹی ، 26 ستمبر 2021 کو افتتاحی گلوبل اسماعیلی سووک ڈے منائے گی۔ اس سالانہ پروقار تقریب کے  موقع پر صد راسماعیلی کونسل برائے پاکستان حافظ شیر علی نے  صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی سے  ایوان صدر میں ملاقات کی جس میں انہوں نے پاکستان کی اسماعیلی کمیونٹی کی جانب سے  حکومت پاکستان کو2022 کے اختتام تک  10 لاکھ درخت لگانےکے عہد کے ساتھ ممنٹو بھی پیش کیا۔ اس دن کے موقع پراسماعیلی سووک پاکستان “درخت سے حیات” اور “صاف خوشحال پاکستان”  مہم کو جاری رکھے گا جس کا باقاعدہ آغاز اس سا ل کے شروع میں ہوا۔ 

ممنٹو وصول کرتے ہوئے صدر  پاکستان، ڈاکٹر عارف علوی نے پاکستان کی ترقی کے لیے اسماعیلی کمیونٹی اور آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک کی شراکت داری اور خدمات کو سراہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سول سوسائٹی آرگنائزیشنز اور کمیونٹیز کے ساتھ اس طرح کی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس نے پاکستان میں لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کی اسماعیلی سووک کا باقاعدہ آغاز پچھلے سال ہوا۔ یہ ایک بین الااقوامی  پروگرام ہے جس کے تحت دنیا بھر میں شیعہ اسماعیلی مسلم کمیونٹی متحد ہوکر انسانیت کی رضاکارانہ  خدمت کی صدیوں پرانی روایت کو برقرار رکھتے  ہوئے ان کمیونٹیز کے معیار زندگی کو بہتر بناتی ہے جن میں وہ رہتے ہیں  خواہ  ان کا تعلق  کسی بھی عقیدے ، جنس اور نسب  سے ہو۔ یہ بین الاقوامی کاوش اسماعیلی مسلم کمیونٹی کی شہری مشغولیت اور ذمہ دار شہری کی اخلاقیات کی عکاسی کرتی ہے ، جو اسلام کی بنیادی خدمت ، امن ، ہمدردی اور کمزوروں کی دیکھ بھال کے اقدار کی مثال ہیں۔ 

عہد کی وضاحت کرتے ہوئے ، حافظ شیرعلی نے کہا ، “دی اسماعیلی سووک پاکستان کا  موجودہ تھیم  ماحولیاتی تحفظ ہے جو حکومت پاکستان کے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے اقدامات میں مدد فراہم کرے گا۔ “ 

 گلوبل اسماعیلی سووک ڈےکے موقع پر ، دنیا بھر میں مختلف قسم کی سرگرمیاں بیک وقت رونما ہوں گی جن میں 100,000 گھنٹے سے زیادہ کی خدمات فراہم کرنے کے لیے18 سے زائد ممالک میں20,000سے زیادہ رضاکار شامل ہوں گے ۔ 

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔