تازہ ترین

لوئر چترال جماعت اسلامی چترال کے زیر اہتمام مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

امیر جماعت اسلامی چترال اخونزادہ رحمت اللہ نے کہا ہے کہ حکومت ملک سے غربت، مہنگائی اور بے روزگاری ختم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ کمر توڑ مہنگائی کے ہاتھوں عوام الناس کا جینا دوبھر ہوچکا ہے اور بے روز گاری کی وجہ سے نوجوان طبقہ مایوسی کا شکار ہے۔ انھوں نے ان خیالات کا اظہار آج مہنگائی کے خلاف منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ عمران خان اداروں میں اصلاحات لانے، غربت و مہنگائی ختم کرنے اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے وعدہ کے ساتھ اقتدار میں آیا تھا، مگر افسوس کہ اقتدار میں آنے کے بعد اپنے وعدوں اور دعووں کی تکمیل کے بجائے اپنی پوری صلاحیت حزب اختلاف کو زیر کرنے اور بیرونی آقاؤں کے اشارے پر خلاف اسلام قوانین نافذ کرنے میں صرف کر رہا ہے۔ عمران خان اپنی تمام تر نا اہلیوں کو سابق حکمرانوں کے کھاتے میں ڈال کر عوام کو بے وقوف بنانے میں لگا ہوا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ مدینہ کی اسلامی ریاست کے دعویدار حکومت اسلامی اقدار کے خلاف قوانین نافذ کر رہی ہے، ملک میں فحاشی روز بروز بڑھ رہی ہے، شعائر اسلام کے ساتھ مذاق ہوتا ہے مگر حکومت کسی چیز کی نوٹس نہیں لیتی۔
جماعت اسلامی کے زیر انتظام مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہر آج بعد از نماز جمعہ چترال بازار میں منعقد ہوا۔ مظاہرے سے سابق امیر مولانا جمشید احمد، نائب امیر قاضی سلامت اللہ، جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی چترال وجیہ الدین اور امیر جمعیت اتحاد العلماء چترال مولانا اسرار الدین الہلال نے بھی خطاب کیا۔ جلسہ میں ڈی ایف او چترال کی طرف سے اسٹاک مالکان کو سوختنی لکڑی فراہمی کے حوالے سے درپیش مسائل بارے بات کی گئی اور کہا گیا کہ سردیوں کی آمد آمد ہے مگر ڈی ایف او مختلف حیلوں اور بہانوں سے لکڑی اسٹاک تک پہنچانے میں رکاوٹ پیدا کر رہا ہے۔ لہذا سردیوں کے آنے اور برفباری ہونے سے پہلے پہلے ضرورت کے مطابق سوختنی لکڑی اسٹاک تک پہنچائی جائے تاکہ بعد میں عوام الناس کو اس سلسلے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔مقررین نے کہا کہ چترال کے محتلف محکموں خصوصا محکمہ سوشل ویلفيئر ڈیپارٹمنٹ چترال کے دارلامان میں پراجيکٹ منیجر سے لیکر سوٸیپر تک ملازمتوں میں غیر قانونی بھرتیاں ہوۓ ہیں اکثر ضلع سے باہر لوگوں کو چترال میں تعینات کیا گیا ہے، سارے اسامیوں میں بغیر ٹیسٹ انٹرویو میں بندوں کو لٸے  گئےہیں اور ہر درجہ کے خالی آسامیوں پر بھی غیر مقامی لوگوں کو سفارش اور رشوت کے بنیاد پر بھرتی کئے  گئےہیں اُنہوں نے پر زور مذمت کرتے ہوئے شفاف انکوائری اورر ڈسٹرکٹ آفیسر سوشل ویلفيئر ڈیپارٹمنٹ کو فوری طور پر چترال سے ٹرانسفر کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
لکڑی کے کاروبار کے ایسوسی ایشن کے صدر شیر مراد نے کہا کہ چترال کے جنگلوں میں کروڑوں ٹن ملبہ پڑا ہے جو صدیوں پرانے خشک لکڑی جو گرے ہوئے ہیں وہ گل سڑھ رہے ہیں اور اس کے علاوہ ان لکڑیوں کی وجہ سے چترال کے ارندو، دومیل، چمرکن اور چترال گول نیشنل پارک کے جنگلات میں آگ لگنے سے اربوں روپے کا نقصان ہوا جس میں ایک فارسٹر شہید بھی ہوا دوسرے کا ہاتھ جل گیا اور جنگلوں میں پڑا ہوا اس ملبے کی وجہ سے گرین پاکستان میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ اگر اس ملبہ کو ہٹایا جائے تو اس کے نیچے پڑے ہوئے بیج میں سے مزید پودے نکلیں گے مگر ڈویژنل فارسٹ آفیسر چترال اس میں بڑا رکاوٹ ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔