تازہ ترین

آغا خان ہائیر سیکنڈری سکول سین لشٹ کے زیر اہتمام گلوبل اسماعیلی سوک پرگرام شایان شان طریقے سے منایا گیا۔

چترال(نمائندہ چترال ایکسریس)گلوبل اسماعیلی سوک ایک بین الاقوامی پروگرام ہے جوانسانیت کی فلاح وبہود،خدمت انسانیت، ماحولیات کی تحفظ، شجرکاری مہم، صفائی، امن، بھائی چارے کے لیے کسی بھی رنگ و نسل اور جنس سے بالاتر ہوکر کام کرتی ہے اس عظیم فلسفے کو مدنظر رکھ کر آغاخان ہائیر سکینڈری سکول سین لشٹ نے فقید المثال پروگرام کا انعقادہ کیا جس میں اسسٹنٹ کمشنر چترال لوئر ثقلین سلیم، ڈی ایف او نیشنل پارک سرمد، اسماعلیہ ریجنل کونسل کے چیرمین ڈاکٹر ریاض حسین، مفتی عتیق پروفیسر اسلامیات ڈگری کالج چترال، ممتاز اسکالر علی اکبر قاضی، سینئر اکیڈمک منیجر آغاخان ایجوکیشن چترال ذوالفقار، صدر تجار یونین بشیر احمد اور شہزادہ نے خصوصی طور پر شرکت کی۔
پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا،تلاوت کے بعد آغاخان ہائیر سکنڈری سکول سین لشٹ کے پروفیسر فدامحمد نے تمام شراکاء محفل کو خوش آمدید کہنے کے ساتھ ساتھ پروگرام کے اغراض و مقاصد پر بھی جامع انداز میں روشنی ڈالی۔
اس کے بعد جماعت نہم کے طالب علم نے نہایت پرسوز آواز میں نعت رسول مقبول پیش کرنے کا عزاز حاصل کیا
مشہور اسکالر علی اکبر قاضی نے دریا کو کوز ے میں بند کرنے کے مترادف گلوبل سوک پروگرام کو ایسے یونیک انداز میں پیش کیا کہ عقل دنگ رہ گیا، اُنہوں نے کہا کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، شجرکاری مہم اور صفائی اس ہی ضابط حیات کے مختلف حصے ہیں تاریخ میں زمین کو ماں کا درجہ دیا گیا ہے اور اس ماں کی خدمت بچوں پر فرض ہے کیونکہ زمین سے انسان کو رزق ملتا ہے اور اس زمین کے احسانات ہم پر ہیں اس لیے زمین سے محبت کرنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے اس ماں دھرتی کی حفاظت کریں ہم سب پاکستان ہیں پاکستانی نہیں پاکستان ہونے کا مطلب بغیر کسی لالچ کے اس پر جان نچھاور کرنا ہے۔
اس کے بعد شجرکاری اور صفائی مہم کی ڈکومنٹری پیش کیا گیا جس میں آغا خان سکول کے طلباء نے عملی طور پر صفائی مہم کو اُجاگر کرتے ہوئے لو کاسٹ ہوم میٹ ڈس بین کے ماڈلز پیش کیے جو ہر کوئی آسانی سے بناکر کوڑا کرکٹ وہاں ڈال کر ماحول کو صاف ستھرا رکھ سکتا ہے،
مفتی عتیق احمدنے اسلام میں شجرکاری اور صفائی کی اہمیت اور افادیت کو قرآن وحدیث سے ثابت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کے اسماعیلی کمیونٹی جس طرح چترا ل میں مختلف پروگرامات کا انعقادہ کرکے ماحول کی تحفظ کی اہمت کو اُجاگر کررہا ہے ہم سب کو اسماعیلی کمیونٹی کی اس کام کی تقلید کرنا چاہیے۔
مفتی عتیق کی تقریر کے بعد طلباء نے منظوم کہوار شاعری نانے نانے کو انگلش ترجمے کے ساتھ پیش کیا جو ہرن اور اسکے بچی کے درمیان ایک مکالمہ ہے۔ڈی ایف او سرمد نے آغا خان سکول کے طلباء کی بہترین پرفارمنس کو خراج تحسین کرتے ہوئے سکول اسٹاف کی تربیت کو سلام پیش کیا اور اس کا مزید کہنا تھا کہ اس قسم کی تعلیمی اور تربیتی ماحول پاکستان میں کہی اور نہیں پایا جاتا ماحول کی تحفظ سب کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
مہمان خصوصی اسسٹنٹ کمشنر ثقلین سلیم نے کہا کہ آغا خان ڈویلپمنٹ پروگرام جو کہ پوری دنیا میں ہے اور خصوصاً ہمار ے پاکستان کے اندر آغاخان فاونڈیشن کی جو گران قدر خدمات انجام دے رہا ہے اس کے پیچھے یہی خدمت انسانیت کا جذبہ ہے،ڈسٹرکٹ انتظامیہ ہر قسم کا تعاو ن اپکے ساتھ جاری رکھے گا ماحول کی تحفظ کے حوالے سے اس قسم کے پروگرامات وقت کی اہم ضرورت ہیں ہم سب کو ایک ہوکر قدرتی ماحول کی تحفظ کے لیے کام کرنا چاہیے تاکہ گلوبل وارمنگ کے خطر ے سے بچا جاسکے،۔
اُنہوں نے منظو م لوک کہانی کو خوبصورت انداز میں پیش کرنے پر طلباء کے ٹیلنٹ کو سہرا ہتے ہوئے کہاکہ میں اپنی کیرئیر میں پہلی بار اس قسم کی شاندار پروگرام میں شرکت کررہا ہوں۔
صدر محفل ڈاکٹر ریاض حسین نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ سکول انتظامیہ کی اس کاوش کو پورے پاکستان کے لیے رول ماڈل قراردیتے ہوئے کہا کہ اور آئندہ بھی اس قسم کے پروگرامات کے لیے اپنی تعاون جاری رکھیں گے۔ آغاخان ہائیرسکینڈری سکول سین لشٹ کے وائس پرنسپل سر خواجہ نے تمام مہماناں گرامی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گلوبل اسماعیلی سوک پروگرام میں انکی شرکت نے اس کی افادیت اور اہمیت میں مزید اضافہ کیاہے وائس پرنسپل نے کو کوریکولم کے چیرپرسن میڈم بشریٰ اور تمام ٹیچنگ اسٹاف کا بھی شکریہ ادا کیا جن کی دن رات محنت ولگن سے گلوبل اسماعیلی سوک پروگرام ممکن ہوا۔آخر میں آغاخان سکول کی طرف سے مہمانوں کو یادگاری شیلڈ پیش کیے گئے یوں سکول کے احاطے میں اسسٹنٹ کمشنر ثقلین سلیم نے پودا لگاکر شجرکاری مہم کا بھی آغازکیا اور یہ رنگا رنگ پروگرام اپنی اختتام کو پہنچی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔