تازہ ترینمضامین

حقیقی جیت۔۔۔تحریر:سیدالابرارمغلاندہ

ہر سال کی طرح اس سال بھی ضلعی سطح پر سکولوں کے طلباء کے مابین تقریری مقابلوں کا آغاز ہونے والا تھا. بزم ادب کے انچارچ استاد نے اسمبلی میں مختلف ایونٹس کے مو ضوعات کا اعلان کیا. اردو تقریری مقابلے کا موضوع تھا ” درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو “.موضوع نویں جماعت کے طالب علم شایان کے دل کو بھایا.استاد نے اس مصرع پر لڑکوں کو تقریر لکھ کر لانے کو کہا.اگلے دن پانچ طلباء نے اپنی تقاریر استاد کو پیش کیں.چار طلباء نے مختلف ذرایع سے تقریر لکھنے میں مدد لی تھیں.ان کے متن سے بےربطگی عیاں تھی.البتہ شایان نے اپنے تییں کوشش کی تھی.اپنے ننھے دل پر بیتنے والے احساسات کو زبان بخشا تھا.تقریر کا موضوع بھی حساسیت کا طالب تھا جسکے ساتھ شایان جیسا ذہین اور حساس طالب علم ہی انصاف کر سکتا تھا. “شایان!تمہاری تقریر معیاری ہے تقریر کا متن میں خوبصورت خیالات اور احساسات کی آمیزش ہے.دلایل کافی مضبوط ہیں.ماشاءاللہ اسلوب بھی دلکش ہے تاہم چھ منٹ کے دورانیہ پر پورا اترنے کے لیے بعض جملوں کو مختصر اور بعض غیر اہم دلایل کو حذف کرنا پڑے گا.” “سر میں نے ممکن بھر کوشش کی ہے.رات دیر تک جاگنے کی وجہ سے سر میں درد محسوس کر رہا ہوں.آپکی نوازش ہوگی اگر اس کی تصحیح فرماییں گے.” دوسرے دن استاد نے تقریر میں کمی بیشیاں دور کرکے شایان کو سپرد کیا.خصوصی الفاظ کے درست تلفظ کے بارے میں اس کو سمجھایا. شایان پانچویں جماعت سے نویں جماعت تک اسکول کا بہترین مقرر رہ چکا تھا.فن تقریر سے خوب آگاہ تھا.الفاظ کی خوبصورت اداییگی ,خیالات کی بہترین ترجمانی , جذبات کا دلکش اظہار,دلایل دیتے ہوے آواز کا اتار چڑھاو اور شاہان کی گرجدار آواز یہ سب اس سال بھی سکول کو ڈسٹرکٹ چیمپیین بنانے کے لیے کافی تھیں.ضلعی مقابلے دو الگ پولز میں تقسیم کیے گیے تھے جس کے جیتنے والے آخر میں ایک دوسرے کا سامنا کرتے تھے.نجی سکولوں میں شایان کانٹے دار مقابلوں کے بعد پہلے نمبر پر آنے میں کامیاب ہوا.آج ان کا سرکاری سکولوں کے فتحیاب طالب علم سے مقابلہ تھا.شایان صبح سویرے اٹھا.نہایا , نماز پڑھی اور ناشتہ کیا.ماں نے اپنے لاڈلے کی خوب تزیین کی .سفید کپڑوں کے اوپر سیاہ رنگ کی واسکٹ پہن کر جب بال سنورنے کے لیے بڑے شیشہ کے سامنے کھڑا ہوا ماں اپنے جوان رعنا لخت جگر کے اوپر مشک عنبر کے چھینٹے چھڑکانے لگی.دم دورد پڑھ کر بیٹے پر پھونک ماری . مدھم آواز میں بڑ بڑایی. ” اللہ میرے شایان کو کامران کر, میرے شہزادے کو کسی کی نظر نہ لگے . ” استاد شایان کو لیکر مقابلے کے ہال میں داخل ہوا تو تالیون سے ان کا استقبال ہوا.بڑا ہال طلباء سے لبالب بھرا ہوا تھا. مختلف آیٹمز کے مقابلوں کے درمیان اردو تقریری مقابلے کی باری آیی. سرکاری سکول کے طالب علم کو پہلے اسٹیج پر دعوت دی گیی. جماعت ہشتم سے تعلق رکھنے والا اسلم ایک نحیف سا چھوٹا بچہ تھا. اس کے زرد چہرے اور مرجھایی ہویی آنکھوں میں شایان ٹکٹکی باندھ کر دیکھا . بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس اسلم کی آواز میں بلا کی گرج تھی. تقریر کا بہاو اور مقرر کے فقروں کیآداییگی قابل ستایش تھی. شایان مقرر کے حلیہ پر نظر جمایا ہوا تھا . اس کے بال بھی صحیح طور پر کنگی نہیں کیے گیے تھے اور پاوں میں پرانے بغیر پالش کیے ہوے جوتے دیکھ کر شایان اپنے نیے برانڈ کے قیمتی جوتوں کو دیکھنے لگا . مقرر نے دلنشین انداز سے شعر پڑھا “درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ور نہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیان”
اہسا لگا کہ شایان کے دل کے تار ٹوٹنے لگے ہیں . تالیوں کی گونج میں اسلم نے اپنی تقریر ختم کی. اسٹیج پر شایان کو تقریرکے لیے بلایا گیا. شایان کی مسحور کن شخصیت نے سامعین میں سکوت طاری کی. ساری ہال ہمہ تن گوش تھی. مقرر نے سامعین کی انکھون میں آنکھیں ڈالی . صدر محفل اور مہمان خصوصی کو مخاطب کیا. مقرر کے سامنے بیٹھے اکثر طلباء کا حلیہ اسلم جیسے تھے . شایان نے محسوس کیا کہ وہ امیر گھرانوں سے تعلق رکھنے والے چمکتے چہروں والے طلباء سے مخاطب نہیں تھا بلکہ اس کے سامنے سرکاری سکول کے پژمردہ طلباء بیٹھے ہوے تھے. درد دل رکھنے والےشایان نے اپنی تقریر دلفریب انداز سے شروع کی . دلنشین ااسلوب سے دلایل پیش کیے. پرسوز لہجے میں احساسات کا اظہار کیا. خوبصورت اندازسے اشعار پڑھتے ہوےاپنی تقریر کو جلا بخشی . درمیان میں پہنچ کر تقریر کا عنوان دہرایا. ” درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ” پھر انسانیت کے درد کی کہانی مختصر مگر پر سوز فقروں میں سنانے کی کوشش کی. داد کے ڈونگرے برسایے گیے . ہال تالیوں کے شور سے گونج اٹھی. یکا یک شایان کی نظر سامنے بیٹھے اسلم کے مرجھایے ہوے جہرے پر پڑی. شایان کے الفاظ کی اداییگی میں تغیر محسوس ہوا , زبان میں لکنت آیی. تقریر کا ربط ٹوٹتا گیا. فقرے درست ادا نہ ہو سکے . پانی کا گلاس اس کے سامنے رکھا گیا. ایسا لگا کہ شایان کی ہچکی بند ہو رہی ہو. تقریر ختم ہونے کی گھنٹی بجی. آخر میں سامعیں کی داد سمیٹنے کے بجایے ان کو مایوس کرتے ہوے سر جھکایے اپنی نشست پر براجماں ہوا. شایان کا استاد ہاتھ ملتے ہوے غصہ سے لال ہو کر اس کی طرف دیکھ رہا تھا .اور شایان کے ذہن میں اس کے والد کے الفاظ گردش کر رہے تھے. “بیٹا ,ہر مقا بلے جیتنے کے لیے نہیں ہوتے. بعض اوقات انسان ہار کر بھی جیت جاتا ہے اور ایسی جیت انسانی روح کو توانا رکھتی ہے .اگر موقع ملے تو ایسی جیت سے اپنی روح کو توانا اور مضبوط بناییں . آج شایان ججوں کے پینل کے سامنے ہار گیا تھا لیکن اپنے دل کی عدالت میں سرخرو ہو کر گھر لوٹا تھا.

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔